MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زندگی خواب کا منظر نہیں ہونے پائی

زندگی خواب کا منظر نہیں ہونے پائیآرزو کوئی مقدر نہیں ہونے پائی درمیاں کوئی نہ تھا پھر بھی مقابل اُس کےایک دیوار سی تھی در نہیں ہونے پائی اِس میں پھر اور سمایا نہ کوئی تیرے سوادل کی دریا بھی سمندر نہیں ہونے پائی اُس نے جب پھیر لیں مخمور نگاہیں ہم سےمحفلِ بادہ و

زندگی خواب کا منظر نہیں ہونے پائی Read More »

مدتوں سے تھا جو محرومِ تمنا جل گیا

مدتوں سے تھا جو محرومِ تمنا جل گیادل کا کیا شکوہ کریں دل تھا ہمارا جل گیا ایک قطرے کی طلب میں دیکھتے ہی دیکھتےسرخ لہریں ہوگیئں دریا کا دریا جل گیا باغ میں کلیاں چٹکتے ہی کچھ ایسی لُو چلیپھول کی آغوش میں شبنم کا قطرہ جل گیا دوست میرا تیری فرقت میں مرا

مدتوں سے تھا جو محرومِ تمنا جل گیا Read More »

ہست اور بود ہے کیا دائم و فانی کیا ہے

ہست اور بود ہے کیا دائم و فانی کیا ہےکوئ بتلاۓ مجھے میری کہانی کیا ہے میں نہیں ہوں تو یہ اک کربِ مسلسل کیوں ہےاور اگر ہوں مرے ہونے کی نشانی کیا ہے جسم میں مد و جزر بن کے لہو کی گردشموسمِ قریہِ جاں ضعف و جوانی کیا ہے درد والے تو سمجھتے

ہست اور بود ہے کیا دائم و فانی کیا ہے Read More »

میری سائیکل

چھوٹا سا میں چھوٹا سا دِلچھوٹی سی میری سائیکلدو سال پہلے میں نے جبپہلی جماعت پاس کییہ سائیکل انعام میںمجھ کو مِرے ابو نے دیاس سائیکل پر بیٹھ کرخود مدرسے جاتا ہوں میںہر روز امی کے لیےسَودا بھی لے آتا ہوںہو کر سوار اس پر کبھیمیں گھومتا ہوں لان میںدکھلاتا ہوں کرتب نئےجا کر کُھلے

میری سائیکل Read More »

صبح ہوا جب نور کا تڑکا

صبح ہوا جب نور کا تڑکاسو کر اٹھا اچھا لڑکا غسل کیا،پھر ناشتا کھایابستہ اپنی بغل دبایا پھر مکتب کا رستہ پکڑاراہ میں اس کو ملا اک مرغا مرغا بولا”آؤ کھیلیں”شور مچائیں اور ڈنٹر پیلیں لڑکا بولا”او بھائی مرغے!”کھیلنے کا یہ وقت نہیں ہے میں اب پڑھنے جاتا ہوںمرغا بولا”ککڑوں کڑوں” خیر سے پھر آگے

صبح ہوا جب نور کا تڑکا Read More »

گُڑیا

کبھی غُل مچاتی ہے گُڑیاہر اِک طرح سے دل لبھاتی ہے گُڑیا نہ پوچھو مزاج اس کا نازک ہے کتناذرا کچھ کہو ، منہ بناتی ہے گُڑیا وہ روئے تو میں چُپ کراتی ہوں اس کومیں روؤں تو مجھ کو ہنساتی ہے گُڑیا جو گھر میں کوئی غیر آئے تو فوراًدوپٹے سے منہ کو چھُپاتی

گُڑیا Read More »

آیا بسنت میلا

آیا بسنت میلامنّا پھرے اکیلا کچھ لوگ آرہے ہیںکچھ لوگ جا رہے ہیںکچھ دیکھتے ہیں میلامنّا پھرے اکیلا لوگوں کے پاس موٹرکرتی پھرے ہے ٹرٹرمنّے کے پاس ٹھیلامنّا پھرے اکیلا ابّا نے دی اِکنّیامّی نے دی اَدھّنیپیسا ملے نہ دھیلامنّا پھرے اکیلا کوئی مٹھائی کھائےکوئی چنے چبائےکھاتا ہے کوئی کیلامنّا پھرے اکیلا آتا نہیں ہے

آیا بسنت میلا Read More »

آؤ آؤ سیر کو جائیں

آؤ آؤ! سیر کو جائیں باغ میں جا کر شور مچائیں اُچھلیں کُودیں ناچیں گائیں آؤ، آؤ! سیر کو جائیں کالے کالے بادل آئےلہرائے اور سر پر چھائےمینھ برسے گا خوب نہائیںآؤ، آؤ! سیر کو جائیں کشتیاں لے کر کچھ کاغذ کیکوئی بڑی اور کوئی چھوٹیایک کے پیچھے ایک بہائیںآؤ، آؤ! سیر کو جائیں پتی

آؤ آؤ سیر کو جائیں Read More »

ہم تو سمجھ رہے تھے فقط تُو سراب تھا

Ham to samjh Rahay they faqt tu saraab tha غزل ہم تو سمجھ رہے تھے فقط تُو سراب تھاآنکھیں کھلی تو سارا فسانہ ہی خواب تھا شایان شان تیرے نہیں مل سکا سوالجس زاویے سے دیکھا تُجھے لاجواب تھا اس کی مہک ہے سانسوں میں اب بھی بسی ہوئیسارے سفر میں ایک ہی تازہ گلاب

ہم تو سمجھ رہے تھے فقط تُو سراب تھا Read More »

میرا خدا

ہے ہمیشہ مری خُدا پہ نظررات ہو، دن ہو، شام ہو کہ سحرنہ اُجالے میں ہے کسی کا ڈرنہ اندھیرے میں کوئی خوف و خطرکیونکہ میرا خدا ہے میرے ساتھ شام کا وقت یا سویرا ہوچاندنی ہو کہ گُھپ اندھیرا ہومینہ نے، آندھی نے، مجھ کو گھیرا ہولیکن پُر ہول، دل نہ میرا ہوکیونکہ میرا

میرا خدا Read More »