MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دیکھو تو میرے نالہ و آہ و فغاں کی اور

غزل دیکھو تو میرے نالہ و آہ و فغاں کی اور بان اس کڑک سے جاوے ہے کب آسماں کی اور مسجد کو چھوڑ آئے کلیسائیاں کی اور چھوڑا نواح کعبہ چلے ہم بتاں کی اور زاہد ترے کمال پہ ماریں ہیں پشت پا لائے فرو سر اپنا جو پیر مغاں کی اور سکھ نیند […]

دیکھو تو میرے نالہ و آہ و فغاں کی اور Read More »

جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارے

غزل جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارے نہ حشر کو بھی اٹھیں گے نگاہ کے مارے مثال برگ خزاں صرصر فراق سے آہ پٹکتے پھرتے ہیں سر ہم تباہ کے مارے عزیزو دل نہ دو یوسف کی کر کے چاہ کبھی کہ جا کے چاہ میں گرتے ہیں چاہ کے مارے الٰہی حشر

جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارے Read More »

یار کے بن بہار کیا کیجے

غزل یار کے بن بہار کیا کیجے گل نہ ہووے تو خار کیا کیجے کام میرا تو ہو چلا آخر اے مرے کردگار کیا کیجے کوئی وعدہ وفا نہیں کرتا وہ تغافل شعار کیا کیجے مثل آئینہ خود نما میرا سب سے ہو ہے دو چار کیا کیجے سوز دل میرا مجھ کو دے ہے

یار کے بن بہار کیا کیجے Read More »

جو کچھ کہ تو نے سر پہ مرے دل ربا کیا

غزل جو کچھ کہ تو نے سر پہ مرے دل ربا کیا دل ہی وہ جانتا ہے کہوں کیا میں کیا کیا مت پوچھ آہ عشق کے خوباں کے کیا کیا رسوا کیا خراب کیا مبتلا کیا یارو کہے رکھے ہوں میں دعویٰ نہ کیجیو قاتل کو اپنے میں نے بحل خوں بہا کیا ملزم

جو کچھ کہ تو نے سر پہ مرے دل ربا کیا Read More »

یک دو جام اور بھی دے تو ساقی

غزل یک دو جام اور بھی دے تو ساقی نہ رہے دل میں آرزو ساقی میری تسکیں نہ ہوگی ساغر سے منہ سے میرے لگا سبو ساقی رات و دن مے کشوں کو رہتی ہے تیری ہی یاد و جستجو ساقیمرزا رند مفلس کو دے ہے زیاد شراب بھائی مجھ کو تری یہ خو ساقی

یک دو جام اور بھی دے تو ساقی Read More »

کوئی کر سکتا ہے یارو جیسا میں نے کام کیا

غزل کوئی کر سکتا ہے یارو جیسا میں نے کام کیا یار کے ذمے دی کردی نیکی اپنے تئیں بد نام کیا آنکھوں سے سہلایا کیا میں تلوے اس کے وقت خواب اتنی خدمت دیکھ مری گھر غیر کے جا آرام کیا کون سی شب بے نالہ و زاری میں نے نہیں کی اس بن

کوئی کر سکتا ہے یارو جیسا میں نے کام کیا Read More »

کہاں سے مفہوم شعر آئے نیا نیا سا

غزل کہاں سے مفہوم شعر آئے نیا نیا سا چراغ فکر و خیال ہو جب بجھا بجھا سا غبار نفرت نہ گرد کینہ نہ داغ رنجش چلے بھی آؤ کہ میرا دل ہے دھلا دھلا سا خدایا سب کی نگاہیں اس پر ہی پڑ رہی ہیں ہے گلستاں میں جو اک شگوفہ کھلا کھلا سا

کہاں سے مفہوم شعر آئے نیا نیا سا Read More »

سفر میں زندگی کے ہم انہیں رہبر سمجھتے ہیں

غزل سفر میں زندگی کے ہم انہیں رہبر سمجھتے ہیں جو سنگ راہ کو پھولوں ہی کا بستر سمجھتے ہیں بشر نے ہی نہیں سمجھے رموز گردش پیہم رموز گردش پیہم مہ و اختر سمجھتے ہیں الٰہی راز ہستی ایک ایسا راز ہے جس کو نہ دیوانے سمجھتے ہیں نہ دانشور سمجھتے ہیں خیالوں سے

سفر میں زندگی کے ہم انہیں رہبر سمجھتے ہیں Read More »

پوچھ لیتے ہیں وہ اکثر کہ ہے حالت کیسی

غزل پوچھ لیتے ہیں وہ اکثر کہ ہے حالت کیسی ہم پہ ہو جاتی ہے ان کی یہ عنایت کیسی عہد حاضر میں تو ہے ذکر بھی ان کا بے سود کیسا آئین وفا اور مروت کیسی غیر کے غم میں بھی بے ساختہ رو دیتے ہیں ہم کو اللہ نے بخشی ہے طبیعت کیسی

پوچھ لیتے ہیں وہ اکثر کہ ہے حالت کیسی Read More »

تجدید لتفات کا امکاں نہیں رہا

غزل تجدید لتفات کا امکاں نہیں رہا عیش و نشاط زیست کا ساماں نہیں رہا اک ایک کر کے دل کے سب ارمان مٹ گئے صد شکر دل میں اب کوئی ارماں نہیں رہا فصل بہار آ کے بھی کیا گل کھلائے گی وہ گل نہیں رہے وہ گلستاں نہیں رہا دینے لگی ہے موت

تجدید لتفات کا امکاں نہیں رہا Read More »