MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں

مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیںاب تری یاد کے حوالے ہیں زندگی کے حسین چہرے پرغم نے کتنے حجاب ڈالے ہیں کچھ غم زیست کا شکار ہوئےکچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں رہ گزار حیات میں ہم نےخود نئے راستے نکالے ہیں اے شب غم ذرا سنبھال کے رکھہم تری صبح کے اجالے ہیں ذوق

مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں Read More »

کھلا مجھ پر در امکان رکھنا

کھلا مجھ پر در امکان رکھنا مرے مولا مجھے حیران رکھنا . یہی اک مرحلہ منزل نہ ٹھہرے یہی اک مرحلہ آسان رکھنا . مرے دل کا ورق نکلے نہ سادہ کوئی خواہش کوئی ارمان رکھنا . یہ دل طاق چراغ زر نہ ٹھہرے مرے مالک مجھے نادان رکھنا . مرے حالات مجھ کو چھو

کھلا مجھ پر در امکان رکھنا Read More »

بات سے بات نکلنے کے وسیلے نہ رہے

بات سے بات نکلنے کے وسیلے نہ رہے لب رسیلے نہ رہے نین نشیلے نہ رہے . اشک برسے تو دروں خانۂ جاں سیل گیا درد چمکا تو در و بام بھی گیلے نہ رہے . پھول سے باس جدا فکر سے احساس جدا فرد سے ٹوٹ گئے فرد قبیلے نہ رہے . ٹیس اٹھتی

بات سے بات نکلنے کے وسیلے نہ رہے Read More »

اس طرح پھوٹ کے رویا کوئی

اس طرح پھوٹ کے رویا کوئی بے کسوں کا نہیں گویا کوئی ۔ شور سے گونجتے سناٹوں کے وا کرے کیا لب گویا کوئی ۔ سنگ دل جب بھی کوئی یاد آیا لگ کے دیوار سے رویا کوئی ۔ لوٹ کر بھی کوئی بے چین رہا لٹ کے بھی چین سے سویا کوئی ۔ حشر

اس طرح پھوٹ کے رویا کوئی Read More »

خاک پر خاک کی ڈھیریاں رہ گئیں

خاک پر خاک کی ڈھیریاں رہ گئیں آدمی اٹھ گئے نیکیاں رہ گئیں ۔ کس کی تعلیم کا آخری سال تھا چوڑیاں بک گئیں بالیاں رہ گئیں ۔ عشق اک روپ تھا حسن کی دھوپ کا یاد کیوں دھوپ کی سختیاں رہ گئیں ۔ خون میں گھل گئیں سانولی قربتیں تن میں تپتی ہوئی ہڈیاں

خاک پر خاک کی ڈھیریاں رہ گئیں Read More »

بے وفا ہوں نہ وفادار ہوں میں

بے وفا ہوں نہ وفادار ہوں میں سچ تو یہ ہے کہ اداکار ہوں میں ۔ سی دیئے اس نے مرے ہونٹ تو کیا اب مجسم لب اظہار ہوں میں ۔ میرے ہاتھوں میں گڑے ہیں کانٹے پھول ہوں اور سر دار ہوں میں ۔ ہر کرن ڈوب چلی صورت نبض کن اندھیروں میں ضیا

بے وفا ہوں نہ وفادار ہوں میں Read More »

سوچو تو کچھ نہ سمجھو سمجھو تو کچھ نہ بولو

سوچو تو کچھ نہ سمجھو سمجھو تو کچھ نہ بولو پھر چپ کا حسن دیکھو بے کار لب نہ کھولو ۔ نوحہ کناں ہواؤ شعلہ بہ جاں فضاؤ دیکھو وہ جا رہا ہے جی بھر کے اس کو رو لو ۔ ڈالے رہیں بسیرے خوابوں بھرے اندھیرے محلوں کی آس رکھو کٹیا کے پٹ نہ

سوچو تو کچھ نہ سمجھو سمجھو تو کچھ نہ بولو Read More »

اپنے دل کا حال نہ کہنا کیسا لگتا ہے

اپنے دل کا حال نہ کہنا کیسا لگتا ہے تم کو اپنا چپ چپ رہنا کیسا لگتا ہے ۔ دکھ کی بوندیں کیا تم کو بھی کھاتی رہتی ہیں آہستہ آہستہ ڈھہنا کیسا لگتا ہے ۔ درد بھری راتیں جس دم ہلکورے دیتی ہیں دریاؤں کے رخ پر بہنا کیسا لگتا ہے ۔ میں تو

اپنے دل کا حال نہ کہنا کیسا لگتا ہے Read More »

ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں

ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں ۔ حالات کے طلسم نے پتھرا دیا مگر بیتے سموں کی یاد میں کھویا نہ تو نہ میں ۔ ہر چند اختلاف کے پہلو ہزار تھے وا کر سکا مگر لب گویا نہ تو نہ میں

ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں Read More »

کوفۂ شب نے جو تعبیر کی حد جاری کی

کوفۂ شب نے جو تعبیر کی حد جاری کی میں نے جلتے ہوئے خوابوں کی عزا داری کی ۔ وقت نے اس کے مقدر میں لکھی تاریکی جس نے چڑھتے ہوئے سورج کی طرف داری کی ۔ دل دھڑکنے پہ مصر تھا سو دھڑکتا ہی گیا لمحۂ دید کی آنکھوں نے نگہ داری کی ۔

کوفۂ شب نے جو تعبیر کی حد جاری کی Read More »