MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تُو اپنے پاؤں جس سے دھو چکا تھا

تُو اپنے پاؤں جس سے دھو چکا تھاوہ کوزہ قد میں دریا ہو چکا تھا میں گھر لوٹا تھا کر کے دیں کی خدمتمیرا بھوکا پڑوسی سو چکا تھا نہیں ہے عشق میرا تیرے دل میںوہ دانہ گم ہے جو میں بو چکا تھا بچھڑ کر میرے ہونٹوں پر ہنسی تھیتیرے جانے سے پہلے رو

تُو اپنے پاؤں جس سے دھو چکا تھا Read More »

ہم جس کی بوند بوند کو ترسے چلا گیا

ہم جس کی بوند بوند کو ترسے چلا گیاوہ ہم پہ اِس سے قبل کہ برسے چلا گیا احباب اُس کو واپسی لینے نکل پڑےغربت کا بھوت جب میرے گھر سے چلا گیا تب سے یہ دھوپ میرے مقدر میں آ گئیسایہ جب ایک پیڑ کا سر سے چلا گیا تجھ سے ملوں گا سوچ

ہم جس کی بوند بوند کو ترسے چلا گیا Read More »

دنیا تو دے رہی تھی تن آسانیاں بہت

دنیا تو دے رہی تھی تن آسانیاں بہتہم کیا کریں کہ ہم میں تھیں خودداریاں بہت ہوگا مزے میں چاہے کہیں بھی تُو جا بَسےاے یار تجھ کو آتی ہیں مکاریاں بہت سرخی لگا کے تم کو نہیں آنا چاہیےگھر جا کے مجھ کو ہوتی ہیں دشواریاں بہت ریشِ دراز، گوشہ نشیں اور سیہ لباسفرقت

دنیا تو دے رہی تھی تن آسانیاں بہت Read More »

نہ جانے کیوں وہی جینا حرام کرتے ہیں

نہ جانے کیوں وہی جینا حرام کرتے ہیںکہ جن کا دل سے بہت احترام کرتے ہیں تمہارا ذکر کسی بات میں اگر آئےہم ہاتھ جوڑ کے قصہ تمام کرتے ہیں ہمیں ہے اس لیے اردو زبان سے الفتہم اس زبان میں رب سے کلام کرتے ہیں ہمارا مرتبہ صحرائے عشق میں یہ ہےجنابِ قیس بھی

نہ جانے کیوں وہی جینا حرام کرتے ہیں Read More »

سبھی امیروں کے تاج خطرے میں آ گئے تھے

سبھی امیروں کے تاج خطرے میں آ گئے تھےکچھ ایسے سکے ہمارے کاسے میں آ گئے تھے ہمیں بھی فاقہ کشی نے کافر بنا دیا ہےخیال روٹی کے آج سجدے میں آ گئے تھے تمہارے آنگن کی تتلیاں تھیں ہمارے گھر میںہمارے جگنو تمہارے کمرے میں آ گئے تھے گیا جو مندر تو پھر نہ

سبھی امیروں کے تاج خطرے میں آ گئے تھے Read More »

کیسے کیسے خواب سجے ہیں دیکھو تو

کیسے کیسے خواب سجے ہیں دیکھو توآنکھوں میں کُچھ رنگ نئے ہیں دیکھو تو دھنک کُنج سے آنے والے رنگ سفیرڈالی ڈالی جھول رہے ہیں دیکھو تو پونم رات، اونچی پہاڑیاں اور چکورکِس کا رستہ دیکھ رہے ہیں دیکھو تو دُھول نہائے تھکن سمیٹے کُل سپنےسورج بن کر جاگ پڑے ہیں دیکھو تو نرم نرم

کیسے کیسے خواب سجے ہیں دیکھو تو Read More »

نئے موسم کی خوشبو آزمانا چاہتی ہیں

نئے موسم کی خوشبو آزمانا چاہتی ہیںکھلی باہیں سمٹنےکا بہانا چاہتی ہیں فصیلِ جسم ہر طور ڈھانا چاہتی ہیںنمو کی خواہشیں اظہار پانا چاہتی ہیں نئے آہو، نئے صحرا، نئے خوابوں کے امکاںنئی آنکھیں، نئے فتنے جگانا چاہتی ہیں نگارِ شام بے منزل! بھٹکتی آرزوئیںبسیرے کے لیے کوئی ٹھکانا چاہتی ہیں بدن کے سرپھرے باغوں

نئے موسم کی خوشبو آزمانا چاہتی ہیں Read More »

امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں

امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیںذرا سی دیر کو دُنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں بکھر چکے ہیں بہت باغ و دشت و دریا میںاب اپنے حجرہ جاں میں سمٹ کے دیکھتے ہیں تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ باتسب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں پھر اس

امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں Read More »

سخنِ حق کو فضیلت نہیں مِلنے والی

سخنِ حق کو فضیلت نہیں مِلنے والیصبر پر دادِ شجاعت نہیں مِلنے والی وقتِ معلوم کی دہشت سے لرزتا ہوا دلڈُوبا جاتا ہے کہ مُہلت نہیں مِلنے والی زندگی نذر گزاری تو مِلی چادرِ خاکاِس سے کم پر تو یہ نعمت نہیں مِلنے والی راس آنے لگی دُنیا تو کہا دِل نے کہ جا!اب تُجھے

سخنِ حق کو فضیلت نہیں مِلنے والی Read More »

میانِ عرصۂ موت و حیات رقص میں ہے

میانِ عرصۂ موت و حیات رقص میں ہےاکیلا میں نہیں کل کائنات رقص میں ہے مزارِ شمس پہ رومی ہیں حجتِ آخرکہ جو جہاں بھی ہے مرشد کے ساتھ رقص میں ہے ہر ایک ذرہ، ہر اک پارۂ زمین و زمانکسی کے حکم پہ، دن ہو کہ رات، رقص میں ہے اُتاق کنگرۂ عرش کے

میانِ عرصۂ موت و حیات رقص میں ہے Read More »