یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں
یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں کرو گے یاد، ایسا آدمی ہوں مرا نام و نسب کیا پوچھتے ہو! ذلیل و خوار و رسوا آدمی ہوں تعارف اور کیا اس کے سوا ہو کہ میں بھی آپ جیسا آدمی ہوں زمانے کے جھمیلوں سے مجھے کیا مری جاں! میں تمہارا آدمی ہوں چلے آیا
یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں Read More »