آؤ ہم بن جائیں تارے
کلام: چراغ حسن حسرت آؤ ہم بن جائیں تارےننھے ننھے پیارے پیارےدھرتی سے آکاش پہ جائیںچمکیں دمکیں ناچیں گائیںبادل آئے دھوم مچاتےلے کر کالے کالے چھاتےآؤ ہم بھی دھوم مچائیںان کے پَردوں میں چُھپ جائیںآؤ آنکھ مچولی کھیلیںمل کر سب ہمجولی کھیلیںلو گلزار شفق کا پُھولاڈالا آ کے دھنک نے جُھولاآؤ جُھولیں اور جُھلائیںان کے
آؤ ہم بن جائیں تارے Read More »