MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دو شادیاں تو کی ہیں مگر کچھ نہ پوچھیے

دو شادیاں تو کی ہیں مگر کچھ نہ پوچھیےکشتی پھنسی ہے بیچ بھنور کچھ نہ پوچھیے کس کی نحوستوں سے گلستاں اجڑ گیابے برگ کیوں ہے شاخِ شجر کچھ نہ پوچھیے اس کی نظر میں میرا جنوں تھا اسی لیےپختہ لحد کو کردیا گھر کچھ نہ پوچھیے دنیا کا ہو سفر کہ سفر آخرت کا

دو شادیاں تو کی ہیں مگر کچھ نہ پوچھیے Read More »

اپنے آنگن میں ہی جی غیر کے باغوں پہ نہ جا

اپنے آنگن میں ہی جی غیر کے باغوں پہ نہ جاروشنی کم ہے تو مانگے کے چراغوں پہ نہ جا میری مسکان سمجھ لے تو یہی کافی ہےتو میرے زخم نہ گن قلب کے داغوں پہ نہ جا وہ جو غیور ہیں غربت کو چھپا رکھتے ہیںان کی مجبوری سمجھ اور سراغوں پہ نہ جا

اپنے آنگن میں ہی جی غیر کے باغوں پہ نہ جا Read More »

سب نہیں کچھ بش کی صورت میں نمایاں ہو گئیں

سب نہیں کچھ بش کی صورت میں نمایاں ہو گئیںباقی ساری جھاڑیاں نظروں سے پنہاں ہو گئیں چوتھی شادی کرتے ہی وہ چار کاندھوں پر چلامشکلیں اتنی پڑیں اس پر کہ آساں ہو گئیں یونہی نا انصافیاں ہوتی رہیں تو ایک دندیکھنا ان بستوں کو تم جو ویراں ہو گئیں ہاتھ اس کا دیکھنے کی

سب نہیں کچھ بش کی صورت میں نمایاں ہو گئیں Read More »

تیرے جوبن پہ بی جنات کا سایہ ہوجائے

تیرے جوبن پہ بی جنات کا سایہ ہوجائےتیرا جوبن نہ ہو وہ تیرا پرایا ہوجائے اپنے جوبن پہ نہ اٹھلا نہ تو اترا اتنیکہیں ایسا نہ ہو جوبن ترا گدلا ہوجائے ٹوٹی پھوٹی سی عمارت ہو ترا سارا بدنیہ مٹکتا سا ترا جسم کباڑا ہوجائے آئیں رشتے ترے بھوتوں کے پریتوں کے کئیجو موالی ہو

تیرے جوبن پہ بی جنات کا سایہ ہوجائے Read More »

اے ربِ ذوالجلال سخن کو کمال دے

اے ربِ ذوالجلال سخن کو کمال دےمیری عبادتوں کو تو حسن و جمال دے مشکل کشا جہاں میں ہمارا ہے صرف توجتنی بھی مشکلیں ہیں انہیں جلد ٹال دے مایوسیوں کا سیلِ رواں ہے عروج پرہم کو قناعتوں کے سمندر میں ڈال دے ہم ہیں گناہگار مگر تو رحیم ہےان ذلتوں کے غار سے ہم

اے ربِ ذوالجلال سخن کو کمال دے Read More »

اتنی شمعیں جل رہی ہیں بزم میں

اتنی شمعیں جل رہی ہیں بزم میں تیری جانب دیکھنا دشوار ہے بچیاں شمعیں جلاکے لائی ہیں ساتھ میں آشاؤں کی ملہار ہے سینکڑوں ہیں زندگی کے دائرے سب کے مرکز کا الگ معیار ہے زندگی میں جب ڈھلے گی شام غم زیست کہہ دے گی سفر تیار ہے تم بھی کس موسم میں آئے

اتنی شمعیں جل رہی ہیں بزم میں Read More »

زندگی میں جب ڈھلے گی شام غم

زندگی میں جب ڈھلے گی شام غم زیست کہہ دے گی سفر تیار ہے تم بھی کس موسم میں آئے ہو یہاں شہر میں اب خوف کی یلغار ہے آئینے میں دیکھ کر یاد آئے گا سانحے کا کون ذمے دار ہے جیتنے کی آرزو بھی کس لیے ایک غم تو اک خوشی تیار ہے

زندگی میں جب ڈھلے گی شام غم Read More »

حد سے بڑھ گیا میرا یہ ملال رستے میں

حد سے بڑھ گیا میرا یہ ملال رستے میں وقت چل گیا ہم سے ایک چال رستے میں یہ ہمارے اجڑے گھر اور نڈھال دیواریں بار بار کرتے ہیں کیوں سوال رستے میں ہجرتوں کے غم سارے اور یہ مریضِ دل ہو نہیں سکی بہتر دیکھ بھال رستے میں مٹ گئیں جو تصویریں جل گئے

حد سے بڑھ گیا میرا یہ ملال رستے میں Read More »

بار دگر

تحریر اے خیام اس ہوٹل کی بیٹھک بازی پر ہم میں سے ہر ایک کی اپنے والدین کے ہاتھوں گوشمالی ہو چکی تھی۔ میری باری سب سے آخر میں آئی۔ پاپا نے گزرتے ہوئے اس ہوٹل کے سامنے میری گاڑی دیکھ لی تھی۔’’تمہیں شرم نہیں آتی۔ وہ کوئی بیٹھنے کی جگہ ہے۔ تم کسی اچھے

بار دگر Read More »

مشاعرہ کا بھی تفریح ایم ہوتا ہے

مشاعرہ کا بھی تفریح ایم ہوتا ہےمشاعرہ میں بھی کرکٹ کا گیم ہوتا ہے وہاں جو لوگ کھلاڑی ہیں وہ یہاں شاعریہاں جو صدر نشیں ہے وہاں ہے امپائر وہاں پہ شرط کہ ہو زور بازوئے محمودیہاں یہ قید کہ ہو لحن حضرت داؤد وہاں تمدن مشرق کی موت کا غم ہےیہاں ادب کے جنازہ

مشاعرہ کا بھی تفریح ایم ہوتا ہے Read More »