MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق

غزل دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق کیا بتائیں پڑ گئی ہے پاؤں میں زنجیر عشق دیکھنے والے یہ کہتے ہیں کتاب دہر میں تو سراپا حسن کا نقشہ ہے میں تصویر عشق کوہ کن اور قیس مل جائیں تو میں ان سے کہوں لے گئے کیا ساتھ ہی قبروں میں […]

دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق Read More »

کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تک

غزل کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تک رہے گا پیر یہ کب تک رہوگے تم جواں کب تک خداوندا انہیں کس دن شعور آئے گا دنیا کا رہیں گی بے پڑھی لکھی ہماری لڑکیاں کب تک پھرے گا اور کتنے دن خیالی پار گھوڑے پر اڑے گا شعر گوئی میں

کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تک Read More »

خدا کے فضل سے ہم حق پہ ہیں باطل سے کیا نسبت

غزل خدا کے فضل سے ہم حق پہ ہیں باطل سے کیا نسبت ہمیں تم سے تعلق ہے مہ کامل سے کیا نسبت مہ کنعاں کو میرے اس مہ کامل سے کیا نسبت زلیخا کے ملوث دل کو میرے دل سے کیا نسبت ہمہ کا رم زخود کامی بہ بدنامی کشید آخر کبھی میں نے

خدا کے فضل سے ہم حق پہ ہیں باطل سے کیا نسبت Read More »

بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں

غزل بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں یہ بھی ہے کوئی بات کبھی ہاں کبھی نہیں جس نے کچھ احتیاط جوانی میں کی نہیں عقل سلیم کہتی ہے وہ آدمی نہیں دل مانگو تو جواب ہے ان کا ابھی نہیں گویا ابھی نہیں کا ہے مطلب کبھی نہیں واعظ کو لعن طعن

بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں Read More »

محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا

غزل محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا میری طرف بھی بھول کے سرکار دیکھنا آغاز سبزہ سے ہے جو رخسار پر غبار اگلے برس اسے خط گل زار دیکھنا جب صرف گفتگو ہوں تو دیکھے انہیں کوئی منظور ہو جو ابر گہربار دیکھنا میں نے کہا کہ ہجر میں کچھ مشغلہ نہیں

محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا Read More »

مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچ

غزل مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچ ہائے لالچ ہے تو اک ماہ جبیں کا لالچ عشق بازی پہ سنا مجھ کو ملامت نہ کرو حیف ہے جس کو نہ ہو تم سے حسیں کا لالچ حالت قلب سر بزم بتاؤں کیوں کر پردۂ دل میں ہے اک پردہ نشیں کا

مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچ Read More »

کچھ طبیعت آج کل پاتا ہوں گھبرائی ہوئی

غزل کچھ طبیعت آج کل پاتا ہوں گھبرائی ہوئی شہر بھر میں ہے اداسی ہر طرف چھائی ہوئی ہائے رے غارت گر صبر و شکیبائی ہوئی وہ تری ترچھی نظر وہ آنکھ شرمائی ہوئی اے صبا چلتی ہے کیوں اس درجہ اترائی ہوئی کیا نہیں ہے تو وہی اس گل کی ٹھکرائی ہوئی وصل میں

کچھ طبیعت آج کل پاتا ہوں گھبرائی ہوئی Read More »

کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے

غزل کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے ابھی اس کی دنیا کو لذت نہیں ہے اگر تم کو ملنے کی فرصت نہیں ہے مجھے بھی زیادہ ضرورت نہیں ہے بہت خوش نما ہے گلستان عالم مگر سیر کرنے کی فرصت نہیں ہے بہت سے گھروں میں خزانے ہیں مدفوں نہیں ہے تو گنج قناعت

کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے Read More »

زمزمہ نالۂ بلبل ٹھہرے

غزل زمزمہ نالۂ بلبل ٹھہرے میں جو فریاد کروں غل ٹھہرے نغمۂ کن کے کرشمے دیکھو کہیں قم قم کہیں قلقل ٹھہرے جال میں کاتب اعمال پھنسیں دوش پر آ کے جو کاکل ٹھہرے رات دن رہتی ہے گردش ان کو چاند سورج قدح مل ٹھہرے میرا کہنا ترا سننا معلوم جنبش لب ہی اگر

زمزمہ نالۂ بلبل ٹھہرے Read More »

روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغ

غزل روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغ کیا نہیں انساں کی گردن پر دھواں بتی چراغ کچھ نہ پوچھو زاہدوں کے باطن و ظاہر کا حال ہے اندھیرا گھر میں اور باہر دھواں بتی چراغ دود‌ افغان و رگ جان و سویدا دل میں ہے بند ہے قندیل کے اندر دھواں بتی چراغ

روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغ Read More »