MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ظرف آزمانے شاہ کا جائینگے ایک دن

ظرف آزمانے شاہ کا جائینگے ایک دنزنجیرِ عدل ہم بھی ہلائیں گے ایک دن لوگو فضائے چرخِ ادب سے یہ رفتگاںلوحِ تخیّلات پہ ، آئیں گے ایک دن خود کو چھپائے گا وہ نگاہوں سے تا بہ کےاُس کے خیال و خواب پہ چھائیں گے ایک دن خاموش ہیں تو یہ نہ سمجھنا ، نہیں

ظرف آزمانے شاہ کا جائینگے ایک دن Read More »

کیوں نہیں جاتے کبھی تم کوچہء دلدار میں

کیوں نہیں جاتے کبھی تم کوچہء دلدار میںکیا پریشانی ھے تم کو عشق کے اظہار میں مُعترف سارا زمانہ ہے تُمہارے عشق کاپھر بھلا کیسا تامُل ہے تُمیں اقرار میں اُن کی آنکھیں برملا اقرار کرتی ہیں مگرکس قدر لزّت چھُپی ہے ان کے اس انکار میں تُم نہ مانو اور منائے کوئی تُم کو

کیوں نہیں جاتے کبھی تم کوچہء دلدار میں Read More »

کیا ہُوا جانے کیسا سِتم ہو گیا

کیا ہُوا جانے کیسا سِتم ہو گیااُس کااشکوں سے چہرہ جونم ہوگیا جس کی باتوں کا کوئی بھروسہ نہیںسب کی نظروں میں وہ محترم ہو گیا غم کے بادل مِرے سر سے چھَٹنےلگےمُجھ پہ رب کا کُچھ ایسا کَرَم ہو گیا عشق لیجئے مرے دوستو قلبِ شاںپھول میں بو کی مانند ضم ہو گیا مِٹ

کیا ہُوا جانے کیسا سِتم ہو گیا Read More »

اپنے الفاظ مُشک بُو کیجے

اپنے الفاظ مُشک بُو کیجےاور پھر اُن سے گُفتگو کیجے خواہشوں کو نہ دیجے دل میں جگہمت کسی شے کی آرزو کیجے حیثیت سنگِ میل ہو جن کیاُن سے ملنے کی جُستجُو کیجے لوگ پتھر لیے نکل آئیںیوں بھی رسوا نہ کُو بہ کُو کیجیے بات ہو جس میں معرفت والیپیش وہ جام وہ سبو

اپنے الفاظ مُشک بُو کیجے Read More »

ظلمتِ کفر ، لوگو مٹاتے چلو

ظلمتِ کفر ، لوگو مٹاتے چلوقلب کو نور سے جگمگاتے چلو جس قدر خار ہیں وہ اٹھاتے چلوراستوں کو گُلوں سے سجاتے چلو دید کی تشنگی کی تو ہے بات اورتشنگی روح کی بھی مٹاتے چلو بس ہو زکر نبی دل یہ بے تاب ہےہم کو آقا کی باتیں سناتے چلو عاصیوں کی اگر ہو

ظلمتِ کفر ، لوگو مٹاتے چلو Read More »

کہتی ہوں سدا نعت میں مولا کی عطا سے

کہتی ہوں سدا نعت میں مولا کی عطا سےملتی ہے تخیل کو جلا رب کی رضا سے روشن ہے مری فکر و نظر حمد و ثنا سےٹل جاتی ہے مشکل مری ہر ایک، دعا سے شاداب رہے گا مرا گلزارِ تمناہے ربطِ مسلسل مرا طیبہ کی ہَوا سے محتاج کسی غیر کا ہونے نہ دیا

کہتی ہوں سدا نعت میں مولا کی عطا سے Read More »

تیرے در پر گُناہ گار آئے

تیرے در پر گُناہ گار آئےتیرے در پر ہیں شرمسار آئے کعبہ پر جب پڑی تھی پہلی نظراشک آنکھوں میں بے شُمار آئے یا الہیٰ ہو مُجھ پہ نظرِ کَرَممیرے گُلشن میں بھی بہار آئے میں حَرَم میں رہوں مِری یہ مجال ،آنکھ میں نیند کا خُمار آئے ؟ خوش نصیبی ہے کہ حَرَم میں

تیرے در پر گُناہ گار آئے Read More »

سب کو ربِّ غفور دیتا ہے

سب کو ربِّ غفور دیتا ہےہے وہ داتا ضرور دیتا ہے وہ ہی کیف و سُرور دیتا ہےوہ شرابِ طہور دیتا ہے غیر سے کیوں سوال کرتے ہو ؟رب سے مانگو ضرور دیتا ہے حمد اور نعت کی وہ محفل کورونق و رنگ و نُور دیتا ہے رب کا احسان ہے کہ وہ ہم کوعقل

سب کو ربِّ غفور دیتا ہے Read More »

یہ جو لوگوں میں ادب پارہ و فن بانٹتے ہیں

یہ جو لوگوں میں ادب پارہ و فن بانٹتے ہیںکیوں پسِ بزم رویوں سے چبھن بانٹتے ہیں بانٹتے پھرتے ہیں کیوں حبسِ مسلسل کا علاججب یہ بہروپئے ہر وقت گھٹن بانٹتے ہیں حرف باحرف یہ دیتے ہیں بہاروں کا ثبوتلفظ در لفظ خزاں واقعتاً بانٹتے ہیں ویسے رکھتی ہے زباں مرہمِ الماس ان کیویسے لہجوں

یہ جو لوگوں میں ادب پارہ و فن بانٹتے ہیں Read More »

احساس

ھر کہیں دور کلیسا میں بجا ہے ناقوس!پھر کہیں زلف کے سائے میں کھلی ہے انجیل!پھر نمیدہ ہوئی آنکھوں کی کوئی سوختہ جھیل!پھر کہیں نذر کے دھاگوں میں پھنسی ہے ناموس!آج کی رات کوئی غم سے ہوا ہے مانوسپھر کہیں ٹوٹ گئی شہرِ محبت کی فصیل!!عشق بھی جذب کے معنی میں ہوا ہے تحلیلآج کی

احساس Read More »