آنکھیں کھلیں کہ وا در زندان ہو گیا
آنکھیں کھلیں کہ وا در زندان ہو گیا میں روشنی کو دیکھ کے حیران ہو گیا ۔ تجھ سے مشابہت نہیں رکھتا کوئی یہاں اب تجھ کو بھولنا بھی تو آسان ہو گیا ۔ اس نے کہا کہ پھول سے تتلی اڑائیے اتنی سی بات پر میں پریشان ہو گیا ۔ میں خود سے مل
آنکھیں کھلیں کہ وا در زندان ہو گیا Read More »