کوئی جگنو کوئی دیپک کرن ہو یا ستارہ ہو
کوئی جگنو کوئی دیپک کرن ہو یا ستارہ ہو سفر میں رات آ پہنچی کوئی تو اب ہمارا ہو کسی کے عشق کا نغمہ ہمارے لب پہ بھی گونجے کوئی تو نام لے کر اب ہمارا بھی پکارا ہو کسی کے ہاتھ ایسے ہوں جو مجھ کو تھام سکتے ہوں مجھے ہر ایک لغزش پر
کوئی جگنو کوئی دیپک کرن ہو یا ستارہ ہو Read More »