دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق
غزل دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق کیا بتائیں پڑ گئی ہے پاؤں میں زنجیر عشق دیکھنے والے یہ کہتے ہیں کتاب دہر میں تو سراپا حسن کا نقشہ ہے میں تصویر عشق کوہ کن اور قیس مل جائیں تو میں ان سے کہوں لے گئے کیا ساتھ ہی قبروں میں […]
دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق Read More »