MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کوئی جگنو کوئی دیپک کرن ہو یا ستارہ ہو

کوئی جگنو کوئی دیپک کرن ہو یا ستارہ ہو سفر میں رات آ پہنچی کوئی تو اب ہمارا ہو کسی کے عشق کا نغمہ ہمارے لب پہ بھی گونجے کوئی تو نام لے کر اب ہمارا بھی پکارا ہو کسی کے ہاتھ ایسے ہوں جو مجھ کو تھام سکتے ہوں مجھے ہر ایک لغزش پر

کوئی جگنو کوئی دیپک کرن ہو یا ستارہ ہو Read More »

ﺍﺳﯿﺮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺁﺏ ﻭ ﮨــــــــﻮﺍ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﻮ

ﺍﺳﯿﺮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺁﺏ ﻭ ﮨــــــــﻮﺍ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﺮﺍ ﺣﺠﺎﺏ ﺳﻠﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺣﺪﺕ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﮐﮩﻮ ﺯﺍﻭﯾـــــــﮧ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻧﻘﺶ ﻗﺪﻡ ﭼﻮﻣﻨﮯ ﮐﻮ ﻧﮑﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﻮ ﮨﺰﺍﺭ ﺯﺧﻢ ﺳﮩﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﮩﯽ ﺳــــــــﻮﭼﺎ

ﺍﺳﯿﺮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺁﺏ ﻭ ﮨــــــــﻮﺍ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﻮ Read More »

آنکھوں کی دہلیز پہ ٹھہرا دریا دینے والی تھی

آنکھوں کی دہلیز پہ ٹھہرا دریا دینے والی تھی داسی تھی اور دان میں اپنا صدقہ دینے والی تھی تم نے بڑھ کر روک لیا ہےمیرا رستہ ورنہ میں تم پہ وار کے سچ مچ ساری دنیا دینے والی تھی اس بھائ نے چھین کے بیچے میرے چند نوالے بھی جس کو میں کھلیان سے

آنکھوں کی دہلیز پہ ٹھہرا دریا دینے والی تھی Read More »

رائیگاں دھوپ کا منظر نہیں ہونے دوں گی

رائیگاں دھوپ کا منظر نہیں ہونے دوں گی میں کبھی آنکھ کو بنجر نہیں ہونے دوں گی میں نے سیکھا ہے ترے عشق میں ، یہ خاص طلسم. مڑ کے دیکھو گے ، تو پتھر نہیں ہونے دوں گی! ایمان قیصرانی

رائیگاں دھوپ کا منظر نہیں ہونے دوں گی Read More »

خدا کرے نہ. رلائیں تمہیں ہمارے دکھ۔

خدا کرے نہ. رلائیں تمہیں ہمارے دکھ۔ ابھی نصیب میں باقی ہیں کتنے سارے دکھ خوشی کی بات تو چھوڑو کہ اس محبت میں میں چوم چوم کے رکھتی رہی تمہارے دکھ ہمارا عشق وفائیں غزل کتابیں تم تمہارا عشق سزائیں جفا خسارے دکھ

خدا کرے نہ. رلائیں تمہیں ہمارے دکھ۔ Read More »

بس ایک بار مرے ساتھ گھر گیا سورج

بس ایک بار مرے ساتھ گھر گیا سورجپھر اسکے بعداندھیروں سےڈر گیاسورج نجانے کون سی خفت اٹھائے پھرتا تھا سنا ہے شام کی چوکھٹ پہ مر گیا سورج۔ ایمان قیصرانی

بس ایک بار مرے ساتھ گھر گیا سورج Read More »

یہ زخم ہیں کہ پھول ہیں یہ زہر ہیں کہ جام ہیں

یہ زخم ہیں کہ پھول ہیں یہ زہر ہیں کہ جام ہیں مگر یہ میرے شعر اب فقط تمہارے نام ہیں نہ تم سے ہو کہ مل سکو نہ مجھ سے ہو کہ وقت دوں تمہیں بھی کتنے کام ہیں ، مجھے بھی کتنے کام ہیں وہ مصلحت شناس تھا سو اس کا دوش کچھ

یہ زخم ہیں کہ پھول ہیں یہ زہر ہیں کہ جام ہیں Read More »

رو پڑی ہوں کہ زخم گہرا تــــــھا

رو پڑی ہوں کہ زخم گہرا تــــــھاورنہ آنکھوں پہ سخت پہــرا تھا میں تو سمجھی قبیلہ پیچھے ہے مُڑ کے دیکھا تو صرف صحرا تھا تیرے تحفےکی جوگھڑی تھی نا اُس پہ فرقت کا وقت ٹھہرا تھا میری چُنری کے رنگ پھیکے تھے اُس کی آنکھوں کا رنگ گہرا تھا جسکوپڑھنےپہ سخت پہرے تھے سطر

رو پڑی ہوں کہ زخم گہرا تــــــھا Read More »

یہ عجیب لذتِ درد تھی کہ جو آکے دل میں سما گئی

یہ عجیب لذتِ درد تھی کہ جو آکے دل میں سما گئی ترے آنسوﺅں کو سمیٹ کر میں تو جگنوﺅں میں نہا گئی مری پور پور میں بھر گئیں یہ عجیب نرم سی بجلیاں ترے اشک درد کی کہکشاں مرے ہاتھ پھر سے جلا گئی مجھے آج تک نہیں بھولتے ، تری چاہتوں کے وہ

یہ عجیب لذتِ درد تھی کہ جو آکے دل میں سما گئی Read More »