MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خواب در خواب اک افسانہ رہی ہیں آنکھیں

خواب در خواب اک افسانہ رہی ہیں آنکھیںموسمِ گُل میں بھی ویرانہ رہی ہیں آنکھیں مصلحت کوش رہی ہے مری بینائی بھیہر نئے زخم سے بیگانہ رہی ہیں آنکھیں گرچہ ساقی نے فقط وعدہء فردا پہ رکھانقشِ موجود کا آئینہ رہی ہیں آنکھیں مبتلا کتنے رہے ہیں غمِ ہستی میں مداملیکن اس پر بھی کریمانہ

خواب در خواب اک افسانہ رہی ہیں آنکھیں Read More »

یہ مت سمجھنا کہ میں مسافت سے ہار بیٹھا

یہ مت سمجھنا کہ میں مسافت سے ہار بیٹھانکالنے کو میں اپنے پاؤں سے خار بیٹھا مرا کسی سے مقابلہ تو نہیں تھا لیکننقاب چہرے سے میں عدو کے اتار بیٹھا کسی کے لہجے کی دلکشی کو کشید کرکےاداس رُت کی سماعتوں کو نکھار بیٹھا میں دورِ ماضی کی تلخیوں کو بھلا چکا ہوںگزارنی تھی

یہ مت سمجھنا کہ میں مسافت سے ہار بیٹھا Read More »

لوگوں کو تو ہر بات بتائی نہیں جاتی

لوگوں کو تو ہر بات بتائی نہیں جاتیتا عرش بھی کیا اپنی دہائی نہیں جاتی چہرے پہ کئی رنگ مسرت کے ہیں لیکنحالت دلِ مضطر کی چھپائی نہیں جاتی یوں اشک مرے دل میں اترتے رہے پیہماب لاکھ ہٹانے سے بھی کائی نہیں جاتی ہم زیست کے قیدی ہیں سزا کاٹ رہے ہیںتقصیر ہے کیا

لوگوں کو تو ہر بات بتائی نہیں جاتی Read More »

جس میں کہیں پڑاؤ ہو یہ وہ سفر نہیں

جس میں کہیں پڑاؤ ہو یہ وہ سفر نہیںہستی کی رہگزر میں کوئی مستقر نہیں ہے آپ کی نظر میں مری سوچ مستردفرمان آپ کا بھی کوئی معتبر نہیں پہلے بھی کارواں کے محافظ تھے راہزناب بھی بجز غنیم کوئی راہبر نہیں خوابوں کی کرچیوں کو جو اک بار جوڑ دےبستی میں ایسا کوئی بھی

جس میں کہیں پڑاؤ ہو یہ وہ سفر نہیں Read More »

سارے وعدے وہی گھڑے ہوئے ہیں

سارے وعدے وہی گھڑے ہوئے ہیںجن کو سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں بزم سے اس لیئے چلے آئےایک سے ایک واں پڑے ہوئے ہیں ہم کو مجنوں بنا کے چھوڑیں گےوہ اِسی بات پر اڑے ہوئے ہیں ہم نے ہمت مگر نہیں ہاریامتحاں زیست میں کڑے ہوئے ہیں چارسو مشکلات ہیں کتنیاور ہم درمیاں کھڑے

سارے وعدے وہی گھڑے ہوئے ہیں Read More »

دیارِ عشق میں کب استخارے کام آئے

دیارِ عشق میں کب استخارے کام آئےدلِ بیتاب کے سب ہی اشارے کام آئے ہمیں جس طور برتا زندگی نے وہ زیاں تھاجو ہم نے زندگی کے دن گزارے کام آئے بیاں کرنے کو اپنے چاک داماں کی حقیقتنصابِ ہجر کے سارے شمارے کام آئے منافع بخش یوں ٹھہرا ہمارا کارِ ہستیہوئے اس راہ میں

دیارِ عشق میں کب استخارے کام آئے Read More »

کشمکش کتنی رہی ہے مری، تقدیر کے ساتھ

کشمکش کتنی رہی ہے مری، تقدیر کے ساتھدیکھ لو مجھ کو ملا کر مری تصویر کے ساتھ حادثہ کوئی کبھی راہ کا پتھر نہ بناہر نیا خواب بُنا ہے نئی تدبیر کے ساتھ بے سبب راہ نوردی سے نہیں کچھ حاصلپاؤں کا ربط ہو جب تک کسی زنجیرکے ساتھ طائرِ فکر بھی پرواز کو پر

کشمکش کتنی رہی ہے مری، تقدیر کے ساتھ Read More »