MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا

اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانادعا آساں نہیں رہنا سخن دشوار ہو جانا تمہیں دیکھیں نگاہیں اور تم کو ہی نہیں دیکھیںمحبت کے سبھی رشتوں کا یوں نادار ہو جانا ابھی تو بے نیازی میں تخاطب کی سی خوشبو تھیہمیں اچھا لگا تھا درد کا دل دار ہو جانا اگر سچ اتنا

اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا Read More »

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئےآئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچےخوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاںیاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے ۔تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنامقدور نہیں صبح

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے Read More »

ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں

ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریںبے کار جائیں اپنی دعائیں تو کیا کریں اک زہرہ وش ہے آنکھ کے پردوں میں جلوہ گرنظروں میں آسماں نہ سمائیں تو کیا کریں مانا کہ سب کے سامنے ملنے سے ہے حجابلیکن وہ خواب میں بھی نہ آئیں تو کیا کریں ہم لاکھ قسمیں

ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں Read More »

محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں

محبت کی دنیا میں مشہور کر دوںمری سادہ دل تجھ کو مغرور کر دوں ترے دل کو ملنے کی خود آرزو ہوتجھے اس قدر غم سے رنجور کر دوں مجھے زندگی دور رکھتی ہے تجھ سےجو تو پاس ہو تو اسے دور کر دوں محبت کے اقرار سے شرم کب تککبھی سامنا ہو تو مجبور

محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں Read More »

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا Arzu visal ki rakhti hai pareshan kya kya

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیاکیا بتاؤں کہ مرے دل میں ہیں ارماں کیا کیا غم عزیزوں کا حسینوں کی جدائی دیکھیدیکھیں دکھلائے ابھی گردش دوراں کیا کیا ان کی خوشبو ہے فضاؤں میں پریشاں ہر سوناز کرتی ہے ہوائے چمنستاں کیا کیا دشت غربت میں رلاتے ہیں ہمیں یاد آ کراے وطن

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا Arzu visal ki rakhti hai pareshan kya kya Read More »

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریںاس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں مجھ کو یہ اعتراف دعاؤں میں ہے اثرجائیں نہ عرش پر جو دعائیں تو کیا کریں اک دن کی بات ہو تو اسے بھول جائیں ہمنازل ہوں دل پہ روز بلائیں تو کیا کریں ظلمت بدوش ہے

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں Read More »

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئےکیا کچھ ہوا ہے دل پہ اثر کچھ نہ پوچھئے وہ دیکھنا کسی کا کنکھیوں سے بار باروہ بار بار اس کا اثر کچھ نہ پوچھئے رو رو کے کس طرح سے کٹی رات کیا کہیںمر مر کے کیسے کی ہے سحر کچھ نہ پوچھئے اخترؔ دیار

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے Read More »

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئےرات دن صورت کو دیکھا کیجئے چاندنی راتوں میں اک اک پھول کوبے خودی کہتی ہے سجدہ کیجئے جو تمنا بر نہ آئے عمر بھرعمر بھر اس کی تمنا کیجئے عشق کی رنگینیوں میں ڈوب کرچاندنی راتوں میں رویا کیجئے پوچھ بیٹھے ہیں ہمارا حال وہبے خودی تو ہی

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے Read More »

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتاتم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتا ترک دنیا کا یہ دعویٰ ہے فضول اے زاہدبار ہستی تو ذرا سر سے اتارا ہوتا وہ اگر آ نہ سکے موت ہی آئی ہوتیہجر میں کوئی تو غمخوار ہمارا ہوتا زندگی کتنی مسرت سے گزرتی یا ربعیش کی طرح

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا Read More »

اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے

اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئےوہ عمر کیا ہوئی وہ زمانے کدھر گئے ویراں ہیں صحن و باغ بہاروں کو کیا ہواوہ بلبلیں کہاں وہ ترانے کدھر گئے ہے نجد میں سکوت ہواؤں کو کیا ہوالیلائیں ہیں خموش دوانے کدھر گئے اجڑے پڑے ہیں دشت غزالوں پہ کیا بنیسونے ہیں کوہسار دوانے کدھر

اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے Read More »