MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے ۔ باہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاق تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے ۔ بار بار اٹھنا اسی جانب نگاہ شوق کا اور ترا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے ۔ تجھ سے

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے Read More »

نالۂ جان خستہ جاں عرش بریں پہ جائے کیوں

نالۂ جان خستہ جاں عرش بریں پہ جائے کیوں میرے لئے زمین پر صاحب عرش آئے کیوں ۔ نور زمین و آسماں دیدۂ دل میں آئے کیوں میرے سیاہ خانے میں کوئی دیا جلائے کیوں ۔ زخم کو گھاؤ کیوں بناؤ درد کو اور کیوں بڑھاؤ نسبت ہو کو توڑ کر کیجئے ہائے ہائے کیوں

نالۂ جان خستہ جاں عرش بریں پہ جائے کیوں Read More »

یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتا

یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتا کوئی تم سا نظر نہیں آتا ۔ ڈھونڈتی ہیں جسے مری آنکھیں وہ تماشا نظر نہیں آتا ۔ ہو چلی ختم انتظار میں عمر کوئی آتا نظر نہیں آتا ۔ جھولیاں سب کی بھرتی جاتی ہیں دینے والا نظر نہیں آتا ۔ زیر سایہ ہوں اس کے اے

یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتا Read More »

اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا

اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا ہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتا ۔ جو آنکھوں اوٹ ہے چہرہ اسی کو دیکھ کر جینا یہ سوچا تھا کہ آساں ہے مگر آساں نہیں ہوتا ۔ بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا

اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا Read More »

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا یہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہا ۔ جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکی کسی کارواں کا جو ذکر تھا وہ پس غبار کہاں رہا ۔ یہ طلوع روز ملال ہے سو گلہ بھی کس سے

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا Read More »

ویسے ہی خیال آ گیا ہے

ویسے ہی خیال آ گیا ہے یا دل میں ملال آ گیا ہے ۔ آنسو جو رکا وہ کشت جاں میں بارش کی مثال آ گیا ہے ۔ غم کو نہ زیاں کہو کہ دل میں اک صاحب حال آ گیا ہے ۔ جگنو ہی سہی فصیل شب میں آئینہ خصال آ گیا ہے ۔

ویسے ہی خیال آ گیا ہے Read More »

ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی

ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی اس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھی ۔ وہی خانہ بدوش امیدیں وہی بے صبر دل کی خو ہے ابھی ۔ دل کے گنجان راستوں پہ کہیں تیری آواز اور تو ہے ابھی ۔ زندگی کی طرح خراج طلب کوئی درماندہ آرزو ہے ابھی ۔ بولتے ہیں دلوں

ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی Read More »

آخری ٹیس آزمانے کو

آخری ٹیس آزمانے کو جی تو چاہا تھا مسکرانے کو ۔ یاد اتنی بھی سخت جاں تو نہیں اک گھروندا رہا ہے ڈھانے کو ۔ سنگریزوں میں ڈھل گئے آنسو لوگ ہنستے رہے دکھانے کو ۔ زخم نغمہ بھی لو تو دیتا ہے اک دیا رہ گیا جلانے کو ۔ جلنے والے تو جل بجھے

آخری ٹیس آزمانے کو Read More »

گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید

گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید راہ میں سنگ وفا تھا شاید ۔ اس قدر تیز ہوا کے جھونکے شاخ پر پھول کھلا تھا شاید ۔ جس کی باتوں کے فسانے لکھے اس نے تو کچھ نہ کہا تھا شاید ۔ لوگ بے مہر نہ ہوتے ہوں گے وہم سا دل کو ہوا تھا

گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید Read More »