MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ دن بھی گزرا ، رہِ رائیگاں کے قصوں میں

یہ دن بھی گزرا ، رہِ رائیگاں کے قصوں میںیقیں نہ ہو تو مزہ کیا گماں کے قصوں میں سمومِ تنگ دلی نے یہ حوصلہ نہ رکھاکہ شاخِ دل کو رکھوں آشیاں کے قصوں میں جو ایک بابِ دگرگُوں سنا گئی ہے وہ آنکھکبھی پڑھا تھا اُسے بھی خزاں کے قصوں میں وہ ایک خواب

یہ دن بھی گزرا ، رہِ رائیگاں کے قصوں میں Read More »

رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہوا

رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہواگئے دنوں کی رتوں کا زیاں ثواب ہوا گزر گیا تو پس موج بے کناری تھیٹھہر گیا تو وہ دریا مجھے سراب ہوا سپردگی کے تقاضے کہاں کہاں سے پڑھوںہنر کے باب میں پیکر ترا کتاب ہوا ہر آرزو مری آنکھوں کی روشنی ٹھہریچراغ سوچ میں گم ہیں

رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہوا Read More »

ہمرہی کی بات مت کر امتحاں ہو جائے گا

ہمرہی کی بات مت کر امتحاں ہو جائے گاہم سبک ہو جائیں گے تجھ کو گراں ہو جائے گا جب بہار آ کر گزر جائے گی اے سرو بہارایک رنگ اپنا بھی پیوند خزاں ہو جائے گا ساعت ترک تعلق بھی قریب آ ہی گئیکیا یہ اپنا سب تعلق رائیگاں ہو جائے گا یہ ہوا

ہمرہی کی بات مت کر امتحاں ہو جائے گا Read More »

انجیل رفتگاں کی حدیثوں کے ساتھ ہوں

انجیل رفتگاں کی حدیثوں کے ساتھ ہوںعیسیٰ نفس ہوں اور صلیبوں کے ساتھ ہوں پابند رنگ و نقش ہوں تصویر کی طرحمیں بے حجاب اپنے حجابوں کے ساتھ ہوں اوراق آرزو پہ بہ عنوان جاں کنیمیں بے نشاں سی چند لکیروں کے ساتھ ہوں شاید یہ انتظار کی لو فیصلہ کرےمیں اپنے ساتھ ہوں کہ

انجیل رفتگاں کی حدیثوں کے ساتھ ہوں Read More »

زندگی خاک نہ تھی خاک اڑlکے گزری

زندگی خاک نہ تھی خاک اڑlکے گزری تجھ سے کیا کہتے، تیرے پاس جو آتے گزری دن جو گزرا تو کسی یاد کی رَو میں گزراشام آئی، تو کوئی خواب دکھا تے گزری اچھے وقتوں کی تمنا میں رہی عمرِ رواںوقت ایساتھا کہ بس ناز اُٹھاتے گزری زندگی جس کے مقدر میں ہو خوشیاں تیریاُس

زندگی خاک نہ تھی خاک اڑlکے گزری Read More »

زہے وہ چشم کہ جو شرحِ صدر کرتی ہے

زہے وہ چشم کہ جو شرحِ صدر کرتی ہےپئے حسینؑ فقط اشک نذر کرتی ہے دلِ شکستہ جو چاہے تو آہِ سوزاں بھیزمیں کو گرد تو گردوں کو ابر کرتی ہے حدِ فرات سے نکلی تو چشم چشم یہ موجحدیثِ تشنہ دہانی کو نشر کرتی ہے یہ کم مثال حوالہ بھی کربلا سے ملامسافروں پہ

زہے وہ چشم کہ جو شرحِ صدر کرتی ہے Read More »

پہلا سا حال پہلی سی وحشت نہیں رہی

پہلا سا حال پہلی سی وحشت نہیں رہیشاید کہ تیرے ہجر کی عادت نہیں رہیوں شہروں میں ایک شہر میرے رتجگوں کا شہرکوچے تو کیا دلوں ہی میں وسعت نہیں رہی لوگوں میں میرے لوگ وہ دلداریوں کے لوگبچھڑے تو دور دور تک رقابت نہیں رہی شاموں میں ایک شام وہ آوارگی کی شاماب نیم

پہلا سا حال پہلی سی وحشت نہیں رہی Read More »

ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتا

ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتادل اس سے ملا جس سے مقدر نہیں ملتا یہ راہ تمنا ہے یہاں دیکھ کے چلنااس راہ میں سر ملتے ہیں پتھر نہیں ملتا ہم رنگیٔ موسم کے طلب گار نہ ہوتےسایہ بھی تو قامت کے برابر نہیں ملتا کہنے کو غم ہجر بڑا دشمن

ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتا Read More »

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھیکہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی نہ اپنا رنج نہ اوروں کا دکھ نہ تیرا ملالشب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھاشکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی عداوتیں تھیں، تغافل

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی Read More »

رات اور خواب کا ناتا نہیں بھولا جاتا

غزل رات اور خواب کا ناتا نہیں بھولا جاتاساتھ میں جاگنے والا نہیں بھوا جاتا جسم سے جان کا رشتہ تو کوئی بات نہیںجسم سے جسم کا رشتہ نہیں بھولا جاتا کتنی زنجیریں کھنکتی ہیں بکھرتی ہیں مگراس کا بدلا ہولہجہ نہیں بھولا جاتا راستے زیرِ اثر جس کے ابھی تک ہیں تمامروشنی کا وہ

رات اور خواب کا ناتا نہیں بھولا جاتا Read More »