MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہم ہیں اے یار چڑھائے ہوئے پیمانۂ عشق

غزل ہم ہیں اے یار چڑھائے ہوئے پیمانۂ عشق ترے متوالے ہیں مشہور ہیں مستانۂ عشق دشمنوں میں بھی رہا ربط محبت برسوں خوش نہ آیا کسی معشوق کو یارانۂ عشق مجھ کو جو چاہ محبت کی ہے مجنوں کو کہاں اس کو لیلیٰ ہی کا سودا ہے میں دیوانۂ عشق جان لیں گے کہ […]

ہم ہیں اے یار چڑھائے ہوئے پیمانۂ عشق Read More »

تھا پا شکستہ آنکھ مگر دیکھتی تو تھی

غزل تھا پا شکستہ آنکھ مگر دیکھتی تو تھی مانا وہ بے عمل تھا مگر آگہی تو تھی الزام نارسی سے مبرا نہیں تھی سیپ لیکن کسی کے شوق میں ڈوبی ہوئی تو تھی مانا وہ دشت شوق میں پیاسا ہی مر گیا اک جھیل جستجو کی پس تشنگی تو تھی احساس پر محیط تھے

تھا پا شکستہ آنکھ مگر دیکھتی تو تھی Read More »

راز ابل پڑے آخر آسماں کے سینوں سے

غزل راز ابل پڑے آخر آسماں کے سینوں سے ربط اس زمیں کو ہے اور بھی زمینوں سے کون سا جہاں ہے یہ کیسے لوگ ہیں اس میں اٹھتا ہے دھواں ہر دم دل کے آبگینوں سے ہر بشر ہے فریادی ہر طرف اندھیرا ہے مہر و مہ نہیں نکلے شہر میں مہینوں سے اک

راز ابل پڑے آخر آسماں کے سینوں سے Read More »

شعور و فکر کی تجدید کا گماں تو ہوا

غزل شعور و فکر کی تجدید کا گماں تو ہوا چلو کہ فن کا افق کشت‌ زعفراں تو ہوا بلا سے لے اڑی مجھ کو شعاع نور سحر فصیل شب سے گزر کر میں بے کراں تو ہوا یہ کم نہیں ہے کہ میں ہوں خلاؤں کا ہم راز مرے وجود میں گم سارا آسماں

شعور و فکر کی تجدید کا گماں تو ہوا Read More »

جب ہر نظر ہو خود ہی تجلی نمائے غم

غزل جب ہر نظر ہو خود ہی تجلی نمائے غم پھر آدمی چھپائے تو کیسے چھپائے غم اس وقت تک ملی نہ مجھے لذت حیات جب تک رہا زمانے میں ناآشنائے غم میری نگاہ شوق ہی غم کا سبب نہیں ان کی نگاہ ناز بھی ہے رہنمائے غم سودائے عشق درد محبت جفائے دوست ہم

جب ہر نظر ہو خود ہی تجلی نمائے غم Read More »

راتوں کے اندھیروں میں یہ لوگ عجب نکلے

غزل راتوں کے اندھیروں میں یہ لوگ عجب نکلے سب نام و نسب والے بے نام و نسب نکلے تعمیر پسندی نے کچھ زیست پر اکسایا کچھ موت کے ساماں بھی جینے کا سب نکلے یہ نور کے سوداگر خود نور سے عاری ہیں گردوں پہ مہ و انجم تنویر طلب نکلے یہ دشت یہ

راتوں کے اندھیروں میں یہ لوگ عجب نکلے Read More »

جینے کی تمنا بھی مرنے کی ادا ٹھہری

غزل جینے کی تمنا بھی مرنے کی ادا ٹھہری ہم اہل محبت کو کیا شرط وفا ٹھہری لمحوں کے تعاقب میں ہر در سے گزرتی ہے یہ گردش دوراں بھی کشکول گدا ٹھہری شیشے کے مکانوں میں پتھر کے صنم دیکھے شعلوں کی جبینوں پر شبنم کی ادا ٹھہری سورج کی تمازت سے پگھلے ہیں

جینے کی تمنا بھی مرنے کی ادا ٹھہری Read More »

کوئی دھڑکن کوئی الجھن کوئی بندھن مانگے

غزل کوئی دھڑکن کوئی الجھن کوئی بندھن مانگے ہر نفس اپنی کہانی میں نیا پن مانگے دشت افکار میں ہم سے نئے موسم کا مزاج بجلیاں تنکوں کی شعلوں کا نشیمن مانگے رات بھر گلیوں میں یخ بستہ ہواؤں کی صدا کسی کھڑکی کی سلگتی ہوئی چلمن مانگے زہر سناٹے کا کب تک پئے صحرائے

کوئی دھڑکن کوئی الجھن کوئی بندھن مانگے Read More »

محفل ہستی میں ہم فکر سخن کرتے رہے

غزل محفل ہستی میں ہم فکر سخن کرتے رہے کشمکش میں بھی خیال انجمن کرتے رہے بارہا گل چیں نے للکارا ہمارے عزم کو بے محابا ہم مگر نظم چمن کرتے رہے میں تو سب کے چاک دامن پر رفو کرتا رہا اہل دنیا چاک میرا پیرہن کرتے رہے ہم وطن سمجھا کئے ننگ وطن

محفل ہستی میں ہم فکر سخن کرتے رہے Read More »