لہروں کے پیچ و تاب میں گرداب کھو گئے
لہروں کے پیچ و تاب میں گرداب کھو گئے کن بادلوں میں سب مرے مہتاب کھو گئے نغمے سخن کی موت پر خود آپ مر گئے سازوں کو چھیڑتے ہوئے مضراب کھو گئے خطرات سے خرد نے جو آگاہ کر دیا اِس آگہی میں عشق کے آداب کھو گئے گویا کہ زندگی کا سفر رائیگاں
لہروں کے پیچ و تاب میں گرداب کھو گئے Read More »