MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں

عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیںجاگتی پلکوں پہ کچھ خواب ہوا کرتے ہیں ہر کوئی رو کے دکھا دے یہ ضروری تو نہیںخشک آنکھوں میں بھی سیلاب ہوا کرتے ہیں کچھ فسانے ہیں جو چہرے پہ لکھے رہتے ہیںکچھ پسِ دیدۂ خونباب ہُوا کرتے ہیں کچھ تو جینے کی تمنا میں مرے جاتے

عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں Read More »

حالتِ کفر بھی ایمان میں رکھی ہوئی ہے

حالتِ کفر بھی ایمان میں رکھی ہوئی ہےایک صورت جو مرے دھیان میں رکھی ہوئی ہے روزِ اوّل جو پڑھی تھی تری یادوں کی کتابمیں نے بچپن سے وہ جز دان میں رکھی ہوئی ہے مسکراتے ہوئے زخموں کی نمائش کرنایہ صفَت اُس نے بس انسان میں رکھی ہوئی ہے ایک پتھر سا مری روح

حالتِ کفر بھی ایمان میں رکھی ہوئی ہے Read More »

نہیں جان جہاں ایسا نہیں ہے

نہیں جان جہاں ایسا نہیں ہےیہ بندھن ٹوٹنے والا نہیں ہے نہ اُترے گا تمہارے پیار کا رنگیہ دِھیما ہے مگر کچا نہیں ہے میں اپنی روح دے کر جسم لے لوںیہ سودا اس قدر سستا نہیں ہے کھلی ہیں کھڑکیاں لیکن مکاں گماُن آنکھوں کے تلے چہرہ نہیں ہے جب اپنے اپنے مقصد یاد

نہیں جان جہاں ایسا نہیں ہے Read More »

سائے پگھل رہے تھے،

سائے پگھل رہے تھے،ہم ساتھ چل رہے تھے۔ لمحے جدائیوں کے،آنکھوں میں جل رہے تھے۔ تھیں منجمد نگاہیں،آنسو نکل رہے تھے۔ سب کچھ وہی تھا لیکن،رستے بدل رہے تھے۔ یادیں تھیں یا کہ نشتر،سینے پہ چل رہے تھے۔ کیا کیا خیال تھے جو،دل کو مَسل رہے تھے۔ "خالد” وہ جا رہا تھا،ہم ہاتھ مل رہے

سائے پگھل رہے تھے، Read More »

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیاجو اس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئیاک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا دلچسپ واقعہ ہے کہ کل اک عزیز دوستاپنے مفاد پہ مجھے قربان کر گیا کتنی سدھر گئی ہے جدائی میں زندگیہاں

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا Read More »

عجب تھی درد کی طرزِ فغاں گذشتہ سال

عجب تھی درد کی طرزِ فغاں گذشتہ سال حیات بن گئ کارِ زیاں گذشتہ سال شمار کر نہ سکے غم کی ایسی یورش میں نہ حسرتیں ہی نہ محرومیاں گذشتہ سال شکستہ ڈال سے آندھی میں جیسے آم گریں تھی زد میں پوری صفِ دوستاں گذشتہ سال جوانِ رعنا حسیں لوگ ہوگئے رخصت رہی نہ

عجب تھی درد کی طرزِ فغاں گذشتہ سال Read More »

خرد کا خرقۂ اعجاز گیان سے مشروط

خرد کا خرقۂ اعجاز گیان سے مشروط یقیں کا سیلِ رواں ہے گْمان سے مشروط کسی کے شور مچانے سے کچھ نہیں ہوگا فروغِ حسنِ سماعت ہے دھیان سے مشروط نہ جانے تیر نشانے پہ کیوں نہیں لگتے ہدف کی حدّ رسائ کمان سے مشروط یہ مشتِ خاک ستاروں کو اْڑ کے چھو آئی نہیں

خرد کا خرقۂ اعجاز گیان سے مشروط Read More »

گریونہی فکر کے اعصاب پہ پہرا ہوگا

گریونہی فکر کے اعصاب پہ پہرا ہوگا زخمِ احساس ابھی اور بھی گہرا ہوگا ہر طرف چھائے ہوئے ظلم کے کالے بادل یہ اندھیرا تو ابھی اور گھنیرا ہوگا یہ توقع ہی کہاں تھی کہ سیہہ رات کے بعد بے خبر نیند میں مدہوش سویرا ہوگا نسلِ انسان کی یہ کیسی سیہہ بختی ہے عہدِ

گریونہی فکر کے اعصاب پہ پہرا ہوگا Read More »

ان کہی باتوں کی گہری تشنگی میں اضطراب

ان کہی باتوں کی گہری تشنگی میں اضطراب بے صدا نغموں کی طرز نغمگی میں اضطراب ساحلوں سے وصل پر بھی ہے سکوں نا آشنا سر پٹختی موج کی دیوانگی میں اضطراب چاندنی بن بن کے بہتا ہے لہو مہتاب کا مجلسِ شب کی سلگتی تیرگی میں اضطراب وقت کے بوڑھے سمندر میں حوادث کے

ان کہی باتوں کی گہری تشنگی میں اضطراب Read More »

کہا گیا ہے کہ وہ جان کی امان میں ہے

کہا گیا ہے کہ وہ جان کی امان میں ہے اسے خبر نہیں فہرست۔کشتگان میں ہے چکھا تھا جد نے کبھی جو مزہ غلامی کا نمک کا اب بھی وہی ذائقہ زبان میں ہے دیار۔غیر کبھی ماں کو چھوڑ کر نہ گیا اکیلا رہ گیا چھوٹا جو خاندان میں ہے جدائ کا وہ ہرا زخم

کہا گیا ہے کہ وہ جان کی امان میں ہے Read More »