MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیں

مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیں تیرے بغیر زیست تو ہے زندگی نہیں . میں درد عاشقی کو سمجھتا ہوں جان و روح کمبخت وہ بھی دل میں کبھی ہے کبھی نہیں. لا غم ہی ڈال دے مرے دست سوال میں . میں کیا کروں خوشی کو جو تیری خوشی نہیں .

مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیں Read More »

خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں

خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں مگر ہاں دل میں کچھ کچھ زیر و بم محسوس کرتا ہوں . محبت کی یہ نیرنگی بھی دنیا سے نرالی ہے الم کوئی نہیں لیکن الم محسوس کرتا ہوں . مری نظروں میں اب باقی نہیں ہے ذوق کفر و دیں میں اک مرکز پہ

خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں Read More »

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے . اے دل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے . اے رہبر کامل چلنے کو

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے Read More »

حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئے

حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئےہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے نا مرادی اپنی قسمت گمرہی اپنا نصیبکارواں کی خیر ہو ہم کارواں تک آ گئے ان کی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پہ ہنسیقصۂ غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے زلف میں خوشبو نہ تھی

حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئے Read More »

وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ

وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ کہاں تک مجھ سے ہمدردی کہاں تک میری غم خواریہزاروں غم ہیں انجانے ستارو تم تو سو جاؤ گزر جائے گی غم کی رات امیدو تو جاگ اٹھوسنبھل جائیں گے دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ

وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ Read More »

تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے

تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گےمیں رو رہا ہوں تم ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے مجھے تو اس درجہ وقت رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہومگر کچھ اپنے لیے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کرو گے ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے

تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے Read More »

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیںاشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیں پھر کوئی کم بخت کشتی نذر طوفاں ہو گئیورنہ ساحل پر اداسی اس قدر ہوتی نہیں تیرا انداز تغافل ہے جنوں میں آج کلچاک کر لیتا ہوں دامن اور خبر ہوتی نہیں ہائے کس عالم میں

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں Read More »

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے

تم نہ مانو مگر حقیقت ہےعشق انسان کی ضرورت ہے جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھزندگی کو مری ضرورت ہے حسن ہی حسن جلوے ہی جلوےصرف احساس کی ضرورت ہے اس کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیااب در و بام سے ندامت ہے اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھوزندگی کتنی خوبصورت ہے

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے Read More »

وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد

وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعدسحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعد ہر انقلاب مبارک ہر انقلاب عذابشکست جام سے پہلے شکست جام کے بعد مجھی پہ اتنی توجہ مجھی سے اتنا گریزمرے سلام سے پہلے مرے سلام کے بعد چراغ بزم ستم ہیں ہمارا حال نہ پوچھجلے

وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد Read More »

ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے

ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہےوحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہے دل رسم و رہ شوق سے مانوس تو ہو لےتکمیل تمنا کے لیے عمر پڑی ہے چاہا بھی اگر ہم نے تری بزم سے اٹھنامحسوس ہوا پاؤں میں زنجیر پڑی ہے آوارہ و رسوا ہی سہی ہم منزل شب میںاک

ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے Read More »