زندگی خواب کا منظر نہیں ہونے پائی
زندگی خواب کا منظر نہیں ہونے پائیآرزو کوئی مقدر نہیں ہونے پائی درمیاں کوئی نہ تھا پھر بھی مقابل اُس کےایک دیوار سی تھی در نہیں ہونے پائی اِس میں پھر اور سمایا نہ کوئی تیرے سوادل کی دریا بھی سمندر نہیں ہونے پائی اُس نے جب پھیر لیں مخمور نگاہیں ہم سےمحفلِ بادہ و
زندگی خواب کا منظر نہیں ہونے پائی Read More »