ظرف آزمانے شاہ کا جائینگے ایک دن
ظرف آزمانے شاہ کا جائینگے ایک دنزنجیرِ عدل ہم بھی ہلائیں گے ایک دن لوگو فضائے چرخِ ادب سے یہ رفتگاںلوحِ تخیّلات پہ ، آئیں گے ایک دن خود کو چھپائے گا وہ نگاہوں سے تا بہ کےاُس کے خیال و خواب پہ چھائیں گے ایک دن خاموش ہیں تو یہ نہ سمجھنا ، نہیں
ظرف آزمانے شاہ کا جائینگے ایک دن Read More »