MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنااک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لب لعلیں کیاک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئےپردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سےاک چاند سا آنکھوں

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا Read More »

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیںتو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھایوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں ہر طرف دیوار و در اور ان میں آنکھوں کے ہجومکہہ سکے جو دل کی حالت وہ

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں Read More »

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہیبجھ گیا دل چراغ جلتے ہی کھل گئے شہر غم کے دروازےاک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی کون تھا تو کہ پھر نہ دیکھا تجھےمٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سےماہ شب تاب کے نکلتے ہی تو بھی جیسے بدل سا جاتا ہےعکس

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی Read More »

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھےسوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے گیا تو اس طرح گیا کہ مدتوں نہیں ملاملا جو پھر تو یوں کہ وہ ملال میں ملا مجھے تمام علم زیست کا گزشتگاں سے ہی ہواعمل گزشتہ دور کا مثال میں ملا مجھے ہر ایک سخت وقت کے

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے Read More »

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہواسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہوبہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں Read More »

اجنبی خواہشیں سینے میں دبا بھی نہ سکوں

اجنبی خواہشیں سینے میں دبا بھی نہ سکوںایسے ضدی ہیں پرندے کہ اڑا بھی نہ سکوں پھونک ڈالوں گا کسی روز میں دل کی دنیایہ ترا خط تو نہیں ہے کہ جلا بھی نہ سکوں مری غیرت بھی کوئی شے ہے کہ محفل میں مجھےاس نے اس طرح بلایا ہے کہ جا بھی نہ سکوں

اجنبی خواہشیں سینے میں دبا بھی نہ سکوں Read More »

صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہئے

صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہئےاے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہئے شہر کی ساری الف لیلائیں بوڑھی ہو چکیںشاہزادے کو کوئی تازہ کہانی چاہئے میں نے اے سورج تجھے پوجا نہیں سمجھا تو ہےمیرے حصے میں بھی تھوڑی دھوپ آنی چاہئے میری قیمت کون دے سکتا ہے اس بازار میںتم زلیخا

صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہئے Read More »

کہیں اکیلے میں مل کر جھنجھوڑ دوں گا اسے

کہیں اکیلے میں مل کر جھنجھوڑ دوں گا اسےجہاں جہاں سے وہ ٹوٹا ہے جوڑ دوں گا اسے مجھے وہ چھوڑ گیا یہ کمال ہے اس کاارادہ میں نے کیا تھا کہ چھوڑ دوں گا اسے بدن چرا کے وہ چلتا ہے مجھ سے شیشہ بدناسے یہ ڈر ہے کہ میں توڑ پھوڑ دوں گا

کہیں اکیلے میں مل کر جھنجھوڑ دوں گا اسے Read More »

بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیے

بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیےمیں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہیے اللہ برکتوں سے نوازے گا عشق میںہے جتنی پونجی پاس لگا دینی چاہیے دل بھی کسی فقیر کے حجرے سے کم نہیںدنیا یہیں پہ لا کے چھپا دینی چاہیے میں خود بھی کرنا چاہتا ہوں اپنا سامناتجھ کو بھی اب نقاب اٹھا

بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیے Read More »

تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے

تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کےدل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے آتے جاتے ہیں کئی رنگ مرے چہرے پرلوگ لیتے ہیں مزا ذکر تمہارا کر کے ایک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اسےوہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اشارہ کر کے آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہے میں نےچند

تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے Read More »