MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کیسی آشفتہ سری ہے اب کے

غزل کیسی آشفتہ سری ہے اب کے کچھ عجب بے خبری ہے اب کے دیکھ کر اہل گلستاں کا چلن جان ہاتھوں میں دھری ہے اب کے شہر کا امن و سکوں ہے عنقا کیسی یہ فتنہ گری ہے اب کے موسم فصل خزاں ہے پھر بھی شاخ دل اپنی ہری ہے اب کے کور […]

کیسی آشفتہ سری ہے اب کے Read More »

گردش میں چشم دوست کا پیمانہ آگیا

غزل گردش میں چشم دوست کا پیمانہ آگیا لیجے مقام سجدۂ شکرانہ آ گیا میں اور شراب ناب مگر اس کو کیا کروں غم مجھ کو لے کے جانب مے خانہ آ گیا یارائے ضبط رہ نہ سکا روبروئے دوست آنکھوں میں کھنچ کے درد کا افسانہ آ گیا سوئے حرم چلے تھے بڑے اہتمام

گردش میں چشم دوست کا پیمانہ آگیا Read More »

بڑے صبر و تحمل سے بصد پاس ادب کاٹے

غزل بڑے صبر و تحمل سے بصد پاس ادب کاٹے جدائی اک قیامت تھی مگر یہ روز و شب کاٹے قیامت ہے کہ اس نے ایک جرم بے گناہی کا میرے دست طلب توڑے مرے پائے طلب کاٹے دل درد آشنا ملتا تو شاید تم سمجھ سکتے کہ تم سے دور رہ کر ہم نے

بڑے صبر و تحمل سے بصد پاس ادب کاٹے Read More »

صحرا میں ہے قرار نہ صحن چمن میں ہے

غزل صحرا میں ہے قرار نہ صحن چمن میں ہے جب سے دل خراب تری انجمن میں ہے یہ برہمی جو زلف شکن در شکن میں ہے شاید کوئی کمی مرے دیوانہ پن میں ہے جو کارواں بھی آیا یہیں کا وہ ہو رہا کیا جانے کیا کشش مری خاک وطن میں ہے رگ رگ

صحرا میں ہے قرار نہ صحن چمن میں ہے Read More »

یہ کیا توہین مے خانہ نہیں ہے

غزل یہ کیا توہین مے خانہ نہیں ہے صراحی ہے تو پیمانہ نہیں ہے در دولت کے چکر آپ کاٹیں مری فطرت غلامانہ نہیں ہے تعجب ہے کہ اہل شہر نے بھی ابھی تک مجھ کو پہچانا نہیں ہے چھلک جاتی ہے ان کا نام سن کر اگرچہ آنکھ پیمانہ نہیں ہے میں تشنہ لب

یہ کیا توہین مے خانہ نہیں ہے Read More »

جنت نہیں تو کوئے بتاں کچھ نہ کچھ تو ہو

غزل جنت نہیں تو کوئے بتاں کچھ نہ کچھ تو ہو تسکین دل کو اپنی یہاں کچھ نہ کچھ تو ہو آنکھوں میں اشک لب پہ فغاں کچھ نہ کچھ تو ہو راز اس پہ درد دل کا عیاں کچھ نہ کچھ تو ہو او بے نیاز ایک اچٹتی ہوئی نظر دل کو بھی زندگی

جنت نہیں تو کوئے بتاں کچھ نہ کچھ تو ہو Read More »

موج ہوائے شوق اسے پائمال کر

غزل موج ہوائے شوق اسے پائمال کر رکھیں گے خاک دل کو کہاں تک سنبھال کر افسردہ دل نہ ہو یہ سفر کی تکان ہے دو چار گھونٹ پی کے طبیعت بحال کر یہ ابر یہ بہار یہ طوفان رنگ و بو اے دوست میری تشنہ لبی کا خیال کر یہ منزل شباب ہے پر

موج ہوائے شوق اسے پائمال کر Read More »

اتنا ہی بھٹکتا رہا میں جتنا چلا تیز

غزل باقی نہ رہے ہوش جنوں ایسی ہوا تیز اتنا ہی بھٹکتا رہا میں جتنا چلا تیز دن ڈھلنے لگا بڑھنے لگے شام کے سائے اے سست قدم اب تو قدم اپنے اٹھا تیز کیا جانیے ظالم نے کسے قتل کیا ہے کیوں ہاتھوں میں آج اس کے ہوا رنگ حنا تیز اب منزل مقصود

اتنا ہی بھٹکتا رہا میں جتنا چلا تیز Read More »

ان کے گیسو کی طرح اپنے خیالوں کی طرح

غزل ان کے گیسو کی طرح اپنے خیالوں کی طرح ہم بکھرتے رہے دنیا میں اجالوں کی طرح ہم تو اخلاص و محبت کے سوا کچھ بھی نہ تھے دیکھتا کوئی ہمیں دیکھنے والوں کی طرح ہم سے پابندیٔ آداب محبت نہ ہوئی بات بھی ان سے اگر کی ہے تو نالوں کی طرح میں

ان کے گیسو کی طرح اپنے خیالوں کی طرح Read More »

پلکیں اٹھیں نگاہ ملی بات ہو گئی

غزل پلکیں اٹھیں نگاہ ملی بات ہو گئی دونوں طرف سے پرسش حالات ہو گئی ہلکی سی روشنی بھی نہیں دور دور تک فرقت کی رات کتنی بڑی رات ہو گئی راہ جنوں میں بیکس و تنہا چلا تھا میں ہم راہ دل کے گردش حالات ہو گئی یہ حسن اتفاق کہ تم آ گئے

پلکیں اٹھیں نگاہ ملی بات ہو گئی Read More »