کیسی آشفتہ سری ہے اب کے
غزل کیسی آشفتہ سری ہے اب کے کچھ عجب بے خبری ہے اب کے دیکھ کر اہل گلستاں کا چلن جان ہاتھوں میں دھری ہے اب کے شہر کا امن و سکوں ہے عنقا کیسی یہ فتنہ گری ہے اب کے موسم فصل خزاں ہے پھر بھی شاخ دل اپنی ہری ہے اب کے کور […]
کیسی آشفتہ سری ہے اب کے Read More »