MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

گنگنائیں، تو لوگ جلتے ہیں

گنگنائیں، تو لوگ جلتے ہیںمسکرائیں، تو لوگ جلتے ہیں بن کے مہتاب تیری راہوں میںجگمگائیں، تو لوگ جلتے ہیں داستاں ہم تری محبت کیگر سنائیں، تو لوگ جلتے ہیں اپنے روٹھے ہوئے اگر ہم سےمان جائیں، تو لوگ جلتے ہیں ہم کسی سے کیا ہوا وعدہگر نبھائیں، تو لوگ جلتے ہیں رسم و رَہ جب

گنگنائیں، تو لوگ جلتے ہیں Read More »

تیرے سر پہ سوار جو بھی ہے

تیرے سر پہ سوار جو بھی ہےاس کو سر سے اتار جو بھی ہے تو اسے اب ذرا جھٹک بھی دےذہن میں خلفشار جو بھی ہے مجھ کو آئے نظر تو میں دیکھوںدامن دل کے پار جو بھی ہے آپ اظہار تو کریں مجھ سےآپ کو مجھ سے پیار جو بھی ہے ہم وفا کیش

تیرے سر پہ سوار جو بھی ہے Read More »

مسندِ عشق پہ سلطان بنا بیٹھا ہے

مسندِ عشق پہ سلطان بنا بیٹھا ہےحُسن کا عشق نگہبان بنا بیٹھا ہے کل تلک جس کے تھے مشہور بہت ‘جور و ستم’وہ بھی اب ‘عدل کا ایوان’ بنا بیٹھا ہے کل تلک درد کی تقسیم تھی جس کے ذمّےاب وہی درد کا درمان بنا بیٹھا ہے شہر میں جس کو مِرے دم سے شناسائی

مسندِ عشق پہ سلطان بنا بیٹھا ہے Read More »

"نہیں کوئی میرا، یہی ایک سچ ہے”

نہ ہمدرد میرا نہ اپنا ہے کوئیجو آکر محبّت کے دو بول بولےیہی اِک سبب ہے، کہ اب چاہ کر بھیکسی کا بھی احساں اُٹھاتی نہیں ہوںاب آنکھوں میں سپنے سجاتی نہیں ہوںمیں اب کٹ کے رہتی ہوں سارے جہاں سےاکیلی ہی دُکھ جھیلتی ہوں میں اپنےاور اب خواب بھی کوئی بُنتی نہیں ہوںزمانے کو

"نہیں کوئی میرا، یہی ایک سچ ہے” Read More »

تمہیں اب کیا بتاؤں میں، کہ کیا کیا دیکھ سکتی ہوں

تمہیں اب کیا بتاؤں میں، کہ کیا کیا دیکھ سکتی ہوںتمہاری سوچ سے تھوڑا زیادہ دیکھ سکتی ہوں میں وہ بھی بھانپ لیتی ہوں چھپا رکھتے ہیں جو دل میںچھپا ہے کون اپنوں میں پرایا دیکھ سکتی ہوں ہے اپنوں کے رویوں کا بہت ہی تجربہ مجھ کوسو، میں احباب کے دل کا ارادہ دیکھ

تمہیں اب کیا بتاؤں میں، کہ کیا کیا دیکھ سکتی ہوں Read More »

کام آنا، زندگی

کام آنا، زندگیدکھ بٹانا، زندگی مانتے ہیں ہم، کہ ہےمسکرانا، زندگی دل لگایا، بن گئیاک فسانہ، زندگی جمع کرتے رہ گئےدانہ دانہ زندگی بے بسی، بے چارگیمت دکھانا، زندگی ہے کسی کے واسطےتازیانہ زندگی اور کسی کے واسطےجیل خانہ زندگی ایک پل ہے، اور کہیںاِک زمانہ زندگی موت کا ہے انتظاراِک بہانہ، زندگی ہو سکے،

کام آنا، زندگی Read More »

نہ جانے کس لئے میں جی رہی ہوں

نہ جانے کس لئے میں جی رہی ہوںغموں کا زہر ہنس کر پی رہی ہوں عجب معیار ہے تیری طلب کاکبھی رسوا کبھی اچھی رہی یوں بظاہر خوش نظر آتی ہوں لیکندکھوں کے درمیاں میں جی رہی ہوں نہ جانے کونسی خوبی تھی اس میںمیں دنیا میں فقط اس کی رہی ہوں سمیٹوں کس طرح

نہ جانے کس لئے میں جی رہی ہوں Read More »

اظہار اور رسائی

مو قلم، ساز، گل تازہ، تھرکتے پاؤںبات کہنے کے بہانے ہیں بہتآدمی کس سے مگر بات کرئےبات جب حیلہء تقریب ملاقات نہ ہواور رسائی کہ ھمیشہ سے ھے کوتاہ کمندبات کی غایت غایات نہ ہو!ایک ذرّہ کف خاکستر کاشرر جستہ کے مانند کبھیکسی انجانی تمنّا کی خلش سے مسروراپنے سینے کے دہکتے ھوئے تنّور کی

اظہار اور رسائی Read More »

آپ کے چہرے

’’آپ‘‘ ہم جس کے قصیدہ خواں ہیںوصل البتّہ و لیکن کے سوااور نہیں’’آپ‘‘ ہم مرثیہ خواں ہیں جس کےہجر البتّہ و لیکن کے سوا اور نہیں’’آپ‘‘ دو چہروں کی ناگن کے سوا اور نہیں!روز ’’البتّہ‘‘ مرے ساتھپرندوں کی سحر جاگتے ارمانوںکے بستر سے اٹھاسیر کی، غسل کیااور مرے ساتھ ہی صبحانہ کیا،بے سرے گیت بھی

آپ کے چہرے Read More »

محبتوں میں شناسائیوں کے موسم دے

محبتوں میں شناسائیوں کے موسم دےمرے خدا مجھے رعنائیوں کے موسم دے کلی جو پھول ہوا چاہتی ہے گلشن میںمرے خدا اسے انگنائیوں کے موسم دے وصال اس کا مجھے راس آ نہیں سکتامجھے ہمیشہ وہ تنہائیوں کے موسم دے مرے وجود سے لپٹی تری خیال کی آنچمرے خیال کو انگڑائیوں کے موسم دے میں

محبتوں میں شناسائیوں کے موسم دے Read More »