MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہمدردیوں کی بھیک نہیں چاہیے مجھے

Hamdardioo ki Bheek Nahi Chahyee Mujhy غزل ہمدردیوں کی بھیک نہیں چاہیے مجھےدل کا سکون خود پہ یقیں چاہیے مجھے رکھنی ہے لاج مجھ کو محبت کی اس لیےیہ سوچ اور شعور حسیں چاہیے مجھے بے کار مال و زر کی نہ حاجت رکھی کبھیلیکن خزانہ عرش یہیں چاہیے مجھے جھلسا کے رکھ دیا ھے

ہمدردیوں کی بھیک نہیں چاہیے مجھے Read More »

ہو ذات میں پہلے تو فنا رات گئے تک

Ho zaat Main Pehlay to Fana Raat Gayee Tak غزل ہو ذات میں پہلے تو فنا رات گئے تکپھر ہجر کی دیوار بنا رات گئے تک سنتی رہی شب بھر ترے قدموں کی ہی آہٹشکوہ نہیں ،جیتی ہے انا رات گئے تک اے زیست مجھے چھوڑ دے تو حال پہ میرےیوں خون کے آنسو نہ

ہو ذات میں پہلے تو فنا رات گئے تک Read More »

تــرے خیــــال کو اس دل سے ہی نکال دیا

Tray Khiyal Ko is Dil say Hi Nikaal Diya غزل تــرے خیــــال کو اس دل سے ہی نکال دیاجـــواب تـــیری جفـــــــاوں کا بےمثــال دیا عـــــروج کب دیا تــو نے تـــو بس زوال دیااے ہجر تو نے ہمیں مشـکلوں میں ڈال دیا سـخن وری کے دریچوں کو باوضو ہــم نےہــر ایک پل یہـاں روشن حــسیں خیال

تــرے خیــــال کو اس دل سے ہی نکال دیا Read More »

حیراں ہوں کیسے زندگی میری بدل گئی

Hairaan Hoon Kaisay Zindagi meri Badal Gaee غزل حیراں ہوں کیسے زندگی میری بدل گئیتھی عام اور خواص میں چپ چاپ ڈھل گئی رسمِ جہیز بن گیا دیوار تب ہی توکتنی ہی بیٹیوں کی جوانی نکل گئی جو بات صبح و شام تھی موجود درمیاںوہ بات اب حدود سے باہر نکل گئی عورت کی ذات

حیراں ہوں کیسے زندگی میری بدل گئی Read More »

لے گیا جان مری وصل کا لپكا کوئی

Lay gaya jaan mri wasl ka Lapka Koi غزل لے گیا جان مری وصل کا لپكا کوئی دل کی دھڑکن میں ہوا لمحے کاوقفہ کوئی عشق کی عین گواہی دے کبھی دیکھا ہے دل کی دیواروں پہ دنیا کا ہو نقشہ کوئی یونہی کیوں روتے بلا وجہ پریمی سارے درد کا پیار سے ہوتا ہے

لے گیا جان مری وصل کا لپكا کوئی Read More »

میں نے ٹوٹے پھوٹے بندھن دیکھے ہیں

Main Nay Tootay Phooty Bandhan Dekhay Hain غزل میں نے ٹوٹے پھوٹے بندھن دیکھے ہیں خواہش کے زندان میں روزن دیکھے ہیں جھوٹے لوگوں کی سر شاری دیکھی ہے سچی بات پہ لگتے قدغن دیکھے ہیں بحرِ محبت میں بھی خشکی در آئی دشتِ الم میں بھیگے دامن دیکھے ہیں کوئی فاتحہ پڑھنے والا ملتا

میں نے ٹوٹے پھوٹے بندھن دیکھے ہیں Read More »

فعل فاعل میں اگر لفظ نہ تولے جاتے

Fail Daeel Main agar lafz na tolay jatay غزل فعل فاعل میں اگر لفظ نہ تولے جاتے روز مرہ کی جگہ شعر ہی بولے جاتے کتنے عقرب ہیں چھپے صاف حقیقت كهلتی بند ہونٹوں کے کہیں قفل جو کھولے جاتے حسنِ اخلاق سے دنیائیں منور ہوتیں فکرِ عالم میں اگر زہر نہ گھولے جاتے زندگی

فعل فاعل میں اگر لفظ نہ تولے جاتے Read More »

درد لذت ہے ہجر راحت ہے

Dard lazat Hay Hijr Rahat Hay غزل درد لذت ہے ہجر راحت ہے زندگی میں یہ عیش و عشرت ہے عشق واصل ہے درد ہجرت ہے عقل ناصر ہے فکر نصرت ہے عشق اللّه کی عنایت ہے عاشقی دین ہے ہدایت ہے حسن منظر بدلتا آئینہ شاعری کی بساط حیرت ہے وصل لمحوں کی لذتوں

درد لذت ہے ہجر راحت ہے Read More »

رازِ دل ان سے چھپاتے ہوئے تھک جاتی ہوں

Raaz e Dil Un say chupaty Hoyee Dar jaati Hoon غزل رازِ دل ان سے چھپاتے ہوئے تھک جاتی ہوں دل سے اک نام مِٹاتے ہُوئے تھک جاتی ہُوں دل میں اقرار محبت سےہے جو شعلہ فشاں درد کی آگ بُجھاتے ہُوئے تھک جاتی ہُوں ٹوٹے رشتوں میں بہت ٹوٹے دلوں کے اکثر تار سے

رازِ دل ان سے چھپاتے ہوئے تھک جاتی ہوں Read More »

روا داری کا ساگر موجزن ہے

Rawa dari ka sagar mojazan hay غزل روا داری کا ساگر موجزن ہے رگِ جاں میں تشکر موجزن ہے توانائی چھپی ہے روشنی میں تڑپ ذرے کے اندر موجزن ہے رگِ دل میں تسلسل سے ہماری وفاداری کا جوہر موجزن ہے محبت ،عشق اور نوحہ گری کا مرے دل میں سمندر موجزن ہے مرے پاؤں

روا داری کا ساگر موجزن ہے Read More »