دنیا کی نفرتوں میں ابھی اتنا دم نہیں
دنیا کی نفرتوں میں ابھی اتنا دم نہیں تیرے خلاف چل پڑے ایسا قلم نہیں اس زندگی کو دینا ہے جب زندگی کا نام آگے بڑھا کے پیچھے ہٹاتے قدم نہیں تن پر سجائے پھرتی ہوں ملبوس درد کا کیسے کہوں کے دل میں کوئی میرے غم نہیں کاٹے ہیں کس طرح سے ترے بن
دنیا کی نفرتوں میں ابھی اتنا دم نہیں Read More »