دشمن کی رزم گاہ کہ یاروں کی انجمن
دشمن کی رزم گاہ کہ یاروں کی انجمن ہرجاہوں اپنی ذات پہ خودہی میں خندہ زن کس نے کہا گلوں سے ہے خالی یہ گلستاں کِھلنے لگے ہیں پھر سے گلاب اور نسترن تیشہ کہاں جو دودھ کی نہریں بہا سکے شیریں ہے اب یہاں نہ رہا کوئ کو ہکن سچ بھی ملا دیا تھا
دشمن کی رزم گاہ کہ یاروں کی انجمن Read More »