MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اٹھ چکا دل مرا زمانے سے

غزل اٹھ چکا دل مرا زمانے سے اڑ گیا مرغ آشیانے سے دیکھ کر دل کو مڑ گئی مژگاں تیر خالی پڑا نشانے سے چشم کو نقش پا کروں کیونکر دور ہو خاک آستانے سے ہم نے پایا تو یہ صنم پایا اس خدائی کے کارخانے سے تیری زنجیر زلف سے نکلے یہ توقع نہ […]

اٹھ چکا دل مرا زمانے سے Read More »

خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا

غزل خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا کاروان اشک چلتا ہی رہا اس کف پا پر ترے رنگ حنا جن نے دیکھا ہاتھ ملتا ہی رہا صبح ہوتے بجھ گئے سارے چراغ داغ دل تا شام جلتا ہی رہا کب ہوا بیکار پتلا خاک کا یہ تو سو قالب میں ڈھلتا ہی رہا بہ ہوئے

خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا Read More »

اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتا

غزل اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتا تو معشوقوں کا یہ چرچا نہ ہوتا گریباں چاک کر روتے کہاں ہم اگر یہ دامن صحرا نہ ہوتا سدا رہتی توقع بلبلوں کو اگر یہ غنچۂ گل وا نہ ہوتا جدائی میں اگر آنکھیں نہ روتیں تو ہرگز راز دل افشا نہ ہوتا فغاںؔ کون اب خریدار

اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتا Read More »

عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتا

غزل عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتا کوئی کسی بندہ کا خریدار نہ ہوتا ہستی کی خرابی نظر آتی جو عدم میں اس خواب سے ہرگز کوئی بیدار نہ ہوتا کہتا ہے تجھے خاک نہ دوں غیر اذیت یہ دل میں اگر تھی تو مرا یار نہ ہوتا معلوم کسے تھی یہ تری

عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتا Read More »

اشرف علی فغاں ایک عہد ساز شاعر

اشرف علی فغاں ایک عہد ساز شاعر ۱۸ ویں صدی کے ممتاز شاعروں میں شامل ، میر تقی میر کے معاصر   میر تقی میرؔ اور محمد رفیع سوداؔ اپنے زمانہ میں شاعری کی سُپر پاور تھے ۔ ان لوگوں نے ایہام گوئی کی سلطنت کے زوال کے بعد زبان و بیان کے نئے علاقوں

اشرف علی فغاں ایک عہد ساز شاعر Read More »

رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہے

غزل رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہے دھوم ہے پژمردہ پھولوں میں بہار آنے کو ہے یار کوچے میں ترے دھونی رمانے کے لیے غمزدہ حسرت زدہ اک خاکسار آنے کو ہے رحم کرنا اب کی میری آنکھ کھلنے کی نہیں آخری غش مجھ کو اے پروردگار آنے کو

رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہے Read More »

رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میں

غزل رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میں بسے رہتے ہیں جیسے پھول اپنی اپنی نکہت میں کھچا حسن وفا ہو کر جو یہ تصویر وحدت میں خدا کا نور شامل ہو گیا انساں کی صورت میں نہیں ہے لذت دنیا و ما فیہا جو قسمت میں خدا معلوم حصہ ہے مرا

رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میں Read More »

سناٹے کا عالم قبر میں ہے ہے خواب عدم آرام نہیں

غزل سناٹے کا عالم قبر میں ہے ہے خواب عدم آرام نہیں امکان نمود صبح نہیں امید چراغ شام نہیں دل نامے کے شک لے پرزے کیا اے وائے نصیبے کا یہ لکھا پیشانی پر ان کی مہر نہیں سر نامے پہ میرا نام نہیں جاتے ہیں جو اجڑے زندہ چمن اس باغ جہاں کی

سناٹے کا عالم قبر میں ہے ہے خواب عدم آرام نہیں Read More »

تری گلی میں جو دھونی رمائے بیٹھے ہیں

غزل تری گلی میں جو دھونی رمائے بیٹھے ہیں اجل رسیدہ ہیں مرنے کو آئے بیٹھے ہیں کرو ہماری بھی خاطر نکل کے پردے سے کہ میہماں ہیں تمہارے بلائے بیٹھے ہیں ہماری بغلوں میں بوئے مراد آتی ہے تمہارے پہلو میں ہم جب سے آئے بیٹھے ہیں دیا جو عطر انہیں عاشقوں کو مٹی

تری گلی میں جو دھونی رمائے بیٹھے ہیں Read More »

لٹاتے ہیں وہ باغ عشق جائے جس کا جی چاہے

غزل لٹاتے ہیں وہ باغ عشق جائے جس کا جی چاہے گل داغ تمنا لوٹ لائے جس کا جی چاہے چراغ یاس و حسرت ہم ہیں محفل میں حسینوں کی جلائے جس کا جی چاہے بجھائے جس کا جی چاہے کسی معشوق کی کوئی خطا میں نے نہیں کی ہے ستانے کو زبردستی ستائے جس

لٹاتے ہیں وہ باغ عشق جائے جس کا جی چاہے Read More »