تُو اپنے پاؤں جس سے دھو چکا تھا
تُو اپنے پاؤں جس سے دھو چکا تھاوہ کوزہ قد میں دریا ہو چکا تھا میں گھر لوٹا تھا کر کے دیں کی خدمتمیرا بھوکا پڑوسی سو چکا تھا نہیں ہے عشق میرا تیرے دل میںوہ دانہ گم ہے جو میں بو چکا تھا بچھڑ کر میرے ہونٹوں پر ہنسی تھیتیرے جانے سے پہلے رو
تُو اپنے پاؤں جس سے دھو چکا تھا Read More »