MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لہروں کے پیچ و تاب میں گرداب کھو گئے

لہروں کے پیچ و تاب میں گرداب کھو گئے کن بادلوں میں سب مرے مہتاب کھو گئے نغمے سخن کی موت پر خود آپ مر گئے سازوں کو چھیڑتے ہوئے مضراب کھو گئے خطرات سے خرد نے جو آگاہ کر دیا اِس آگہی میں عشق کے آداب کھو گئے گویا کہ زندگی کا سفر رائیگاں

لہروں کے پیچ و تاب میں گرداب کھو گئے Read More »

اتنا بڑھا ہے ذہن کا یہ اضطراب کیوں

اتنا بڑھا ہے ذہن کا یہ اضطراب کیوں گستاخئِ سخن کا ہوا ارتکاب کیوں اربابِ اقتدار کو اب بھی یہ فکر ہے چہرے صداقتوں کے ہوئے بے نقاب کیوں ہے ہجرتوں کی دھول چٹختی زمین پر بیٹھے ہیں رہگزار پہ خانہ خراب کیوں خوشبو کے سب سراغ اڑا لے گئ ہوا دستِ خزاں نے لوٹ

اتنا بڑھا ہے ذہن کا یہ اضطراب کیوں Read More »

پھولوں کو، سبزہ زار کو رسوا کیا گیا

پھولوں کو، سبزہ زار کو رسوا کیا گیا رنگینئ بہار کو رسوا کیا گیا تھے سبز موسموں کی طلب میں سبھی شجر کیوں ان کے انتظار کو رُسوا کیا گیا الفت کے پُر فریب حوالوں کے با وجود وعدوں کے اعتبار کو رُسوا کیا گیا کچھ اسطرح کیا گیا سازش کا اہتمام جذبات کے وقار

پھولوں کو، سبزہ زار کو رسوا کیا گیا Read More »

ہم کو یقیں ہے پِھر سے ملیں گے وبا کے بعد

ہم کو یقیں ہے پِھر سے ملیں گے وبا کے بعد تازہ نئے گلاب کِھلیں گے وبا کے بعد سب لوگ ہاتھ تھام کے راہِ حیات پر اک دوسرے کے ساتھ چلیں گے وبا کے بعد وہ دور دور رہ کے بھی دل کے قریب ہیں بیگانگی کے زخم سِلیں گے وبا کے بعد اے

ہم کو یقیں ہے پِھر سے ملیں گے وبا کے بعد Read More »

جو طورِ گلستاں اس دور میں یکسر بدل جائے

جو طورِ گلستاں اس دور میں یکسر بدل جائے کہیں ایسانہ ہوکہ پھول بھی پتھرمیں ڈھل جائے محبت دل کی دھڑکن کاش اتنی تیز تر کردے بدن بھی روح کی رفتار سے آگے نکل جائے تلاشِ صبحِ نو اس تیرگی کو یوں کچل ڈالے اندھیرا جاتے جاتے اک نیا سورج اُگل جائے کرو ایسی صداقت

جو طورِ گلستاں اس دور میں یکسر بدل جائے Read More »

درِ رازِ حقیقت دستکِ عرفاں پہ کھلتا ہے

درِ رازِ حقیقت دستکِ عرفاں پہ کھلتا ہے مگر عرفاں کا دروازہ دلِ حیراں پہ کھلتا ہے خرد کے کرّ و فر پہ عشق کا عقدہ نہیں کھلتا جو کھلتا ہے جنوں کی چاکئِ داماں پہ کھلتا ہے وہ ٹھاٹھیں مارتا ہے قلبِ مضطر میں تو بہنے دو کہ اس دریا کا رستہ قطرہء مژگاں

درِ رازِ حقیقت دستکِ عرفاں پہ کھلتا ہے Read More »

اْتارا عکس تیرا جب نظر میں

اْتارا عکس تیرا جب نظر میں ہواشیشہ ہی گْم خودشیشہ گرمیں جو تیری جْستجو میں ہی گذارے وہی لمحات ہیں رختِ سفر میں تعلّْق کا سبب بس ایک سجدہ مِرے سر اور تیرے سنگِ در میں سیاہی سب دلوں کی جذب کر لی وگرنہ کیا رکھا تھا اک حجر میں رضا کا ایک ہی قطرہ

اْتارا عکس تیرا جب نظر میں Read More »

عشق نے لکّھا حرفِ حق لوحِ مجاز پر مرے

عشق نے لکّھا حرفِ حق لوحِ مجاز پر مرے رمزِ جنوں یوں وا ہوا قلبِ گداز پر مرے سجدہ وہ ایک عشق کا میں نے جنوں میں جو کیا حیراں بہت ہیں شیخ جی طرزِ نماز پر مرے دیکھ کر اپنی کِرچیاں روئے شکستہ پر عیاں آئینہ خود ہی ہنس پڑا آئینہ ساز پر مرے

عشق نے لکّھا حرفِ حق لوحِ مجاز پر مرے Read More »

کیا وقت کہ قربت سے ہے ہر شخص گریزاں

کیا وقت کہ قربت سے ہے ہر شخص گریزاں آ تجھ کو لگالوں میں گلے ائے غمِ دوراں رکتا نہیں سیلابِ بلا اب سرِ مژگاں رسوا کہیں ہو جائے نہ یہ دیدۂ گریاں عشّاق پر جو سایہ فگن تھی کبھی پہلے شانوں کو ترستی ہے وہی زلفِ پریشاں میں کب سے کھڑا منتظرِ بخیہ گری

کیا وقت کہ قربت سے ہے ہر شخص گریزاں Read More »

دہن میں وقت کے ڈالی زبانِ ارتقاء میں نے.

دہن میں وقت کے ڈالی زبانِ ارتقاء میں نے. خموشی کو سماعت دی سماعت کو صدا میں نے. سند تحریر کو میری اْسی دم مل گئ جب کہ. خدا کو عشق لکّھا اور محبّت کو خدا میں نے. نہیں واعظ سے کوئ واسطہ نہ شیخ و زاہد سے. خِرد کو چھوڑ کر کی ہے جنوں

دہن میں وقت کے ڈالی زبانِ ارتقاء میں نے. Read More »