زمیں اور آسماں کو کھینچتا ہے
زمیں اور آسماں کو کھینچتا ہے وہی کون و مکاں کو کھینچتا ہے جو کھینچے ہے مجھےمحورکی جانب وہی مرکز جہاں کو کھینچتا ہے سخن ور وہ سخن کارِ زیاں ہے جنوں میں جو بیاں کو کھینچتا ہے سمندر آسماں سے آج کہہ دے سمندر درمیاں کو کھینچتا ہے اگر اس ہجر میں ہے اتنی
زمیں اور آسماں کو کھینچتا ہے Read More »