MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آنکھیں کھلیں کہ وا در زندان ہو گیا

آنکھیں کھلیں کہ وا در زندان ہو گیا میں روشنی کو دیکھ کے حیران ہو گیا ۔ تجھ سے مشابہت نہیں رکھتا کوئی یہاں اب تجھ کو بھولنا بھی تو آسان ہو گیا ۔ اس نے کہا کہ پھول سے تتلی اڑائیے اتنی سی بات پر میں پریشان ہو گیا ۔ میں خود سے مل

آنکھیں کھلیں کہ وا در زندان ہو گیا Read More »

ترے فراق میں دل سے نکال کر دنیا

ترے فراق میں دل سے نکال کر دنیا چلا ہوں سکے کی مانند اچھال کر دنیا ۔ بڑھا لیا ترے دامان کی طرف اک ہاتھ اور ایک ہاتھ میں رکھی سنبھال کر دنیا ۔ میں اپنے حجرے میں نان و نمک پہ قانع تھا وہ چل دیا مری جھولی میں ڈال کر دنیا ۔ ہماری

ترے فراق میں دل سے نکال کر دنیا Read More »

قیام میں بھی کسی راہ پر روانہ تھا

قیام میں بھی کسی راہ پر روانہ تھا مرا مزاج ازل سے مسافرانہ تھا ۔ پڑا تھا اس کے بھی رخ پر نقاب ناموجود مری بھی آنکھ پہ اک دست غائبانہ تھا ۔ ہم اپنی روح ترے جسم ہی میں چھوڑ آئے تجھے گلے سے لگانا تو اک بہانہ تھا ۔ ترے حصول کی بازی

قیام میں بھی کسی راہ پر روانہ تھا Read More »

چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک

چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک کچھ میری حقیقت ہی نہیں آپ کے نزدیک ۔ کچھ قدر تو کرتے مرے اظہار وفا کی شاید یہ محبت ہی نہیں آپ کے نزدیک ۔ یوں غیر سے بے باک اشارے سر محفل کیا یہ مری ذلت ہی نہیں آپ کے نزدیک ۔ عشاق پہ کچھ

چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک Read More »

روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں

روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں اک تماشا دکھا گئیں آنکھیں ۔ مل کے ان کی نگاہ جادو سے دل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں ۔ مجھ کو دکھلا کے راہ کوچۂ یار کس غضب میں پھنسا گئیں آنکھیں ۔ اس نے دیکھا تھا کس نظر سے مجھے دل میں گویا سما گئیں آنکھیں ۔

روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں Read More »

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے وہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے ۔ دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزاد ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے ۔ خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ۔ ترے ستم سے میں خوش

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے Read More »

آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی

آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی اڑ گئی مفت میں ہنسی دل کی . خو ہے از بس کہ عاشقی دل کی غم سے وابستہ ہے خوشی دل کی . یاد ہر حال میں رہے وہ مجھے الغرض بات رہ گئی دل کی . مل چکی ہم کو ان سے داد وفا جو

آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی Read More »

وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے

وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے کہ دل رہ گیا مدعا کہتے کہتے ۔ مرا عشق بھی خود غرض ہو چلا ہے ترے حسن کو بے وفا کہتے کہتے ۔ شب غم کس آرام سے سو گئے ہیں فسانہ تری یاد کا کہتے کہتے ۔ یہ کیا پڑ گئی خوئے دشنام تم

وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے Read More »

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام ۔ حیرت غرور حسن سے شوخی سے اضطراب دل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام ۔ اللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخود رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام ۔ دل خون ہو چکا ہے جگر ہو

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام Read More »

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں ۔ نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے شراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں ۔ رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامی وہ دشت خود فراموشی کے چکر یاد آتے

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں Read More »