MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دشمن کی رزم گاہ کہ یاروں کی انجمن

دشمن کی رزم گاہ کہ یاروں کی انجمن ہرجاہوں اپنی ذات پہ خودہی میں خندہ زن کس نے کہا گلوں سے ہے خالی یہ گلستاں کِھلنے لگے ہیں پھر سے گلاب اور نسترن تیشہ کہاں جو دودھ کی نہریں بہا سکے شیریں ہے اب یہاں نہ رہا کوئ کو ہکن سچ بھی ملا دیا تھا

دشمن کی رزم گاہ کہ یاروں کی انجمن Read More »

ڈھلتی ہے فکر شعر میں علم و ہْنر کے بعد

ڈھلتی ہے فکر شعر میں علم و ہْنر کے بعد اْٹھتے ہیں سب حجاب نگہہِ پردہ در کے بعد تسخیرِ کائنات کی تیری یہ جستجو دیکھیں کہاں ٹھہرتی ہے شمس وقمر کے بعد قصّہ تمام ہوگا زمان و مکان کا اس شورشِ فسانۂ شام و سحر کے بعد جادہ بہت طویل یقینأ ہے عشق کا

ڈھلتی ہے فکر شعر میں علم و ہْنر کے بعد Read More »

مِرا قِصّہ بہت ہی مختصر تھا

مِرا قِصّہ بہت ہی مختصر تھا مہد سے تا لحد, بس اسقدر تھا بہے آنسو کسی بھی چشمِ نم سے نہ جانے کیوں مِرا دامن ہی تر تھا رہی اک کشمکش اس میکدے میں خِرد ناصح, جنوں پیمانہ گر تھا خودی کے اس شکستہ آئینے میں ہوا جو گْم وہ شوقِ خود نگر تھا جسے

مِرا قِصّہ بہت ہی مختصر تھا Read More »

کیوں جدائی ہوئی کیوں بڑھے فاصلے تم سے کیسے کہیں

کیوں جدائی ہوئی کیوں بڑھے فاصلے تم سے کیسے کہیںہم نے تبدیل کیوں کر لیے راستے تم سے کیسے کہیں ہم جو بچھڑے سبب اس کا ہم تم نہ تھے صرف تقدیر تھیاور تقدیر سے کوئی کیسے لڑے تم سے کیسے کہیں کام آئی نہ کچھ اپنی دیوانگی عمر کیسے کٹیبجھ گئے کیوں امیدوں کے

کیوں جدائی ہوئی کیوں بڑھے فاصلے تم سے کیسے کہیں Read More »

کیا مجھ کو دکھائے گی مری عمرِ رواں اور

کیا مجھ کو دکھائے گی مری عمرِ رواں اوراس عشق سے بڑھ کر ہے کوئی کربِ زیاں اور تو بھی تو اکیلی ہے شبِ ہجر تو پھر آایجاد کریں مل کے کوئ طرزِ فغاں اور آواز اٹھانے کی اجازت تو ہے لیکنہر دور میں سچائی کی قیمت ہے یہاں اور وہ راز کہ رکھوں جسے

کیا مجھ کو دکھائے گی مری عمرِ رواں اور Read More »

فرض بن کر ادا ہو گئی میں

فرض بن کر ادا ہو گئی میںاور خود سے جدا ہو گئی میں اک قدم جس پہ خود چل نہ پائیایسا اک راستا ہو گئی میں کیسی جادو بھری تھی نظر وہکیا تھی اور کیا سے کیا ہو گئی میں وہ جو سوچوں کو مفلوج کر دےایسا اک سانحہ ہو گئی میں راہ بدلی ہے

فرض بن کر ادا ہو گئی میں Read More »

مری بیٹی

میراث…… مری بیٹیمجھے ہے یادتیری دید کا پہلا وہ پل اب تکگلابی تولیہ میں تیرا نازک جسم لپٹا تھافراک اک ریشمی پہنے ہوئے تھیرنگ اس کا بھی گلابی تھاکرسچین نرس نے جھک کرکہا مجھ سےذرا دیکھیں تو کتنا پیارا بےبی ہےکبھی میں نے فرشتے کو نہیں دیکھا تھالیکن اس گھڑی ایسا لگاجیسے فرشتہ روبرو ہوتیری

مری بیٹی Read More »

قلم تلوار ہوتا ہے

قلم تلوار ہوتا ہے۔۔ (بیادِ حسرت موہانی) بشرطیکہ قلم اُس ہاتھ میں ہوجس میں سچائی کا پرچمتھامنے کا حوصلہ بھی ہوہمارے عہد کا یہ سانحہ ہے کہقلم اُس ہاتھ نے تھاما ہوا ہےجس میں سچ کو جھوٹاور ہر جھوٹ کو سچ میںبدل دینے کی عادت ہےقلم بھی بک رہا ہے اورلفظوں کا تقدس بھینہ درویشی

قلم تلوار ہوتا ہے Read More »

دریچے میں کھڑی بارش کو

المیہ دریچے میں کھڑی بارش کوسڑکوں پر برستے دیکھتی ہوںسوچتی ہوںدکھ کو اپنے نام کیا دوں میںتمناؤں کو گروی رکھ کےخوابوں کے سبھی دربند کر کےکتنی مشکل سےچھڑا کر اپنا دامنچھت اور آنگن کی تمنا سےفقط اک گھر کی خواہش میںیہ زنداں مول لے کراس پہ اپنے نام کی تختی لگائی ہےبس اک خواہش ہے

دریچے میں کھڑی بارش کو Read More »

قیامت جیسا دن تھاوہ۔۔۔۔

قیامت جیسا دن تھاوہ۔۔۔۔ وہ دن جب درد کے پہلو میں بھیاک درد اٹھا تھاوہ دن جب اشک کی آنکھوں میں بھیآنسو چمکتے تھےوہ دن جب آسماں پر زرد سورجشرمساری اوڑھ کر بادل میںاپنا منہ چھپاتا تھافرات بے کراں کی تیز لہریںبیقراری اور غم و غصے سےاپنا سر پٹختی تھیںوہ دن جب پیاس بھی گھبرا

قیامت جیسا دن تھاوہ۔۔۔۔ Read More »