MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے

دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گےفلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گےنیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوںاور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر

دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے Read More »

رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح

رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرحاٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح آتا نہیں ہے وہ تو کسی ڈھب سے داؤ میںبنتی نہیں ہے ملنے کی اس کے کوئی طرح تشبیہ کس سے دوں کہ طرح دار کی مرےسب سے نرالی وضع ہے سب سے نئی طرح مر چک کہیں کہ

رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح Read More »

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھوہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو اس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرااس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو چشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرت ناصحطرز نگہ چشم فسوں ساز تو دیکھو ارباب ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلےکم طالعی

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو Read More »

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتارنج راحت فزا نہیں ہوتا بے وفا کہنے کی شکایت ہےتو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا ذکر اغیار سے ہوا معلومحرف ناصح برا نہیں ہوتا کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیکجنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئےورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا اس نے

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا Read More »

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پرمجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ نئے گلے

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو Read More »

وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھے

وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھےخواب کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے اس پری وش سے لگاتے ہیں مجھےلوگ دیوانہ بناتے ہیں مجھے یا رب ان کا بھی جنازہ اٹھےیار اس کو سے اٹھاتے ہیں مجھے ابروئے تیغ سے ایما ہے کہ آقتل کرنے کو بلاتے ہیں مجھے بے وفائی کا عدو کی ہے گلہلطف

وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھے Read More »

اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو

اتنے خاموش بھی رہا نہ کروغم جدائی میں یوں کیا نہ کرو خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیےان میں جا کر مگر رہا نہ کرو کچھ نہ ہوگا گلہ بھی کرنے سےظالموں سے گلہ کیا نہ کرو ان سے نکلیں حکایتیں شایدحرف لکھ کر مٹا دیا نہ کرو اپنے رتبے کا کچھ لحاظ منیرؔیار سب

اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو Read More »

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیادنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنےاک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاںشام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا دل کی

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا Read More »

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتےسوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے خراب صدیوں کی بے خوابیاں تھیں آنکھوں میںاب ان بے انت خلاؤں میں خواب کیا دیتے ہوا کی طرح مسافر تھے دلبروں کے دلانہیں بس ایک ہی گھر کا عذاب کیا دیتے شراب دل کی طلب تھی شرع کے پہرے میںہم

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے Read More »

بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کر لیا

بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کر لیااپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیا جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیںاس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا غیر سے نفرت جو پا لی خرچ خود پر ہو گئیجتنے ہم تھے ہم نے خود کو

بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کر لیا Read More »