جس کو رہنا تھا بس مِرا ہو کر
جس کو رہنا تھا بس مِرا ہو کررہ گیا ایک خواب سا ہو کر دل میں اترا وہ اک نظر میں مگردل سے اترا ذرا ذرا ہو کر کیوں مِرا ظرف آزماتے ہوبات بے بات یوں خفا ہو کر کو ئی روتا نہیں ہے ہجر میں ابکون مرتا ہے اب جدا ہو کر قید میں
جس کو رہنا تھا بس مِرا ہو کر Read More »