MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ظالم سے مصطفیٰ کا عمل چاہتے ہیں لوگ

ظالم سے مصطفیٰ کا عمل چاہتے ہیں لوگسوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگ کافی ہے جن کے واسطے چھوٹا سا اک مکاںپوچھے کوئی تو شیش محل چاہتے ہیں لوگ سائے کی مانگتے ہیں ردا آفتاب سےپتھر سے آئنے کا بدل چاہتے ہیں لوگ کب تک کسی کی زلف پریشاں کا تذکرہکچھ اپنی الجھنوں

ظالم سے مصطفیٰ کا عمل چاہتے ہیں لوگ Read More »

رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیں

رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیںیہ پرندے کہاں سے آئے ہیں بیٹھ جاتے ہیں راہ رو تھک کرکتنے ہمت شکن یہ سائے ہیں دھوپ اپنی زمین ہے اپنیپیڑ اپنے نہیں پرائے ہیں اپنے احباب کی خوشی کے لئےبلا ارادہ بھی مسکرائے ہیں دشمنوں کو قریب سے دیکھادوستوں کے فریب کھائے ہیں ہم نے توڑا ہے

رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیں Read More »

کتنے باہوش ہو گئے ہم لوگ

کتنے باہوش ہو گئے ہم لوگخود فراموش ہو گئے ہم لوگ جس نے چاہا ہمیں اذیت دیاور خاموش ہو گئے ہم لوگ دل کی آواز بھی نہیں سنتےکیا گراں گوش ہو گئے ہم لوگ ہم کو دنیا نے پارسا سمجھاجب خطا کوش ہو گئے ہم لوگ پی گئے جھڑکیاں بھی ساقی کیکیا بلانوش ہو گئے

کتنے باہوش ہو گئے ہم لوگ Read More »

خشک دریا پڑا ہے خواہش کا

خشک دریا پڑا ہے خواہش کاخواب دیکھا تھا ہم نے بارش کا مستقل دل جلائے رکھتا ہےہے یہ موسم ہوا کی سازش کا اس سے کہنے کو تو بہت کچھ ہےوقت ملتا نہیں گزارش کا کوئی اس سے تو کچھ نہیں کہتابو رہا ہے جو بیچ رنجش کا پا بہ زنجیر چل رہے ہیں جو

خشک دریا پڑا ہے خواہش کا Read More »

اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا

اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گاسورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گا فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتےخوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا پڑتی ہے تو پڑ جائے شکن اس کی جبیں پرسچائی کا اظہار تو کرنا ہی پڑے گا ہر شخص کو آئیں گے نظر رنگ

اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا Read More »

ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہے

ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہےیہ کون ہے جو مرے گھر کے پاس رہتا ہے یہ اور بات کہ ملتا نہیں کوئی اس سےمگر وہ شخص سراپا سپاس رہتا ہے جہاں پہ ڈوب گیا میری آس کا سورجاسی جگہ وہ ستارہ شناس رہتا ہے گزر رہا ہوں میں سودا گروں کی بستی سےبدن پہ

ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہے Read More »

اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے

اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرےمگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرے اسے تو اپنی بھی صورت نظر نہیں آتیوہ اپنے شیشۂ دل کی تو گرد صاف کرے کیا جو اس نے مرے ساتھ نا مناسب تھامعاف کر دیا میں نے خدا معاف کرے وہ شخص جو کسی مسجد میں جا

اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے Read More »

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوںدیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوں کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لیناوہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہےمیں اپنے گھر کے در و بام چھوڑ آیا ہوں کوئی چراغ سر رہ گزر

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں Read More »

قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق

قہر ہے موت ہے قضا ہے عشقسچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشق اثر غم ذرا بتا دیناوہ بہت پوچھتے ہیں کیا ہے عشق آفت جاں ہے کوئی پردہ نشیںکہ مرے دل میں آ چھپا ہے عشق بوالہوس اور لاف جانبازیکھیل کیسا سمجھ لیا ہے عشق وصل میں احتمال شادی مرگچارہ گر درد بے

قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق Read More »

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہمپر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی سے ہممنہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بے کسی سے ہم ہم سے نہ بولو تم اسے کیا کہتے ہیں بھلاانصاف کیجے پوچھتے ہیں آپ ہی سے ہم

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم Read More »