MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں

یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں کرو گے یاد، ایسا آدمی ہوں مرا نام و نسب کیا پوچھتے ہو! ذلیل و خوار و رسوا آدمی ہوں تعارف اور کیا اس کے سوا ہو کہ میں بھی آپ جیسا آدمی ہوں زمانے کے جھمیلوں سے مجھے کیا مری جاں! میں تمہارا آدمی ہوں چلے آیا

یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں Read More »

اتفاق اپنی جگہ خوش قسمتی اپنی جگہ

اتفاق اپنی جگہ خوش قسمتی اپنی جگہ خود بناتا ہے جہاں میں آدمی اپنی جگہ کہہ تو سکتا ہوں مگر مجبور کر سکتا نہیں اختیار اپنی جگہ ہے بے بسی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ سچائی ہوتی ہے نہاں ہر بات میں کہنے والے ٹھیک کہتے ہیں سبھی اپنی جگہ صرف اس کے ہونٹ کاغذ

اتفاق اپنی جگہ خوش قسمتی اپنی جگہ Read More »

فرشتوں سے بھی اچھا میں برا ہونے سے پہلے تھا

فرشتوں سے بھی اچھا میں برا ہونے سے پہلے تھا وہ مجھ سے انتہائی خوش خفا ہونے سے پہلے تھا ۔ کیا کرتے تھے باتیں زندگی بھر ساتھ دینے کی مگر یہ حوصلہ ہم میں جدا ہونے سے پہلے تھا ۔ حقیقت سے خیال اچھا ہے بیداری سے خواب اچھا تصور میں وہ کیسا سامنا

فرشتوں سے بھی اچھا میں برا ہونے سے پہلے تھا Read More »

دیکھ ہم کو نئے حوالوں میں

دیکھ ہم کو نئے حوالوں میں وقت ضائع نہ کر سوالوں میں ہم کہ سقراط کے مقلد ہیں زہر پیتے رہے پیالوں میں ہم وہ سادہ مزاج مومن ہیں آتے رہتے ہیں تیری چالوں میں کیا عجب واقعہ ہوا اب کے بھیڑیے پھنس گئے غزالوں میں چاند اُترا نہ گھر کے آنگن میں چاندی اُتری

دیکھ ہم کو نئے حوالوں میں Read More »

کھڑے تھے دست بدستہ تمام ہم جیسے

کھڑے تھے دست بدستہ تمام ہم جیسے مگر نہیں تھے میسّر غلام ،ہم جیسے کہ ہم نے آنکھیں ہی دہلیز پر رکھی ہوئی تھیں کرے گا کون بھلا اہتمام، ہم جیسے وہاں پہ ایک جماعت تھی چاپلُوسوں کی تو کیسے ہوتے بتا ہمکلام ،ہم جیسے یہ بات اُس کو بڑی دیر میں سمجھ آئیکہ وقت

کھڑے تھے دست بدستہ تمام ہم جیسے Read More »

یہ عشق ہے یہاں جو بھی وفا پرست ہوا

یہ عشق ہے یہاں جو بھی وفا پرست ہواصدائے گردشِ دوراں ، نوائے دشت ہوا بکھر کے رہ گیا دنیا میں مثلِ گرد و غبارمحبتوں کے مقابل جو تاج و تخت ہوا جو ایک بوڑھا شجر تھا محبتوں کا امیںکٹا تو دار کا ساماں وہی درخت ہوا شکم کی آگ توانائیاں بڑھاتی رہیتھکن سے جب

یہ عشق ہے یہاں جو بھی وفا پرست ہوا Read More »

کبھی سنتے تھے اوروں کی زبانی

کبھی سنتے تھے اوروں کی زبانیمگر اب بن رہے ہیں خود کہانی قلم سے دوستی قائم ہے اب تکوگرنہ رائگاں تھی زندگانی ۔۔۔ نہ ہو شکوہ کوئی تیرہ شبی کااگر مل جائیں کچھ صبحیں سہانی رہا صحرا وہی پیاسا کا پیاساسمندر لے گیا ہے سارا پانی کسی اک دل میں تو رہنا ہے آخرنہیں انساں

کبھی سنتے تھے اوروں کی زبانی Read More »

رفاقتوں سے مری ہمکنار کوئی تو ہو

رفاقتوں سے مری ہمکنار کوئی تو ہوشریک کوئی تو ہو، رازدار کوئی تو ہو وصالِ یار ہو یا جذبِ شوق مٹ جائےعلاجِ غم مرے پروردگار کوئی تو ہو میں چل رہا ہوں اکیلا ہی زرد پتوں پرخزاں رتوں میں مرا غمگسار کوئی تو ہو غبارِ راہ جما رہ گیا ہے بالوں پرنشاں سفر کا پئے

رفاقتوں سے مری ہمکنار کوئی تو ہو Read More »

سازشوں کے زاویئے میں آگئے

سازشوں کے زاویئے میں آگئےنام پھر کچھ سانحے میں آگئے خوش گمانی حیرتوں میں ڈھل گئیعکسِ تازہ آئینے میں آ گئے ۔۔۔ اک تعلق کو نبھانے کے لیئےبے بسی کے دائرے میں آ گئے خود سے ہی ہونے لگا ہے اختلافہم ذرا کچھ ضابطے میں آ گئے یہ ہوا ہے آستیں کو جھاڑ کردشمنوں سے

سازشوں کے زاویئے میں آگئے Read More »

جو کارِ زیست میں مشکل مقام آتے ہیں

جو کارِ زیست میں مشکل مقام آتے ہیںترے خیال مرا حوصلہ بڑھاتے ہیں قلیل وقتِ طرب ہے ہمارے حصے میںکشید کرتے ہیں لمحے تو مسکراتے ہیں انا کے خول سے باہر نکل کے بات تو کرصد اختلاف سہی ہاتھ تو ملاتے ہیں یہ شہر سارا ہی فتنہ گروں کی زد پر ہےچلو تو ہم کوئی

جو کارِ زیست میں مشکل مقام آتے ہیں Read More »