MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جس کو رہنا تھا بس مِرا ہو کر

جس کو رہنا تھا بس مِرا ہو کررہ گیا ایک خواب سا ہو کر دل میں اترا وہ اک نظر میں مگردل سے اترا ذرا ذرا ہو کر کیوں مِرا ظرف آزماتے ہوبات بے بات یوں خفا ہو کر کو ئی روتا نہیں ہے ہجر میں ابکون مرتا ہے اب جدا ہو کر قید میں

جس کو رہنا تھا بس مِرا ہو کر Read More »

جب حوصلہ وہ طائرِ بے پر میں آ گیا

جب حوصلہ وہ طائرِ بے پر میں آ گیامنظر میں جو نہیں تھا وہ منظر میں آ گیا کانٹے بھی پھول ‘ دیکھو مقدر سے بن گئےسایہ بھی دیکھو دھوپ کی چادر میں آ گیا خنجر بھی ہاتھ میں ہے تبسم بھی زیرِ لبقاتل مرا خلوص کے پیکر میں آ گیا دیکھا جو چشمِ ناز

جب حوصلہ وہ طائرِ بے پر میں آ گیا Read More »

وصل کا رنگ یہ نیا دیکھا

وصل کا رنگ یہ نیا دیکھاقربتوں میں بھی فاصلہ دیکھا جو گلہ میں نہ لا سکا لب پراس کے لب پر وہی گلہ دیکھا مہرباں ہے کبھی گریزاں ہےیہ ستم اس کا بارہا دیکھا ہاتھ اپنا چھڑا کے اپنوں نےمجھ کو ساحل سے ڈوبتا دیکھا زندہ لوگوں کو زندگی نہ ملیزندہ رہ کر یہ سانحہ

وصل کا رنگ یہ نیا دیکھا Read More »

شہرِ دل سے اختر و مہتاب ہجرت کر گئے

Shahr e dil say akhtar o Mahtaab hijrat kar gayee غزل شہرِ دل سے اختر و مہتاب ہجرت کر گئےآنکھ ویراں ہوگئی سب خواب ہجرت کر گئے وقتِ رخصت ہم نے تیرا شہر چھوڑا اس لیےتجھ سے ملنے کے سبھی اسباب ہجرت کر گئے ہم غریبِ شہر تھے کچھ اور تو نہ کر سکےپی لیا

شہرِ دل سے اختر و مہتاب ہجرت کر گئے Read More »

جب بھی موقع ملا کیا سے کیا ہو گئے

Jab Bhi Moqa Mila Kia say Kia ho Gayee غزل جب بھی موقع ملا کیا سے کیا ہو گئےاور پھر ویسے ہی پارسا ہو گئے بے خبر راستوں سے کچھ انجان لوگراہ میں یوں ملے راہنما ہو گئے وقت کی آگ نے یوں جلایا ہمیںخاک ایسے ہوئے کیمیا ہوگئے زندگی کا سفر تیرا حاصل ہے

جب بھی موقع ملا کیا سے کیا ہو گئے Read More »

عجیب صاف گو تھا وہ کہ آسرا بھی لے گیا

Ajeeb Saaf go tha wo kay Aasra bhi lay Gaya عجیب صاف گو تھا وہ کہ آسرا بھی لے گیادیا تو وہ بجھا گیا دیا بجھا بھی لے گیا سفر حیات کا کریں تو کس طرح سے طے کریںوہ منزلیں بھی لے گیا وہ راستہ بھی لے گیا شراب بھی فریب تھی یہ اب ہمیں

عجیب صاف گو تھا وہ کہ آسرا بھی لے گیا Read More »

کیا سچ ہے تو کیا جھوٹ ہے یہ سوچ رہا ہوں

Kia Such hay to kia jhoot Hay yeh sooch raha hoon غزل کیا سچ ہے تو کیا جھوٹ ہے یہ سوچ رہا ہوںمیں دونوں طرف شعبدہ بازوں میں گھرا ہوں جنت کے حسیں خواب دکھائے گئے مجھ کواور آج جہنم کے دہانے پہ کھڑا ہوں ناسور بنایا ہے خود ہر زخم کو اپنےاور خود ہی

کیا سچ ہے تو کیا جھوٹ ہے یہ سوچ رہا ہوں Read More »

رنج و غم سے گزارتا ہے مجھے

رنج و غم سے گزارتا ہے مجھےلمحہ لمحہ وہ مارتا ہے مجھے موندھ لیتا ہے اپنی آنکھوں کوخواب میں پھر اتارتا ہے مجھے دشتِ ہجراں کی گہری دلدل سےکب وہ آ کر ابھارتا ہے مجھے اس کی تحریر میں غزل تو نہیںکس لیے پھر سنوارتا ہے مجھے لوٹ آتی ہے اپنے مسکن پرجس دعا میں

رنج و غم سے گزارتا ہے مجھے Read More »

کچھ دیر اگر اس نے مجھ کو بھی سنا ہوتا

کچھ دیر اگر اس نے مجھ کو بھی سنا ہوتاتو شعر و سخن میرا ہر غم کی دوا ہوتا ملتا نہ رقیبوں کوہنسنے کا کبھی موقعوہ شخص اگر مجھ سے ایسے نہ خفا ہوتا مجھ کو بھی سمجھ آتی گر چال ستاروں کیلکھا ہے جو قسمت میں کیا وہ ہی لکھا ہوتا یہ زیر و

کچھ دیر اگر اس نے مجھ کو بھی سنا ہوتا Read More »

ماں محبت کی اک کتاب ہے تو

ماں محبت کی اک کتاب ہے تو اولیں میرا انتخاب ہے تو جس کے دم سے مہک ہے سانسوں میں شاخِ دل پر کھلا گلاب ہے تو سچ تو یہ ہے کے ماں حقیقت میں ہر کہانی کا انتساب ہے تو تجھ کو معلوم ہے ناں ماں میری ہر سوالوں کا بس جواب ہے تو

ماں محبت کی اک کتاب ہے تو Read More »