MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

محافظِ روشِ رفتگاں کوئی نہیں ہے

محافظِ روشِ رفتگاں کوئی نہیں ہےجہاں کا میں ہوں، مرا اب وہاں کوئی نہیں ہے محاذِ زیست کے ہر معرکے میں، فتح کے بعدکھُلا، کہ حاصلِ عمرِ رواں کوئی نہیں ہے ستارگاں سے جو پوچھا، کہ اُس طرف کیا ہےچمک کے بولے کہ اے جانِ جاں! کوئی نہیں ہے نگاہِ یار، نہ آب و ہوا،

محافظِ روشِ رفتگاں کوئی نہیں ہے Read More »

قصۂ اہلِ جنوں کوئی نہیں لِکھے گا

قصۂ اہلِ جنوں کوئی نہیں لِکھے گاجیسے ہم لِکھتے ہیں، یُوں کوئی نہیں لکھے گا وحشتِ قلبِ تپاں کیسے لکھی جائے گی!حالتِ سوزِ درُوں، کوئی نہیں لکھے گا کیسے ڈھہ جاتا ہے دل، بُجھتی ہیں آنکھیں کیسے؟سر نوِشتِ رگِ خُوں، کوئی نہیں لکھے گا کوئی لکھے گا نہیں ، کیوں بڑھی، کیسے بڑھی بات؟کیوں ہُوا

قصۂ اہلِ جنوں کوئی نہیں لِکھے گا Read More »

سجل کہ شور زمینوں میں آشیانہ کرے

سجل کہ شور زمینوں میں آشیانہ کرےنہ جانے اب کے مسافر کہاں ٹھکانا کرے بس ایک بار اسے پڑھ سکوں غزل کی طرحپھر اس کے بعد تو جو گردش زمانہ کرے ہوائیں وہ ہیں کہ ہر زلف پیچ دار ہوئیکسے دماغ کہ اب آرزوئے شانہ کرے ابھی تو رات کے سب نگہ دار جاگتے ہیںابھی

سجل کہ شور زمینوں میں آشیانہ کرے Read More »

لغزشوں سے ماورا تو بھی نہیں میں بھی نہیں

لغزشوں سے ماورا تو بھی نہیں میں بھی نہیںدونوں انساں ہیں خدا تو بھی نہیں میں بھی نہیں تو مجھے اور میں تجھے الزام دیتا ہوں مگراپنے اندر جھانکتا تو بھی نہیں میں بھی نہیں مصلحت نے کر دیا دونوں میں پیدا اختلافورنہ فطرت کا برا تو بھی نہیں میں بھی نہیں چاہتے دونوں بہت

لغزشوں سے ماورا تو بھی نہیں میں بھی نہیں Read More »

میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے

میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہےگہرے زرد زمین کی رنگت دھانی کرتا ہے بجھتے ہوئے دیئے کی لو اور بھیگی آنکھ کے بیچکوئی تو ہے جو خوابوں کی نگرانی کرتا ہے مالک سے اور مٹی سے اور ماں سے باغی شخصدرد کے ہر میثاق سے رو گردانی کرتا ہے یادوں سے اور خوابوں سے

میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے Read More »

میں نے خاکِ درِ حسان ؓ کو سُرمہ جانا

میں نے خاکِ درِ حسان ؓ کو سُرمہ جانااور ایک ایک سبق نعت کا ازبر رکھا میں نے قرآن کی تفسیر میں سیرت کو پڑھانور کو دائرہ نور کے اندر رکھا نورِ مطلق نے اسے خلق کیا خلق سے قبلمنصبِ کارِ رسالت میں مؤخر رکھا معنیِ اجرِ رسالت کو سمجھنے کے لیےزیرِ نگرانی سلمانؓ و

میں نے خاکِ درِ حسان ؓ کو سُرمہ جانا Read More »

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگامرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگا چراغ حجرۂ درویش کی بجھتی ہوئی لوہوا سے کہہ گئی ہے اب تماشا ختم ہوگا کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیںنہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہےیہ عقدہ تب

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا Read More »

اب صبح کوئی دم ساز نہیں اب شام نہیں دلدار کوئی

اب صبح کوئی دم ساز نہیں اب شام نہیں دلدار کوئییا شہر کے رستے بند ہوئے یا دل میں اُٹھی دیوار کوئی وہ شہر نہیں ، وہ دور نہیں ، وہ لوگ نہیں ، وہ طور نہیںسر اپنا اُٹھا کر کون چلے ، کیا سر پہ رکھے دستار کوئی اب کے تو صبا بھی تنگ

اب صبح کوئی دم ساز نہیں اب شام نہیں دلدار کوئی Read More »

دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں

دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاںدیئے کے گرد کوئی عکس چل رہا ہے میاں یہ روح رقصِ چراغاں ہے اپنے حلقے میںیہ جسم سایہ ہے اور سایہ ڈھل رہا میاں یہ آنکھ پردہ ہے اک گردشِ تحیر کایہ دل نہیں ہے بگولہ اچھل رہا ہے میاں کبھی کسی کا گزرنا کبھی

دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں Read More »

تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہے

تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہےجو مجھی کو مجھ سے بہم کرے وہ گریز پا کوئی اور ہے مرے موسموں کے بھی طور تھے مرے برگ و بار ہی اور تھےمگر اب روش ہے الگ کوئی مگر اب ہوا کوئی اور ہے یہی شہر شہرِ قرار ہے تو دلِ شکستہ

تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہے Read More »