یہ دن بھی گزرا ، رہِ رائیگاں کے قصوں میں
یہ دن بھی گزرا ، رہِ رائیگاں کے قصوں میںیقیں نہ ہو تو مزہ کیا گماں کے قصوں میں سمومِ تنگ دلی نے یہ حوصلہ نہ رکھاکہ شاخِ دل کو رکھوں آشیاں کے قصوں میں جو ایک بابِ دگرگُوں سنا گئی ہے وہ آنکھکبھی پڑھا تھا اُسے بھی خزاں کے قصوں میں وہ ایک خواب
یہ دن بھی گزرا ، رہِ رائیگاں کے قصوں میں Read More »