MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہ شب کی بات، نہ ھم سے سَحر کی بات کرو

Na Shab Ki baat Na Ham say sahar ki baat karoo غزل نہ شب کی بات، نہ ھم سے سَحر کی بات کروجو ختم ھوتا نہیں، اُس سفر کی بات کرو کوئی تو بات اسِیرو ھو، دل بہلنے کیقفس کی بات نہیں، اپنے گھر کی بات کرو جو لڑ رھا ھے، ھواؤں کے تُند جھونکوں

نہ شب کی بات، نہ ھم سے سَحر کی بات کرو Read More »

ٹوٹ بٹوٹ نے کر لی شادی

صوفی غلام مصطفیٰ تبسّم​ کی بچوں کے لیے بہت پیاری نظم کچھ ہمجولی کچھ ہمسائےکچھ اپنے کچھ لوگ پرائےٹوٹ بٹوٹ کو ملنے آئےٹوٹ بٹوٹ کی بولی دادیٹوٹ بٹوٹ نے کرلی شادی اب نہ وہ شوخی اب نہ وہ شیخیاب نہ وہ اُس کی دھینگا مشتیختم ہوئی سب ہا ہا ہی ہیختم ہوئی ساری آزادیٹوٹ بٹوٹ

ٹوٹ بٹوٹ نے کر لی شادی Read More »

رس بھرا مالٹا ہے ٹوٹ بٹوٹ

صوفی غلام مصطفی تبسم​ کی بچوں کے لیے بہت پیاری نظم گول اور سرخ سا ہے ٹوٹ بٹوٹرس بھرا مالٹا ہے ٹوٹ بٹوٹ جب وہ پیدا ہوا تو ٹوٹ ہی تھادوسرے دن بنا ہے ٹوٹ بٹوٹ اصل میں وہ تو ایک لڑکی تھییوں ہی لڑکا بنا ہے ٹوٹ بٹوٹ صبح کو ایک ننھا منّا تھاشام

رس بھرا مالٹا ہے ٹوٹ بٹوٹ Read More »

ہم اپنی محبت کا اثر دیکھ رہے ہیں

Ham Apni Mohabat Ka asar Dekh Rahay Hain غزل ہم اپنی محبت کا اثر دیکھ رہے ہیںبیتاب بہت ان کی نظر دیکھ رہے ہیں افتاد پڑی کیسی بھلا صحنِ چمن میںبکھرے ہوئے سب برگ و ثمر دیکھ رہے ہیں کل تک تھا وہی جلوہ فگن بزمِ طرب میںہم آج جسے خاک بسر دیکھ رہے ہیں

ہم اپنی محبت کا اثر دیکھ رہے ہیں Read More »

چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہے

چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہےتو جدھر ہو کے گزر جائے خبر لگتا ہے اس کی یادوں نے اگا رکھے ہیں سورج اتنےشام کا وقت بھی آئے تو سحر لگتا ہے ایک منظر پہ ٹھہرنے نہیں دیتی فطرتعمر بھر آنکھ کی قسمت میں سفر لگتا ہے میں نظر بھر کے ترے جسم کو

چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہے Read More »

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتاتم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا پہنچا ہے بزرگوں کے بیانوں سے جو ہم تککیا بات ہوئی کیوں وہ زمانہ نہیں آتا میں بھی اسے کھونے کا ہنر سیکھ نہ پایااس کو بھی مجھے چھوڑ کے جانا نہیں آتا اس چھوٹے زمانے کے بڑے کیسے بنوگےلوگوں

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا Read More »

میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا

میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گااب اس کے بعد مرا امتحان کیا لے گا یہ ایک میلہ ہے وعدہ کسی سے کیا لے گاڈھلے گا دن تو ہر اک اپنا راستہ لے گا میں بجھ گیا تو ہمیشہ کو بجھ ہی جاؤں گاکوئی چراغ نہیں ہوں کہ پھر جلا لے گا

میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا Read More »

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتاآنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا تو چھوڑ رہا ہے تو خطا اس میں تری کیاہر شخص مرا ساتھ نبھا بھی نہیں سکتا پیاسے رہے جاتے ہیں زمانے کے سوالاتکس کے لیے زندہ ہوں بتا بھی نہیں سکتا گھر ڈھونڈ رہے ہیں مرا راتوں

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا Read More »

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہےجو دل میں ہے اسے آنکھوں سے کہلانا ضروری ہے اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہےجو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خود مختاریوں کو کون سمجھائےکہاں سے بچ کے چلنا ہے کہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے Read More »

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسےتیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہےپہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے لاکھ تلواریں بڑھی آتی ہوں گردن کی طرفسر جھکانا نہیں آتا تو جھکائیں کیسے قہقہہ آنکھ کا برتاؤ بدل دیتا ہےہنسنے والے تجھے

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے Read More »