ہمدردیوں کی بھیک نہیں چاہیے مجھے
Hamdardioo ki Bheek Nahi Chahyee Mujhy غزل ہمدردیوں کی بھیک نہیں چاہیے مجھےدل کا سکون خود پہ یقیں چاہیے مجھے رکھنی ہے لاج مجھ کو محبت کی اس لیےیہ سوچ اور شعور حسیں چاہیے مجھے بے کار مال و زر کی نہ حاجت رکھی کبھیلیکن خزانہ عرش یہیں چاہیے مجھے جھلسا کے رکھ دیا ھے
ہمدردیوں کی بھیک نہیں چاہیے مجھے Read More »