MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ایک مدت سے اسی طور ہے رونا میرا

ایک مدت سے اسی طور ہے رونا میرارنگ لاتا ہی نہیں دہر میں ہونا میرا میرے اندر ہی رواں رہتا ہے دریائے فغاںمیر صاحب کی طرح سے نہیں رونا میرا سوچتا ہوں تو چمکتے ہیں سوالوں کے سرابسخت مشکل ہے اگر ہے بھی تو ہونا میرا کچھ نہیں حسرتِ حاصل کے سوا بیداریایک بے گار

ایک مدت سے اسی طور ہے رونا میرا Read More »

تمہارے سوا کس کی تصویر تھی حافظے میں ہمارے

تمہارے سوا کس کی تصویر تھی حافظے میں ہمارےتمہیں دیکھ کر تو اضافہ ہوا مخمصے میں ہمارے اجل کا تماشا دکھانے سے معذور ہو جائیں گےاگر زندگی دخل دیتی رہی مشغلے میں ہمارے بہت ہی شکایات ہیں دوستوں سے مگر خوف یہ ہےنہ دشمن طرف دار ہوجائیں اس مرحلے میں ہمارے ہمیں شاعری کے وسیلے

تمہارے سوا کس کی تصویر تھی حافظے میں ہمارے Read More »

آنے والوں سے وہی یادوں کا رشتہ رہ گیا

آنے والوں سے وہی یادوں کا رشتہ رہ گیاجا چکے مہمان میں گھر میں اکیلا رہ گیا شہر سارا نیند کے اندھے خلا میں جا بساجاگتی آنکھیں لیے بس اک دریچہ رہ گیا یہ در و دیوار جس کے نام تھے وہ جا چکاگھر کے دروازے پہ اس کا نام لکھا رہ گیا میری مٹی

آنے والوں سے وہی یادوں کا رشتہ رہ گیا Read More »

اس خرابے میں جو بے رخت و ردا رہتا ہوں

اس خرابے میں جو بے رخت و ردا رہتا ہوںسب سمجھتے ہیں کہ رہتا ہوں پہ کیا رہتا ہوں صبح چلتا ہوں کسی گوشہء بے نام کی اورشام ہوتی ہے تو اس کنج میں آ رہتا ہوں یا چمکتا ہوں کسی اور ہی سیارے پریا کسی اور ہی آنگن میں کھلا رہتا ہوں یا مہکتا

اس خرابے میں جو بے رخت و ردا رہتا ہوں Read More »

بُرا لگتا ہے کیوں شکوہ ہمارا

بُرا لگتا ہے کیوں شکوہ ہمارانہیں شاید کوئی رشتہ ہمارا ہمارے ہاتھ کچھ آئے نہ آئےمگر ہوگا یہی شعبہ ہمارا کہو تو جھوٹ بھی تھوڑا مِلا دیںاگر میٹھا نہیں لہجہ ہمارا طوافِ عشق ہوتا ہے یہیں پربہت نزدیک ہے کعبہ ہمارا تم آؤ تو اِسے چھٹی ملے گیتھکن سے چُور ہے تکیہ ہمارا ارے ہم

بُرا لگتا ہے کیوں شکوہ ہمارا Read More »

نہ کسی جن سے، نہ حیوان سے ڈر لگتا ہے

نہ کسی جن سے، نہ حیوان سے ڈر لگتا ہےآج کے دور میں انسان سے ڈر لگتا ہے روز مرنے کی خبر آتی ہے رب کے گھر سےاب تو مسجد کے ہر اعلان سے ڈر لگتا ہے اے خدایا میری آنکھوں کو سمندر کر دےشہر والوں کو بیابان سے ڈر لگتا ہے ہم کو اللہ

نہ کسی جن سے، نہ حیوان سے ڈر لگتا ہے Read More »

دن رات ڈھل رہے ہیں، لمحات ٹل رہے ہیں

دن رات ڈھل رہے ہیں، لمحات ٹل رہے ہیںدھیرے سے زندگی کے صفحات جل رہے ہیں ہر سو تمہاری صورت، ہر سو صدا تمہاریکمرہ نہیں یہ میرا، جنات پل رہے ہیں دیکھو تو یہ وہی ہیں، دشمن ہماری جاں کےجو دوستوں کی صف میں حضرات کل رہے ہیں نہ گفتگو کسی سے، نہ قہقہے، نہ

دن رات ڈھل رہے ہیں، لمحات ٹل رہے ہیں Read More »

کون سے در پر اسے دینی ہے دستک، یاد ہے

کون سے در پر اسے دینی ہے دستک، یاد ہےہر گدا کو اپنی خودداری کا گاہک یاد ہے یاد ہے بھیگا تھا تیرا جسم جب بارش کے بعدکس طرح توڑی تھی میں نے اپنی عینک، یاد ہے؟ بھول بیٹھا ہوں کتابوں اور کلاسوں کے سبقتم نے لیکن جو پڑھایا تھا وہ اب تک یاد ہے

کون سے در پر اسے دینی ہے دستک، یاد ہے Read More »

عشق تجھ کو کبھی ہُوا ہی نہیں

عشق تجھ کو کبھی ہُوا ہی نہیںکیا میری جان یہ تباہی نہیں!؟ جس کو مانگا تھا عمر بھر کے لیےوہ مجھے عمر بھر مِلا ہی نہیں لاپتہ ہوں میں جس کی چاہت میںمجھ کو اُس کا پتہ، پتہ ہی نہیں یوں اچانک مجھے وہ چھوڑ گیاساتھ جیسے کبھی وہ تھا ہی نہیں زندگی ہاتھ جوڑتی

عشق تجھ کو کبھی ہُوا ہی نہیں Read More »

جہاں پہ چھوڑی تھی بات دل کی، وہیں سے جاری ضرور کرتے

جہاں پہ چھوڑی تھی بات دل کی، وہیں سے جاری ضرور کرتےاگر وہ سنتا ہماری باتیں تو بات ساری ضرور کرتے خدا سے فرصت نہیں ملے گی خدا کے بندوں کو آج ورنہخدا کے بندے خدا کی خاطر مدد ہماری ضرور کرتے عذابِ دوزخ کا خوف بھی ہے، حصولِ جنت کا شوق بھی ہےجو یہ

جہاں پہ چھوڑی تھی بات دل کی، وہیں سے جاری ضرور کرتے Read More »