اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا
اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانادعا آساں نہیں رہنا سخن دشوار ہو جانا تمہیں دیکھیں نگاہیں اور تم کو ہی نہیں دیکھیںمحبت کے سبھی رشتوں کا یوں نادار ہو جانا ابھی تو بے نیازی میں تخاطب کی سی خوشبو تھیہمیں اچھا لگا تھا درد کا دل دار ہو جانا اگر سچ اتنا
اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا Read More »