MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میرے صحرا کو نئے سورج پہ پیار آ ہی گیا

میرے صحرا کو نئے سورج پہ پیار آ ہی گیاپیاس کی سونی فضا پر اعتبار آہی گیا چاند نے پھر مجھ کو دیکھا اور نظریں پھیر لیںمیری آنکھوں کے دریچوں پر نکھار آ ہی گیا میری نفرت دیکھ کر میری ندامت دیکھ کرایک پل سچائی کا بے اختیار آہی گیا لاکھ روگا زندگی نے روشنی

میرے صحرا کو نئے سورج پہ پیار آ ہی گیا Read More »

روگ بڑھتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں

روگ بڑھتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوںلوگ اگلے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں بام و در کی آنکھ میں ہے خوف کس آسیب کاگھر پگھلتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں رت جگے بستر سے لپٹے وصل کی خواہش لیےسپنے دیکھے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں دھوپ کے

روگ بڑھتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں Read More »

سر پھرے لمحے رسیلے ہو گئے

سر پھرے لمحے رسیلے ہو گئےجاگتی آنکھوں میں سپنے بو گئے دھوپ کو ملتا کہاں میرا پتہشہر کی سڑکوں پہ سائے کھو گئے گمشدہ جذبات ہجرِ یار کےتتلیوں کا لمس پا کےسو گئے ختم سورج کا تماشا کب ہواکون سے بادل دریچے دھو گئے جگنوئوں کی روشنی کو کیا ہواہنستے گاتے پیڑ کیسے سو گئے

سر پھرے لمحے رسیلے ہو گئے Read More »

ضرورت جب پڑی سایہ نہیں تھا

ضرورت جب پڑی سایہ نہیں تھانہیں تو پاس میرے کیا نہیں تھا مجھے ہی چھوڑ کے جانا تھا گھر کومگر یہ فیصلہ میرا نہیں تھا مقدر میں جو تھا سب مل گیا تھامگر وہ شخص بس میرا نییں تھا رہا غیروں کی مانند اپنے گھر میںوہ گھر میں تھا مگر گھر کا نہیں تھا زمیں

ضرورت جب پڑی سایہ نہیں تھا Read More »

بنتا نہیں صنم کوئی پتھر ہوۓ بغیر

بنتا نہیں صنم کوئی پتھر ہوۓ بغیرجچتی نہیں خوشی بھی کوئی غم سہے بغیر قسمت کے کھیل ہیں یہ ستاروں کی چال ہےمل جاتے ہیں جو لوگ دلوں کے ملے بغیر پھیری تھیں اس نے بزم میں نظریں کچھ اس طرحسب کچھ ہی جیسے کہہ گیا کچھ بھی کہے بغیر الفاظ اس کے تھے یا

بنتا نہیں صنم کوئی پتھر ہوۓ بغیر Read More »

بس وہ مجھ پر ہی مہربان رہا

بس وہ مجھ پر ہی مہربان رہاعمر بھر یہ مجھے گمان رہا کوئی دیوار درمیاں میں نہ تھیفاصلہ پھر بھی درمیان رہا ہم قدم دوست جب ہوئے میرےہر قدم ایک امتحان رہا گرد آلود تھی فضأ دل کیخاک اڑاتا ہؤا مکان رہا کچھ ستارے تو آسماں پر تھےکچھ ستاروں پہ آسمان رہا مٹ گیا اک

بس وہ مجھ پر ہی مہربان رہا Read More »

درد اوڑھا ہے غم کو لبادہ کیا

درد اوڑھا ہے غم کو لبادہ کیابے ارادہ کبھی بالارادہ کیا دوستوں سے تو کیا دشمنوں سے بھی ہممسکرا کر ملے دل کشادہ کیا راستے میں ہی مجھ سے جدا ہو گیاجس کی خاطر سفر کا ارادہ کیا اس نے اک بار پھر کر کے قول و قراربے قراری کا میری اعادہ کیا پھول کی

درد اوڑھا ہے غم کو لبادہ کیا Read More »

دیکھوں تو پانیوں سے بھی گہرا دکھائی دے

دیکھوں تو پانیوں سے بھی گہرا دکھائی دےسوچوں تو اس میں وسعتِ صحرا دکھائی دے پھولوں کی طرح اس کا سراپا دکھائی دےٹہرے اگر تو وقت ٹہرتا دکھائی دے ان آٸینوں میں ایسا بھی اک آئینہ تو ہوجو ہے درونِ ذات وہ چہرہ دکھائی دے اک شخص میری آنکھوں میں ایسا سما گیادیکھوں جدھر بھی

دیکھوں تو پانیوں سے بھی گہرا دکھائی دے Read More »

ہم آپ کا نیرنگِ نظر دیکھ رہے ہیں

ہم آپ کا نیرنگِ نظر دیکھ رہے ہیںہوتا ہؤا اس دل کو کھنڈر دیکھ رہے ہیں دیوارِ انا میں بنے در دیکھ رہے ہیںدستار میں جھکتے ہوئے سر دیکھ رہے ہیں میں ڈوب رہا ہوں یہ مرے لوگ جہاں پربنتا ہؤا پانی میں بھنور دیکھ رہے ہیں گھر کو تو رویے ہی بدلتے ہیں مکاں

ہم آپ کا نیرنگِ نظر دیکھ رہے ہیں Read More »

جس دم وہ بزمِ ناز میں جلوہ نما ہؤا

جس دم وہ بزمِ ناز میں جلوہ نما ہؤاپوچھو نہ پھر جو حشر دلوں میں بپا ہؤا بدلا جو وقت میرا تو پھر رازداں مِراتھا میرے سامنے مِرا دشمن بنا ہؤا پھیلی ہوئی تھی روشنی یہ دیکھتے تھے لوگدیکھا نہیں کسی نے مِرا گھر جلا ہؤا آنکھوں میں گر رہے تو یہ رہتا ہے معتبرملتا

جس دم وہ بزمِ ناز میں جلوہ نما ہؤا Read More »