MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سلف سے لوگ ان پہ مر رہے ہیں ہمیشہ جانیں لیا کریں گے

غزل سلف سے لوگ ان پہ مر رہے ہیں ہمیشہ جانیں لیا کریں گے یہی کرشمے ہوا کیے ہیں یہی کرشمے ہوا کریں گے ہمیں جو بے جرم پیستے ہو یہ جانتے ہو کہ کیا کریں گے خدا نے چاہا تو سرمہ ہو کر تمہاری آنکھوں میں جا کریں گے نہ رہنے دیں گے کبھی […]

سلف سے لوگ ان پہ مر رہے ہیں ہمیشہ جانیں لیا کریں گے Read More »

ترے واسطے جان پہ کھلیں گے ہم یہ سمائی ہے دل میں خدا کی قسم

غزل ترے واسطے جان پہ کھلیں گے ہم یہ سمائی ہے دل میں خدا کی قسم رہ عشق سے اب نہ ہٹیں گے قدم ہمیں اپنے ہی صدق و صفا کی قسم مرے پرزے اگرچہ اڑائیے گا تو گل زخم سے مہکے گی عشق کی بو کھنچے تیغ تری تو رگڑ دوں گلو مجھے تیرے

ترے واسطے جان پہ کھلیں گے ہم یہ سمائی ہے دل میں خدا کی قسم Read More »

چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیں

غزل چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیں طے یہ منزل جو خدا چاہے تو کر لیتے ہیں عشق کس واسطے کرتے ہیں پری زادوں سے کس لیے جان پر آفت یہ بشر لیتے ہیں دیکھنے بھی جو وہ جاتے ہیں کسی گھائل کو اک نمکداں میں نمک پیس کے بھر لیتے ہیں خاک

چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیں Read More »

گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی

غزل گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی آدھی چھٹنے کی ہوئی تدبیر آدھی رہ گئی نیم بسمل ہو کے میں تڑپا تو وہ کہنے لگے چوک تجھ سے ہو گئی تعزیر آدھی رہ گئی شام سے تھی آمد آمد نصف شب کو آئے وہ یاوری کر کے مری تقدیر آدھی رہ گئی نصف

گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی Read More »

ہوا ہے طور بربادی جو بے دستور پہلو میں

غزل ہوا ہے طور بربادی جو بے دستور پہلو میں دل بے تاب کو رہتا ہے نامنظور پہلو میں عجب دل کو لگی ہے لو عجب ہے نور پہلو میں کیا ہے عشق نے روشن چراغ طور پہلو میں کہا جو میں نے میرے دل کی اک تصویر کھنچوا دو منگا کر رکھ دیا اک

ہوا ہے طور بربادی جو بے دستور پہلو میں Read More »

تیرے عالم کا یار کیا کہنا

غزل تیرے عالم کا یار کیا کہنا ہر طرف ہے پکار کیا کہنا اف نہ کی درد ہجر ضبط کیا اے دل بے قرار کیا کہنا وعدۂ وصل ان سے لوں کیوں کر میرا کیا اختیار کیا کہنا کیا ہی نیرنگیاں دکھائی ہیں میرے باغ و بہار کیا کہنا کیسے عاشق ہیں ان سے جب

تیرے عالم کا یار کیا کہنا Read More »

پری پیکر جو مجھ وحشی کا پیراہن بناتے ہیں

غزل پری پیکر جو مجھ وحشی کا پیراہن بناتے ہیں گریباں چاک کر دیتے ہیں بے دامن بناتے ہیں جنوں میں جا بجا ہم جو لہو روتے ہیں صحرا میں گلوں کے شوق میں ویرانے کو گلشن بناتے ہیں جنہیں عشق دلی ہے وہ تمہارا نام جپنے کو طہارت سے ہماری خاک کی مسرن بناتے

پری پیکر جو مجھ وحشی کا پیراہن بناتے ہیں Read More »

دل کو افسوس جوانی ہے جوانی اب کہاں

غزل دل کو افسوس جوانی ہے جوانی اب کہاں کوئی دم میں چل بسیں گے زندگانی اب کہاں آپ الٹتے ہیں وہ پردہ وہ کہانی اب کہاں عاشقوں سے گفتگو ہے لن ترانی اب کہاں جب ہمارے پاس تھے ان کو ہمارا پاس تھا تھی ہماری قدر جب تھی قدر دانی اب کہاں اے پری

دل کو افسوس جوانی ہے جوانی اب کہاں Read More »

جب سے ہوا ہے عشق ترے اسم ذات کا

غزل جب سے ہوا ہے عشق ترے اسم ذات کا آنکھوں میں پھر رہا ہے مرقع نجات کا مالک ہی کے سخن میں تلون جو پائیے کہئے یقین لائیے پھر کس کی بات کا دفتر ہماری عمر کا دیکھو گے جب کبھی فوراً اسے کرو گے مرقع نجات کا الفت میں مر مٹے ہیں تو

جب سے ہوا ہے عشق ترے اسم ذات کا Read More »

رلوا کے مجھ کو یار گنہ گار کر نہیں

غزل رلوا کے مجھ کو یار گنہ گار کر نہیں آنکھیں ہیں تر تو ہوں مرا دامن تو تر نہیں امید وصل سے بھی تو صدمہ نہ کم ہوا کیا درد جائے گا جو دوا کا اثر نہیں دن کو بھی داغ دل کی نہ کم ہوگی روشنی یہ لو ہی اور ہے یہ چراغ

رلوا کے مجھ کو یار گنہ گار کر نہیں Read More »