MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ایک در اور دستکوں کا سلسلہ دونوں طرف – Aik dar or dastakon ka silsila dono taraf

ایک در اور دستکوں کا سلسلہ دونوں طرف کون ہے جاکر مجھے کہنا پڑا دونوں طرف بارہا زنجیر نےکھلنے کی کوشش خود بھی کی بارہا اک ہاتھ بڑھ کر رک گیا دونوں طرف گرچہ دونوں آنگنوں کے در مقفل تھے مگر لاتی لیجاتی رہی خوشبو ہوا دونوں طرف اس لیے بھی ہجر لازم ہو گیا

ایک در اور دستکوں کا سلسلہ دونوں طرف – Aik dar or dastakon ka silsila dono taraf Read More »

دے ہی دیں گے مری بستی کے مکیں میرے بعد – Dy bhi denge meri basti ky makeen mere baad

دے ہی دیں گے مری بستی کے مکیں میرے بعد میرے حصے میں جو آئے گی زمیں میرے بعد نام پھر یونہی نہیں میں نے پکارا اس کا اس نے پوچھا ہے کوئی اور حسیں میرے بعد؟ وہ یہی سوچ کے لڑتا رہا بےجگری سے اس قبیلے میں جواں کوئی نہیں میرے بعد غیر معروف

دے ہی دیں گے مری بستی کے مکیں میرے بعد – Dy bhi denge meri basti ky makeen mere baad Read More »

جب سے باندھا ہے ترے عشق کی زنجیر سے دل – Jab se bandha hai ishq ki zanjeer se dil

جب سے باندھا ہے ترے عشق کی زنجیر سے دلاب سنبھلتا ہی کہاں ہے کسی تدبیر سے دل عکس نے تیرے طلب اور زیادہ کر دی میں یہ سمجھا تھا بہل جائے گا تصویر سے دل ہم پہ شمشیر سے تسخیر کی تدبیر نہ کر دل سے کشمیر نکالیں گے نہ کشمیر سے دل شعبدہ

جب سے باندھا ہے ترے عشق کی زنجیر سے دل – Jab se bandha hai ishq ki zanjeer se dil Read More »

مصلحت کا دھاگہ

Maslehat Ka Dhaga نظم مصلحت کے دھاگے نےہونٹ جب سیے میرےتو میری سماعت کو اور مری بصارت کومصلحت کے دھاگے نے قوتیں عطا کردیںجس نے مجھ کو دکھلائیں رات کے اندھیروں کیایسی ایسی تصویریں ایسی ایسی تحریریںجن کو دیکھ کر پڑھ کر خود پہ ہنس رہا ہوں میںاور میرے کانوں میں جو سماعتیں آئیںان سماعتوں

مصلحت کا دھاگہ Read More »

گهیرے ہوئے رہتے ہیں یہ بد ذات ستمگر

Gheeray Hoyee Rehtay Hain Yeh Bad zaat sitamgar غزل گهیرے ہوئے رہتے ہیں یہ بد ذات ستمگردر پردہ خیالات کے خطرات ستمگر ہم جیسے کہاں جائیں کہاں سر کو چهپائیںتهمتی ہی نہیں درد کی برسات ستمگر کہنے کوتو سیراب تخیل کی زمیں ہےپرخار کیے جاتے ہیں حالات ستمگر اک ہجر ہی کیا کم تها کہ

گهیرے ہوئے رہتے ہیں یہ بد ذات ستمگر Read More »

کام آئے تھے اک روز مصیبت میں کسی کی

Kaam Aayee They Ik Roz Museebat Main Kissi Kay غزل کام آئے تھے اک روز مصیبت میں کسی کیرکھے گئے پھر ہم بھی تجارت میں کسی کی ہم نے تو محبت کو محبت ہی لکھا تھالکھی تھی مگر ہم نے یہ قسمت میں کسی کی اس دل نے کشیدے ہیں فقط رنج و الم ہیصدمات

کام آئے تھے اک روز مصیبت میں کسی کی Read More »

خمیرِ خاک میں ذرہ سا یہ ملا کیسا

Khameer e Khaak Main Zarra Sa Yeh Milla Kaisa غزل خمیرِ خاک میں ذرہ سا یہ ملا کیساتھما دیا ہے مجھے جس نے آئینہ کیسا یہ ذکر چھیڑا ہے تونے اے دلربا کیسادکھا رہا ہے سرِ بزم آئینہ کیسا جو مجھ پہ گزرے گی گزرے گی دل پہ سہہ لوں گیمیں خود کو چھوڑ کے

خمیرِ خاک میں ذرہ سا یہ ملا کیسا Read More »

ترا جمــــال ترا خــد و خــال جو بهی ہو

Tra Jamaal Tra Khad o Khaal Jo bhi Ho غزل ترا جمــــال ترا خــد و خــال جو بهی ہومحبتـــوں مـیں اذانِ بلال جـــو بهی ہو کریں گے سجدہ ء شکراں ادا عقیدت سےاب اس لگن.میں سرے بزم حال جو بهی ہو بروزِ حــــشر ســـزا و جزا بهی دیکهیں گےابهی تو دل سے بهلا تو مــــلال

ترا جمــــال ترا خــد و خــال جو بهی ہو Read More »

نام لکهتے ہی خدا کا آسمانی رنگ سے

Naam Likhty Hi Khuda ka Aasmani Rang Say غزل نام لکهتے ہی خدا کا آسمانی رنگ سےزندگی کٹنے لگی میری بہت ہی ڈهنگ سے ہار جانا عشق میں ہی عشق کی معراج ہےکچھ نہی ملتا کسی کو یاد رکهنا جنگ سے منزلیں ملتی ہیں ان کو جو رہیں ثابت قدمہمتوں سے ہارتے ہیں راستے یہ

نام لکهتے ہی خدا کا آسمانی رنگ سے Read More »

جو تری مجھ پہ مہربانی ھے

Jo Tri Mujh Pa Mehrbaani Hay غزل جو تری مجھ پہ مہربانی ھےاس کی پوشیدہ اک کہانی ھے مندمل ہوں تو زخم کیسے ہوںان پہ جو غم کی حکمرانی ھے ھو گیا پاش پاش ٹکرا کےتو نے پتھر سے کیسی ٹھانی ھے خاک گلیوں کی اس سے ھے بہترہائے یہ کیسی ہائے رانی ہے رنج

جو تری مجھ پہ مہربانی ھے Read More »