MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیں

غزل پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیں مگر داغ جگر پر صورت لالہ لہکتے ہیں نصیحت ہے عبث ناصح بیاں ناحق ہی بکتے ہیں جو بہکے دخت رز سے ہیں وہ کب ان سے بہکتے ہیں کوئی جا کر کہو یہ آخری پیغام اس بت سے ارے آ جا […]

پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیں Read More »

فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیں

غزل فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیں خدائی اپنے میں پا چکے ہیں مجھے گلے یہ لگا چکے ہیں نہیں نزاکت سے ہم میں طاقت اٹھائیں جو ناز حور جنت کہ ناز شمشیر پر نزاکت ہم اپنے سر پر اٹھا چکے ہیں نجات ہو یا سزا ہو میری ملے جہنم کہ

فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیں Read More »

ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا

غزل ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا وہ صبح کو ہے یار مرا شام کسی کا اس ہستئ موہوم میں ہرگز نہ کھلی چشم معلوم کسی کو نہیں انجام کسی کا اتنا کوئی کہہ دے کہ مرا یار کہاں ہے باللہ میں لینے کا نہیں نام کسی کا ہونے دے مرا چاک گریباں

ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا Read More »

دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیں

غزل دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیں دشت میں ناقۂ لیلیٰ کا گزر ہے کہ نہیں وا اگر چشم نہ ہو اس کو نہ کہنا پی اشک یہ خدا جانے صدف بیچ گہر ہے کہ نہیں ایک نے مجھ کو ترے در کے اپر دیکھ کہا غیر اس در کے تجھے اور

دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیں Read More »

اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کا

غزل اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کا مر گیا آخر کو یہ طالب ترے دیدار کا کیا بنائے خانۂ عشاق بے بنیاد ہے ڈھل گیا سر سے مرے سایہ تری دیوار کا روز بہ ہوتا نظر آتا نہیں یہ زخم دل دیکھیے کیا ہو خدا حافظ ہے اس بیمار کا نو ملازم لعل

اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کا Read More »

دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کا

غزل دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کا تیرے مجنوں کو کہاں پاس ہے رسوائی کا برگ گل سے بھی کم اب کوہ غم اس نے جانا یہ بھروسا تو نہ تھا دل کی توانائی کا کیجیے چاک گریباں کو بہار آئی ہے ذکر بے لطف ہے یاں صبر و شکیبائی کا سرو

دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کا Read More »

ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے

غزل ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے دنیا میں الٰہی کوئی بدنام نہ ہووے شمشیر کوئی تیز سی لینا مرے قاتل ایسی نہ لگانا کہ مرا کام نہ ہووے گر صبح کو میں چاک گریبان دکھاؤں اے زندہ دلاں حشر تلک شام نہ ہووے آتا ہے مری خاک پہ ہم راہ رقیباں یعنی

ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے Read More »

بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے

غزل بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے دامن وصل بھی آلودۂ مایوسی ہے ہے کہاں بوئے وفا اس دہن شیریں میں غنچہ لب تیری زباں ہم نے بہت چوسی ہے یار گو خون مرا مثل حنا ہو پامال لیکن اپنے تئیں منظور قدم بوسی ہے دل مرا خاک شگفتہ ہو چمن میں جا کر گل

بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے Read More »

عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہے

غزل عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہے ایک میں آپ ہوں یا گوشۂ تنہائی ہے دل تو رکتا ہے اگر بند قبا باز نہ ہو چاک کرتا ہوں گریباں کو تو رسوائی ہے طاقت ضبط کہاں اب تو جگر جلتا ہے آہ سینہ سے نکل لب پہ مرے آئی ہے میں تو وہ

عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہے Read More »

بہار آئی ہے سوتے کو ٹک جگا دینا

غزل بہار آئی ہے سوتے کو ٹک جگا دینا جنوں ذرا مری زنجیر کو ہلا دینا ترے لبوں سے اگر ہو سکے مسیحائی تو ایک بات میں جیتا ہوں میں جلا دینا اب آگے دیکھیو جیتوں نہ جیتوں یا قسمت مری بساط میں دل ہے اسے لگا دینا رہوں نہ گرمیٔ مجلس سے میں تری

بہار آئی ہے سوتے کو ٹک جگا دینا Read More »