MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جو فرض عائد ہوا ہے ہم پر اسے خوشی سے ادا کریں گے

غزل جو فرض عائد ہوا ہے ہم پر اسے خوشی سے ادا کریں گے ہمارا شیوہ یہی رہا ہے جفا کے بدلے وفا کریں گے شکستہ کشتی مہیب طوفان اور ساحل نظر سے اوجھل عذاب کتنے ہی آئیں ہم پہ نہ منت ناخدا کریں گے رسائی کیسے وفا کی منزل پہ ہوگی یہ راز ہم […]

جو فرض عائد ہوا ہے ہم پر اسے خوشی سے ادا کریں گے Read More »

وہی ہے طرز تغافل وہی ہے خو مجھ میں

غزل   وہی ہے طرز تغافل وہی ہے خو مجھ میں اتر گیا ہو وہ جیسے کہ ہو بہ ہو مجھ میں میں منزلوں کو بھی اب رہ گزر سمجھتا ہوں کہاں سے امڑا ہے یہ شوق جستجو مجھ میں رہے گا زندگی پہ فخر تا دم آخر اگر جھلکتی رہی شان آبرو مجھ میں

وہی ہے طرز تغافل وہی ہے خو مجھ میں Read More »

اک عجب روگ مرے جی کو لگا برسوں سے

غزل اک عجب روگ مرے جی کو لگا برسوں سے راس آئی بھی نہیں کوئی دوا برسوں سے یوں تو آنے کو بہار آئی خزاں بھی آئی دل کے ماحول کی بدلی نہ فضا برسوں سے میرے ہی دل کی یہ خوبی ہے کہ اس میں یارو رات دن ہوتا ہے ہنگامہ بپا برسوں سے

اک عجب روگ مرے جی کو لگا برسوں سے Read More »

قدم قدم پہ ٹھہرتے تھے ڈر ہی ایسا تھا

غزل قدم قدم پہ ٹھہرتے تھے ڈر ہی ایسا تھا نہ طے ہوا کبھی ہم سے سفر ہی ایسا تھا مہیب سائے سے آتے رہے نظر ہر سو یہ ذکر دشت نہیں اپنا گھر ہی ایسا تھا نہ راس آئے ہیں عیش و نشاط کے لمحے نظام دہر کا ہم پر اثر ہی ایسا تھا

قدم قدم پہ ٹھہرتے تھے ڈر ہی ایسا تھا Read More »

قدم قدم پہ ٹھہرتے تھے ڈر ہی ایسا تھا

غزل قدم قدم پہ ٹھہرتے تھے ڈر ہی ایسا تھا نہ طے ہوا کبھی ہم سے سفر ہی ایسا تھا مہیب سائے سے آتے رہے نظر ہر سو یہ ذکر دشت نہیں اپنا گھر ہی ایسا تھا نہ راس آئے ہیں عیش و نشاط کے لمحے نظام دہر کا ہم پر اثر ہی ایسا تھا

قدم قدم پہ ٹھہرتے تھے ڈر ہی ایسا تھا Read More »

بات بگڑی ہوئی بنی ہے ابھی

غزل بات بگڑی ہوئی بنی ہے ابھی اک نیا ربط باہمی ہے ابھی مجھ کو ایسا گمان ہوتا ہے نا مکمل سی زندگی ہے ابھی باوجودے ہزار ناکامی زندگی میں ہماہمی ہے ابھی ایک بجلی سی ہے جو رہ رہ کر گوشۂ دل میں کوندتی ہے ابھی شوق سے آؤ قافلے والو راہ منزل بلا

بات بگڑی ہوئی بنی ہے ابھی Read More »

ہم کفر سے واقف ہیں نہ اسلام سے واقف

غزل ہم کفر سے واقف ہیں نہ اسلام سے واقف ہیں مذہبی پرخاش کے انجام سے واقف تا عمر رہے ہیں جو مئے و جام سے واقف ہو پائے نہ وہ گردش ایام سے واقف تنویر سحر جن کی نگاہوں میں بسی ہو کب ہوتے ہیں وہ تیرگئ شام سے واقف منزل پہ پہنچنا ہمیں

ہم کفر سے واقف ہیں نہ اسلام سے واقف Read More »

سر بھی بھاری ہے دل بھی بھاری ہے

غزل سر بھی بھاری ہے دل بھی بھاری ہے بے قراری سی بے قراری ہے آسماں پر ستارے ہیں روشن کیسی قدرت کی دست کاری ہے پیاس نے آج کر دیا ثابت ذائقہ آنسوؤں کا کھاری ہے آپ جس کو نہ سن سکے اب تک بس وہی داستاں ہماری ہے رات کے بعد صبح کا

سر بھی بھاری ہے دل بھی بھاری ہے Read More »

ہمیں اپنے تو کیا غیروں کو ٹھکرانا نہیں آتا

غزل ہمیں اپنے تو کیا غیروں کو ٹھکرانا نہیں آتا رواداری کی راہوں سے بھٹک جانا نہیں آتا دیا امید کا رہبر بنا لیتا ہوں منزل تک مجھے رستے کی تاریکی سے گھبرانا نہیں آتا گلستان محبت میں کچھ ایسے پھول کھلتے ہیں جنہیں موسم بدلنے پر بھی مرجھانا نہیں آتا جہاں تک ہو سکے

ہمیں اپنے تو کیا غیروں کو ٹھکرانا نہیں آتا Read More »

نسیم صبح کیوں اٹھلا رہی ہے

غزل نسیم صبح کیوں اٹھلا رہی ہے خدا جانے کہاں سے آ رہی ہے وہ مل جائیں صبا تو ان سے کہنا یہ برکھا رت بھی بیتی جا رہی ہے کسی سے دور ہو جانے کی ساعت بہت نزدیک آتی جا رہی ہے یہ کیوں بڑھنے لگی ہے دل کی دھڑکن ہماری یاد کس کو

نسیم صبح کیوں اٹھلا رہی ہے Read More »