MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

احمد حسین مائل حیدرآباد دکن کے پرگو اور قادرالکلام شاعر،

احمد حسین مائل حیدرآباد دکن کے پرگو اور قادرالکلام شاعر، جنہوں نے نہایت سنگلاخ اور مشکل زمینوں میں شاعری کی آسماں کھائے تو زمین دیکھے دہن گور کا نوالا ہوں ڈاکٹر احمد حسین مائلؔ حیدرآباد دکن کے ایک نہایت نغز گو استاد شاعر تھے ۔ ڈاکٹر احمد حسین مائلؔ اپنے دور میں عربی، فارسی اور […]

احمد حسین مائل حیدرآباد دکن کے پرگو اور قادرالکلام شاعر، Read More »

کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواب

غزل کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواب اعمال نامہ کا تو ہے پیشانی پر جواب رک رک کے ہنس کے یوں ہی تو دے فتنہ گر جواب دیتا ہے اور لطف مجھے تیرا ہر جواب کس سے مثال دوں تری زلف دراز کو عمر‌ طویل خضر ہے اک مختصر جواب مشکل کے

کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواب Read More »

سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹ

غزل سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹ جو اس نے آئنہ دیکھا تو خود ہی کھائی چوٹ نظر لڑی جو نظر سے تو دل پر آئی چوٹ گرے کلیم سر طور ایسی کھائی چوٹ لبوں پہ بن گئی مسی جو دل پر آئی چوٹ جگہ بدل کے لگی کرنے خود نمائی چوٹ بڑے

سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹ Read More »

شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئے

غزل شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئے کبھی لپٹے بن کے وہ چاندنی کبھی چاند بن کے جدا ہوئے ہوئے وقت آخری مہرباں دم اولیں جو خفا ہوئے وہ ابد میں آ کے گلے ملے جو ازل میں ہم سے جدا ہوئے یہ الٰہی کیسا غضب ہوا وہ سمائے

شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئے Read More »

ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہم

غزل ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہم دیتے ہیں دل اک آفت جاں کو تھامے ہوئے ہاتھوں سے جگر ہم غیر کو گر وہ پیار کریں گے اپنے لہو میں ہوں گے تر ہم ڈال ہی دیں گے ان کے قدم پر کاٹ کر اپنے ہاتھ سے سر ہم صلح

ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہم Read More »

جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف

غزل جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف گردش میں چشم سحر فن ایک اس طرف ایک اس طرف عارض پہ زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف ہیں آج دو سورج گہن ایک اس طرف ایک اس طرف مطلب اشاروں سے کہا میں ان اشاروں کے فدا آنکھیں

جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف Read More »

وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذ

غزل وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذ ہیں دونوں بازو پہ اس کے ادھر ادھر تعویذ وہ ہم نہیں جو ہوں دیوانے ایسے کاموں سے کسے پلاتے ہو پانی میں گھول کر تعویذ اٹھے گا پھر نہ کلیجے میں میٹھا میٹھا درد اگر لکھے مرے دل پر تری نظر تعویذ کہاں

وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذ Read More »

کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کا

غزل کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کا روزہ نہ ٹوٹ جائے کسی روزہ دار کا ان کا وہ شوخیوں سے پھڑکنا پلنگ پر وہ چھاتیوں پہ لوٹنا پھولوں کے ہار کا حور آئے خلد سے تو بٹھاؤں کہاں اسے آراستہ ہو ایک تو کونا مزار کا شیشوں نے طرز اڑائی رکوع و قیام

کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کا Read More »

نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراب

غزل نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراب اک شمع بجھ گئی تو ہوئی انجمن خراب کیوں ڈالتا ہے خاک کہ ہوگا کفن خراب میں ہوں سفید پوش نہ کر پیرہن خراب جی میں یہ ہے کہ دل ہی کو سجدے کیا کروں دیر و حرم میں لوگ ہیں اے جان من خراب نازک

نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراب Read More »

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

غزل پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں آئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیں وصل کا لطف مجھے وصل سے پہلے ہی ملا جب کہا یار نے گھبرا کے یہ کیا کرتے ہیں اس قدر تھا مجھے الفت میں بھروسا ان پر کی جفا بھی تو یہ سمجھا کہ وفا

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں Read More »