MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بہت قرینے کی زندگی تھی عجب قیامت میں آ بسا ہوں

بہت قرینے کی زندگی تھی عجب قیامت میں آ بسا ہوںسکون کی صبح چاہتا تھا سو شام وحشت میں آ بسا ہوں میں اپنی انگشت کاٹتا تھا کہ بیچ میں نیند آ نہ جائےاگرچہ سب خواب کا سفر تھا مگر حقیقت میں آ بسا ہوں وصال فردا کی جستجو میں نشاط امروز گھٹ رہا ہے

بہت قرینے کی زندگی تھی عجب قیامت میں آ بسا ہوں Read More »

بے حد غم ہیں جن میں اول عمر گزر جانے کا غم

بے حد غم ہیں جن میں اول عمر گزر جانے کا غم ہر خواہش کا دھیرے دھیرے دل سے اتر جانے کا غم ۔ ہر تفصیل میں جانے والا ذہن سوال کی زد پر ہے ہر تشریح کے پیچھے ہے انجام سے ڈر جانے کا غم ۔ جانے کب کس پر کھل جائے شہر فنا

بے حد غم ہیں جن میں اول عمر گزر جانے کا غم Read More »

کہیں گویائی کے ہاتھوں سماعت رو رہی ہے

کہیں گویائی کے ہاتھوں سماعت رو رہی ہے کہیں لب بستہ رہ جانے کی حسرت رو رہی ہے ۔ کسی دیوار پر ناخن نے لکھا ہے رہائی کسی گھر میں اسیری کی اذیت رو رہی ہے ۔ کہیں منبر پہ خوش بیٹھا ہے اک سجدے کا نشہ کسی محراب کے نیچے عبادت رو رہی ہے

کہیں گویائی کے ہاتھوں سماعت رو رہی ہے Read More »

مجھے کل اچانک خیال آ گیا آسماں کھو نہ جائے

مجھے کل اچانک خیال آ گیا آسماں کھو نہ جائے سمندر کو سر کرتے کرتے کہیں بادباں کھو نہ جائے ۔ کوئی نا مرادی کی یلغار سینے کو چھلنی نہ کر دے کہیں دشت انفاس میں صبر کا کارواں کھو نہ جائے ۔ یہ ہنستا ہوا شور سنجیدگی کے لیے امتحاں ہے سو محتاط رہنا

مجھے کل اچانک خیال آ گیا آسماں کھو نہ جائے Read More »

جو بات شرط وصال ٹھہری وہی ہے اب وجہ بد گمانی

جو بات شرط وصال ٹھہری وہی ہے اب وجہ بد گمانی ادھر ہے اس بات پر خموشی ادھر ہے پہلی سے بے زبانی ۔ کسی ستارے سے کیا شکایت کہ رات سب کچھ بجھا ہوا تھا فسردگی لکھ رہی تھی دل پر شکستگی کی نئی کہانی ۔ عجیب آشوب وضع داری ہمارے اعصاب پر ہے

جو بات شرط وصال ٹھہری وہی ہے اب وجہ بد گمانی Read More »

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے ورنہ کہیں تقدیر تماشہ نہ بنا دے . اے دیکھنے والو مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے . میں ڈھونڈھ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے . آخر

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے Read More »

کیا یہ بھی میں بتلا دوں تو کون ہے میں کیا ہوں

کیا یہ بھی میں بتلا دوں تو کون ہے میں کیا ہوں تو جان تماشا ہے میں محو تماشا ہوں . تو باعث ہستی ہے میں حاصل ہستی ہوں تو خالق الفت ہے اور میں ترا بندہ ہوں . جب تک نہ ملا تھا تو اے فتنۂ دو عالم جب درد سے غافل تھا اب

کیا یہ بھی میں بتلا دوں تو کون ہے میں کیا ہوں Read More »

یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائے

یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائے بزم اس شخص کی ہے تو جسے حاصل ہو جائے . ناخدا اے مری کشتی کے چلانے والے لطف تو جب ہے کہ ہر موج ہی ساحل ہو جائے . اس لیے چل کے ہر اک گام پہ رک جاتا ہوں تا نہ بے کیف غم

یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائے Read More »

ترے عشق میں زندگانی لٹا دی

ترے عشق میں زندگانی لٹا دی عجب کھیل کھیلا جوانی لٹا دی . نہیں دل میں داغ تمنا بھی باقی انہیں پر سے ان کی نشانی لٹا دی . کچھ اس طرح ظالم نے دیکھا کہ ہم نے نہ سوچا نہ سمجھا جوانی لٹا دی . تمہارے ہی کارن تمہاری بدولت تمہاری قسم زندگانی لٹا

ترے عشق میں زندگانی لٹا دی Read More »

اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا

اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا خود دل کو بیقرار کیا ہائے کیا کیا معلوم تھا کہ عہد وفا ان کا جھوٹ ہے اس پر بھی اعتبار کیا ہائے کیا کیا وہ دل کہ جس پہ قیمت کونین تھی نثار نظر نگاہ یار کیا ہائے کیا کیا خود ہم نے فاش فاش

اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا Read More »