MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیا

غزل چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیا چلمن تو بیچ میں ہے اشارے ہوئے تو کیا بوسہ دہی کا لطف ملا حسن بڑھ گیا رخسار لال لال تمہارے ہوئے تو کیا بے پردہ منہ دکھا کے مرے ہوش اڑاؤ تم پردے کی آڑ سے جو نظارے ہوئے تو کیا مجھ کو کڑھا […]

چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیا Read More »

بہار تیندو ہریش چندر ہندی کی تجدید نو کے مبلغ ، اردو کے واحد شاعر

بہار تیندو ہریش چندر ہندی کی تجدید نو کے مبلغ ، اردو کے واحد شاعر دید ہندی ادب کا معمار اردو کا ہی ایک شاعر تھا۔ اسی نے جدید نثر کو نیا رنگ و آہنگ اور طرز اسلوب عطا کیا تھا۔ اس کے نام سے ہندی ادب کا ایک عہد بھی منسوب ہے۔ اس شخصیت

بہار تیندو ہریش چندر ہندی کی تجدید نو کے مبلغ ، اردو کے واحد شاعر Read More »

پھر مجھے لکھنا جو وصف روئے جاناں ہو گیا

غزل پھر مجھے لکھنا جو وصف روئے جاناں ہو گیا واجب اس جا پر قلم کو سر جھکانا ہو گیا سرکشی اتنی نہیں ظالم ہے او زلف سیہ بس کہ تاریک اپنی آنکھوں میں زمانہ ہو گیا دھیان آیا جس گھڑی اس کے دہان تنگ کا ہو گیا دم بند مشکل لب ہلانا ہو گیا

پھر مجھے لکھنا جو وصف روئے جاناں ہو گیا Read More »

بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئی

غزل   بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئی افسوس اے قمر کہ نہ مطلق خبر ہوئی ارمان وصل یوں ہی رہا سو گئے نصیب جب آنکھ کھل گئی تو یکایک سحر ہوئی دل عاشقوں کے چھد گئے ترچھی نگاہ سے مژگاں کی نوک دشمن جانی جگر ہوئی پچھتاتا ہوں کہ آنکھ عبث

بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئی Read More »

دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھا

غزل دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھا اے شعلہ رخو آگ لگانا نہیں اچھا کس گل کے تصور میں ہے اے لالہ جگر خوں یہ داغ کلیجے پہ اٹھانا نہیں اچھا آیا ہے عیادت کو مسیحا سر بالیں اے مرگ ٹھہر جا ابھی آنا نہیں اچھا سونے دے شب وصل غریباں ہے ابھی سے

دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھا Read More »

آ گئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیا

غزل آ گئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیا اے فلک کیا کیا ہمارے دل میں ارماں رہ گیا باغباں ہے چار دن کی باغ عالم میں بہار پھول سب مرجھا گئے خالی بیاباں رہ گیا اتنا احساں اور کر للہ اے دست جنوں باقی گردن میں فقط تار گریباں رہ گیا یاد

آ گئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیا Read More »

دشت پیمائی کا گر قصد مکرر ہوگا

غزل دشت پیمائی کا گر قصد مکرر ہوگا ہر سر خار پئے آبلہ نشتر ہوگا مے کدے سے ترا دیوانہ جو باہر ہوگا ایک میں شیشہ اور اک ہاتھ میں ساغر ہوگا حلقۂ چشم صنم لکھ کے یہ کہتا ہے قلم بس کہ مرکز سے قدم اپنا نہ باہر ہوگا دل نہ دینا کبھی ان

دشت پیمائی کا گر قصد مکرر ہوگا Read More »

خیالِ ناوک مژگاں میں بس ہم سر پٹکتے ہیں

غزل خیالِ ناوک مژگاں میں بس ہم سر پٹکتے ہیں ہمارے دل میں مدت سے یہ خار غم کھٹکتے ہیں رخ روشن پہ اس کی گیسوئے شب گوں لٹکتے ہیں قیامت ہے مسافر راستہ دن کو بھٹکتے ہیں فغاں کرتی ہے بلبل یاد میں گر گل کے اے گلچیں صدا اک آہ کی آتی ہے

خیالِ ناوک مژگاں میں بس ہم سر پٹکتے ہیں Read More »

عجب جوبن ہے گل پر آمد فصل بہاری ہے

غزل عجب جوبن ہے گل پر آمد فصل بہاری ہے شتاب آ ساقیا گل رو کہ تیری یادگاری ہے رہا کرتا ہے صیاد ستم گر موسم گل میں اسیران قفس لو تم سے اب رخصت ہماری ہے کسی پہلو نہیں آرام آتا تیرے عاشق کو دل مضطر تڑپتا ہے نہایت بے قراری ہے صفائی دیکھتے

عجب جوبن ہے گل پر آمد فصل بہاری ہے Read More »

اسیران قفس صحن چمن کو یاد کرتے ہیں

غزل اسیران قفس صحن چمن کو یاد کرتے ہیں بھلا بلبل پہ یوں بھی ظلم اے صیاد کرتے ہیں کمر کا تیرے جس دم نقش ہم ایجاد کرتے ہیں تو جاں فرمان آ کر معنی و بہزاد کرتے ہیں پس مردن تو رہنے دے زمیں پر اے صبا مجھ کو کہ مٹی خاکساروں کی نہیں

اسیران قفس صحن چمن کو یاد کرتے ہیں Read More »