عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیںجاگتی پلکوں پہ کچھ خواب ہوا کرتے ہیں ہر کوئی رو کے دکھا دے یہ ضروری تو نہیںخشک آنکھوں میں بھی سیلاب ہوا کرتے ہیں کچھ فسانے ہیں جو چہرے پہ لکھے رہتے ہیںکچھ پسِ دیدۂ خونباب ہُوا کرتے ہیں کچھ تو جینے کی تمنا میں مرے جاتے
عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں Read More »