MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زمیں اور آسماں کو کھینچتا ہے

زمیں اور آسماں کو کھینچتا ہے وہی کون و مکاں کو کھینچتا ہے جو کھینچے ہے مجھےمحورکی جانب وہی مرکز جہاں کو کھینچتا ہے سخن ور وہ سخن کارِ زیاں ہے جنوں میں جو بیاں کو کھینچتا ہے سمندر آسماں سے آج کہہ دے سمندر درمیاں کو کھینچتا ہے اگر اس ہجر میں ہے اتنی

زمیں اور آسماں کو کھینچتا ہے Read More »

عداوت اس قدر پھیلی ہوئی ہے

عداوت اس قدر پھیلی ہوئی ہے کتاب زیست تک روٹھی ہوئی ہے ابھی تم دیکھنا پورا تماشا کہانی تو ابھی آدھی ہوئی ہے مجھے اب جیت پائے گا نہ کوئی کہ بازی جان کر ہاری ہوئی ہے ہجوم غم سے لپٹی شام تھی وہ جو چشمِ نم سے اب بھیگی ہوئی ہے عجب ہے آبلہ

عداوت اس قدر پھیلی ہوئی ہے Read More »

آلودہ مکاں ساعتِ تکرارمسلسل

آلودہ مکاں ساعتِ تکرارمسلسل شامل ہے مری زیست میں انکار مسلسل کچھ دیر کو گر آنکھ جھپک جائے تو دیکھوں تو سامنے ہو ! ہو ترا دیدار مسلسل آہٹ میں جو آہٹ ہے سنائی دے کسے اب دیوار پہ دیوار کی یلغار مسلسل توقیر نہ گھٹ جائے صدائیں جو تجھے دوں خاموش ہے اظہار پر

آلودہ مکاں ساعتِ تکرارمسلسل Read More »

اک سمندر میں جا بسا صحرا

اک سمندر میں جا بسا صحرا اشک سارے ہی پی گیا صحرا سب تخیل ہے عارضی تو پھر میری آنکھوں میں لوٹ آ صحرا پوچھ مجھ سے کوئی سوال نئے راز اپنے مجھے بتا صحرا اک سمندر ہے برف کا مجھ میں ایک جانب ہے آگ کا صحرا جل رہی ہوں میں اپنی وحشت میں

اک سمندر میں جا بسا صحرا Read More »

خود کو تحریر کر رہا ہوں میں

Khud Ko Tehreer Kar Raha Hoon Main غزل خود کو تحریر کر رہا ہوں میںلوگ کہتے ہیں مر رہا ہوں میں ڈس رہا ہے وہ ناگ بن کے مجھےجس کے دیوار و در رہا ہوں میں جس کی تعمیر کی تھی میں نے کبھیاس کی ہیبت سے ڈر رہا ہوں میں رنگ ریزہ تری عنایت

خود کو تحریر کر رہا ہوں میں Read More »

ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار​

صوفی غلام مصطفیٰ تبسّم​ کی بچوں کے لیے بہت پیاری نظم اِس موٹر کی شان نرالی دو سیٹوں ، دو پہیوں والی تین انجن اور ہارن چار ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار ساتھ ہوا کے اڑتی جائےدائیں بائیں مڑتی جائےبڑی ہی سیانی بڑی ہُشیارٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار اِس موٹر کا اللہ بیلیکوئی نہ ہو

ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار​ Read More »

ایسے دل سے اُتر گیا کوئی

ایسے دل سے اُتر گیا کوئیزندگی سُونی کر گیا کوئی ایک مدّت ہوئی، کہ بگڑا تھاتجھ کو دیکھا، سنور گیا کوئی پڑ گئی جب تِری نظر اِک بارجی اُٹھا دل تو، مر گیا کوئی ساتھ جینے کے، مرنے کے وعدےبات کر کے مُکر گیا کوئی تیرے آنے کی یوں اُمید بندھیجیسے تارا اُبھر گیا کوئی

ایسے دل سے اُتر گیا کوئی Read More »

جس کو افسانے کا عنوان بنا رکھا ہے

جس کو افسانے کا عنوان بنا رکھا ہےوہ ترا خواب ہے آنکھوں میں بسا رکھا ہے لاکھ سمجھاؤ کوئی بات سمجھتا ہی نہیںدل نے سینے میں مرے شور مچا رکھا ہے موت تو موت ہے جب آئی اُسے دیکھیں گےزندگی تو نے بہت مجھ کو ستا رکھا ہے سوچتی ہوں تو چھلک جاتیں ہیں آنکھیں

جس کو افسانے کا عنوان بنا رکھا ہے Read More »

توقُّع، انتظار اور آس کے منظر میں رہتی ہوں

توقُّع، انتظار اور آس کے منظر میں رہتی ہوںسحر تا شام میں اُمّید چارہ گر میں رہتی ہوں بڑے اچھے گزرتے ہیں مِرے شام و سحر، کیونکہمیں اِک عرصے سے اپنے ساتھ، اپنے گھر میں رہتی ہوں پرانے شہر کو چھوڑے زمانہ ہو گیا، لیکنپرانے شہر کے، میں اب بھی بام و در میں رہتی

توقُّع، انتظار اور آس کے منظر میں رہتی ہوں Read More »

ایسے دل سے اُتر گیا کوئی

ایسے دل سے اُتر گیا کوئیزندگی سُونی کر گیا کوئی ایک مدّت ہوئی، کہ بگڑا تھاتجھ کو دیکھا، سنور گیا کوئی پڑ گئی جب تِری نظر اِک بارجی اُٹھا کوئی، مر گیا کوئی ساتھ جینے کے، مرنے کے وعدےبات کر کے مُکر گیا کوئی تیرے آنے کی یوں اُمید بندھیجیسے تارا اُبھر گیا کوئی رنج

ایسے دل سے اُتر گیا کوئی Read More »