خواب در خواب اک افسانہ رہی ہیں آنکھیں
خواب در خواب اک افسانہ رہی ہیں آنکھیںموسمِ گُل میں بھی ویرانہ رہی ہیں آنکھیں مصلحت کوش رہی ہے مری بینائی بھیہر نئے زخم سے بیگانہ رہی ہیں آنکھیں گرچہ ساقی نے فقط وعدہء فردا پہ رکھانقشِ موجود کا آئینہ رہی ہیں آنکھیں مبتلا کتنے رہے ہیں غمِ ہستی میں مداملیکن اس پر بھی کریمانہ
خواب در خواب اک افسانہ رہی ہیں آنکھیں Read More »