MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تری قدرتوں کا کمال ہوں مرے کوزہ گر

تری قدرتوں کا کمال ہوں مرے کوزہ گر میں سراپا حسن و جمال ہوں مرے کوزہ گر مرے پیچ و خم، مرے زاویوں میں جھلک تری ترے خال و خد کی مثال ہوں مرے کوزہ گر جو مچل رہے ہیں مدھر سے چنگ و رباب پر ترے زمزموں کی وہ تال ہوں مرے کوزہ گر

تری قدرتوں کا کمال ہوں مرے کوزہ گر Read More »

سہولت کار ہیں سب زندگی کے

سہولت کار ہیں سب زندگی کے مرے اشعار ہیں سب زندگی کے بجز ساقی نہیں کوئی مسیحا کہ ہم بیمار ہیں سب زندگی کے بجا ارشاد! ہے سب زندگی تک بجا سرکار! ہیں سب زندگی کے سرائے عارضی ہے جائے دنیا کرایہ دار ہیں سب زندگی کے ادب ملحوظ بر شہرِ خموشاں یہاں دربار ہیں

سہولت کار ہیں سب زندگی کے Read More »

دوستوں کو بہم نہیں ہوتا

دوستوں کو بہم نہیں ہوتا آدمی محترم نہیں ہوتا میرے پندار کا تقاضا ہے سرِ تسلیمِ خم نہیں ہوتا موت نے بارہا تسلی دی خوف جینے کا کم نہیں ہوتا سرحدیں ہیں زمین کی قسمت آسماں منقسم نہیں ہوتا آپ سے دوستی ہے ناممکن تیل پانی میں ضم نہیں ہوتا درد بے شکل سی وہ

دوستوں کو بہم نہیں ہوتا Read More »

چشمِ دل گیر منتظر ہے مری

چشمِ دل گیر منتظر ہے مری پھر کوئی ہیر منتظر ہے مری اس لئے گھر کو لوٹ آؤں گا اس کی تصویر منتظر ہے مری پھر بکھرنے کو ہیں عناصرِ جاں ضرب و تکسیر منتظر ہے مری آ رہی ہے صدائے چھن چھن چھن کوئی زنجیر منتظر ہے مری گھاؤ سینے کے بھر گئے شاید

چشمِ دل گیر منتظر ہے مری Read More »

بحورِ زمزمہ و سالم و خفیف اندر

بحورِ زمزمہ و سالم و خفیف اندر غزل بہ شرط قوافی ملیں ردیف اندر ‌ کچھ ایسے برسرِ جنگاہ مَیں شہید ہوا اٹھی ہے سرکشی اک، لشکرِ حریف اندر ‌ نہ راس آئی سیاحت ربیعِ گلشن کی چبھی ہے پھانس دلِ بلبلِ خریف اندر ‌ ہے اسکا حسنِ فسوں کار ماورائے نمود ہزاروں سحر ہیں

بحورِ زمزمہ و سالم و خفیف اندر Read More »

جا بہ جا اور کہیں کہیں مجھ میں

جا بہ جا اور کہیں کہیں مجھ میں تو ھی تو مجھ مِیں، مَیں نہیں مجھ میں میں ھوں تنہائیوں کا اک جنگل ھر سُو پرچھائیاں رھیں مُجھ میں لامکاں اور مکاں سے کیا مطلب کوئی رھتا ھے جب یہیں مُجھ میں خود کو خود بھی نظر نہیں آیا اتنی تاریکیاں رھیں مُجھ میں –

جا بہ جا اور کہیں کہیں مجھ میں Read More »

پرتوِ عکاس تھا وہ ، میں نہ تھا

پرتوِ عکاس تھا وہ ، میں نہ تھا آئینوں کو راس تھا وہ ، میں نہ تھا میری پرچھائیں جسے سمجھے تھے لوگ کوئی میرے پاس تھا ، وہ میں نہ تھا جو سپردِ خاک کر آئے ہو تم ہڈیاں اور ماس تھا ، وہ میں نہ تھا اہلِ دل کو تشنگئ غم کہاں اک

پرتوِ عکاس تھا وہ ، میں نہ تھا Read More »

گونگا بن کے پھرتا ہوں

گونگا بن کے پھرتا ہوں لوگ یہ سمجھے بہرا ہوں چپ رہتا ہوں دیکھ کے سب آنکھوں والا اندھا ہوں پہلے کھینچی کھال مری اب کہتے ہیں ننگا ہوں تگڑا ہوں تو رعب بھی ہے جھوٹا ہوں یا سچا ہوں ناخن بھی ہیں ٹینشن بھی اس پر ظلم کہ گنجا ہوں گالی کھا کر چپ

گونگا بن کے پھرتا ہوں Read More »

تعصبات میں لپٹے ہوئے شرارے لوگ

تعصبات میں لپٹے ہوئے شرارے لوگ کم آشنائے مروت ، زباں کے کھارے لوگ نہ جانے کون سا دریا ہے یہ تفاوت کا اکیلا میں ہوں ادھر ، اس طرف ہیں سارے لوگ ہرا سکی نہ جنہیں مفلسی زمانوں کی مرے ہیں ناگہاں سیلاب میں ہمارے لوگ خدا اتر کے کبھی خود زمیں پہ کب

تعصبات میں لپٹے ہوئے شرارے لوگ Read More »

جگنو، ہلال، شمس، ستارے لگے چراغ

جگنو، ہلال، شمس، ستارے لگے چراغ بے نور ساعتوں کو سجانے لگے چراغ وارفتگئ شوق سے آشفتگی تلک دشتِ درونِ ذات چمکنے لگے چراغ دیکھا عجیب ربط حیات و ممات میں روکی ہوا نے سانس تو جلنے لگے چراغ پھیلا ہے روشنی کا دھواں طاق طاق میں یہ کیسی تیرگی سی اگلنے لگے چراغ کوئے

جگنو، ہلال، شمس، ستارے لگے چراغ Read More »