MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لوگوں کو تو ہر بات بتائی نہیں جاتی

لوگوں کو تو ہر بات بتائی نہیں جاتی
تا عرش بھی کیا اپنی دہائی نہیں جاتی

چہرے پہ کئی رنگ مسرت کے ہیں لیکن
حالت دلِ مضطر کی چھپائی نہیں جاتی

یوں اشک مرے دل میں اترتے رہے پیہم
اب لاکھ ہٹانے سے بھی کائی نہیں جاتی

ہم زیست کے قیدی ہیں سزا کاٹ رہے ہیں
تقصیر ہے کیا ہم کو بتائی نہیں جاتی

پندار _ انا سے کبھی باہر نہیں آئے
ورنہ تو کبھی بُوئے گدائی نہیں جاتی

گرچہ ہوں میں دنیا کے حوادث میں گرفتہ
اس دل کی مگر شعلہ نوائی نہیں جاتی

اب ظلمتِ شب چیر کے ابھرے گا سویرا
سورج کی ضیاء قید میں لائی نہیں جاتی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم