MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہم طرفدارِ محبت ہیں زمانے کے نہیں – Ham tar fidar e muhabbat hain zamane ke nahi

ہم طرفدارِ محبت ہیں زمانے کے نہیں زندگی فالتو کاموں میں اُڑانے کے نہیں ابر گل تو کہ بڑی دور ہے کشتِ جاں سے خار و خس ہم بھی بحر حال اُگانے کے نہیں خوب سے خوب تر اپنا ہے سفر لیکن ہم چاند کا سُن کے چراغوں کو بجھانے کے نہیں ہم نئے دور

ہم طرفدارِ محبت ہیں زمانے کے نہیں – Ham tar fidar e muhabbat hain zamane ke nahi Read More »

اپنا نام و نشان کھونے لگے – Apna naam o nishan khonay lagay

اپنا نام و نشان کھونے لگے یعنی ہم اور تم سمونے لگے کوزہ گر تیرے ہاتھ کا جادو جو بھی دیکھے بدن بھگونے لگے ہائے اُس ناؤ کی سیہ بختی ناخدا خود جسے ڈبونے لگے کیا مزہ ہو جو ایک دم ہر کام بمطابق خیال ہونے لگے تشنگی وہ کہ اپنی شدّت سے حلق میں

اپنا نام و نشان کھونے لگے – Apna naam o nishan khonay lagay Read More »

جنوں کی بستی میں آ گۓ ہو ذرا سنبھل کے – Jinon ki basti main agae ho zra sambhal ke

جنوں کی بستی میں آ گۓ ہو ذرا سنبھل کے نۓ نۓ تم یہاں بسے ہو ذرا سنبھل کے یہ کوۓ دل ہے جدھر بھی جاٶ اُداسیاں ہیں ہنسی خوشی میں پلے بڑھے ہو ذرا سنبھل کے نہ ایک تھے ہم, نہ ایک ہیں, اور نہ ایک ہوں گے یہ بات کیا تم بھی جانتے

جنوں کی بستی میں آ گۓ ہو ذرا سنبھل کے – Jinon ki basti main agae ho zra sambhal ke Read More »

زندگی جب تری حدت کا گماں ہوتا ہے – Zindagi jab teri hadat ka guman hota hai

زندگی جب تری حدت کا گماں ہوتا ہے مجھ کو اشجار سے نسبت کا گماں ہوتا ہے اک ہمیں کو نہیں دکھتا کوئی اپنے جیسا آئینے کو بھی شباہت کا گماں ہوتا ہے مانگ لے گر کبھی مخلوق اثاثوں کا حساب منصفِ وقت کو تہمت کا گماں ہوتا ہے دیکھ ہم دشت نشینوں کو سمندر

زندگی جب تری حدت کا گماں ہوتا ہے – Zindagi jab teri hadat ka guman hota hai Read More »

کرشمے تھے مسلسل چار دن فاقہ گزاری کے – Karishmay thy musalsal char din faqa guzari ky

کرشمے تھے مسلسل چار دن فاقہ گزاری کے کبوتر بار ہا رومال سے نکلا مداری کے ہمیں تو خون کے رشتے بھی کچے ہی نظر آئے بزرگوں سے بڑے دعوے سنے تھے پائیداری کے غنیمت ہے قلم کاری میں اک حرفِ ستائش بھی مقدر سے ہی کچھ معیار پر آتا ہے قاری کے تمہیں چوموں

کرشمے تھے مسلسل چار دن فاقہ گزاری کے – Karishmay thy musalsal char din faqa guzari ky Read More »

ترا مزاج تری بے رخی نہیں بدلی – Tera Mizaj teri berukhi nahi badli

ترا مزاج تری بے رخی نہیں بدلی ہمیں بھی دیکھ لے ہم نے گلی نہیں بدلی جو ایک چھوڑ کے بدلی ہیں عادتیں اپنی وہ ایک یہ ہے کہ آوارگی نہیں بدلی کیا ہے ایسی لگن سے طوافِ کوچہء یار کہ ہم نے قدموں کی تعداد بھی نہیں بدلی یہ مجھ سے کہنے لگا یارِآستیں

ترا مزاج تری بے رخی نہیں بدلی – Tera Mizaj teri berukhi nahi badli Read More »

پربت ترے پہلو میں اگر کھائی نہیں ہے – Parbat tere pehlu main agar khaai nahi hai

پربت ترے پہلو میں اگر کھائی نہیں ہے کاہے کی بلندی جہاں گہرائی نہیں ہے اس واسطے بھی روشنی ہے باعثِ وحشت آنکھوں کی چراغوں سے شناسائی نہیں ہے ہوتا نہیں اب کوئی وہاں اس لیے رسوا کوچے میں ترے کوئی تماشائی نہیں ہے حضرت جو رواداری نظر آپ میں آئی وہ آپ کے بچوں

پربت ترے پہلو میں اگر کھائی نہیں ہے – Parbat tere pehlu main agar khaai nahi hai Read More »

کہیں چراغ بجھانا پڑا کہ میں بھی ہوں – Kahin chiragh bujhana pardha ky main bhi hu

کہیں چراغ بجھانا پڑا کہ میں بھی ہوں کہیں پہ خود کو جلانا پڑا کہ میں بھی ہوں مرے گلے میں جو ڈالا مرے حریفوں نے مجھے وه ڈھول بجانا پڑا کہ میں بھی ہوں تری عطا وه تجسس ہے جس کے بڑهنے پر تجھے بھی طور پہ آنا پڑا کہ میں بھی ہوں وه

کہیں چراغ بجھانا پڑا کہ میں بھی ہوں – Kahin chiragh bujhana pardha ky main bhi hu Read More »

سیدھے سادے لوگ تھے پہلے، گھر بھی سادہ ہوتا تھا – Seedhay saday log thy pehle, ghar bhi sada hota tha

سیدھے سادے لوگ تھے پہلے، گھر بھی سادہ ہوتا تھا کمرے کم ہوتے تھے اور ، دالان کشادہ ہوتا تھا۔ دیکھ کے وہ گھر گاؤں والے سوگ منایا کرتے تھے صحن میں جو دیوار اٹھا کر آدھا آدھا ہوتا تھا مستقبل اور حال کے آزاروں کے ساتھ نمٹنے کو چوپالوں میں ماضی کی یادوں کا

سیدھے سادے لوگ تھے پہلے، گھر بھی سادہ ہوتا تھا – Seedhay saday log thy pehle, ghar bhi sada hota tha Read More »

سب دل کے روگ آنکھ کے پانی میں کھل گئے – Sab dil kay rog ankh kay pani main khul gaye

سب دل کے روگ آنکھ کے پانی میں کھل گئے اولیٰ کے زخم مصرعِ ثانی میں کھل گئے سورج کو چھو کے بار ہا پلٹی شبِ وصال قصے ہزار ایک کہانی میں کھل گئے جتنے تھے راز ہجرتوں نے فاش کر دیے جتنے بھرم تھے نقل مکانی میں کھل گئے کوئی سمجھ سکا نہیں کوشش

سب دل کے روگ آنکھ کے پانی میں کھل گئے – Sab dil kay rog ankh kay pani main khul gaye Read More »