MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے

ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتےجان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہےعمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے اب کے مایوس ہوا یاروں کو رخصت کر کےجا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ورنہہم جدھر

ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے Read More »

روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے

روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہےچاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے ایک دیوانہ مسافر ہے مری آنکھوں میںوقت بے وقت ٹھہر جاتا ہے چل پڑتا ہے اپنی تعبیر کے چکر میں مرا جاگتا خوابروز سورج کی طرح گھر سے نکل پڑتا ہے روز پتھر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیںروز شیشوں

روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے Read More »

آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو

آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھوزندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو راہ کے پتھر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں منزلیںراستے آواز دیتے ہیں سفر جاری رکھو ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستودوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو آتے جاتے پل یہ کہتے ہیں ہمارے کان میںکوچ

آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو Read More »

اک حرف شوق لب پہ ہے اور التجا کے ساتھ

اک حرف شوق لب پہ ہے اور التجا کے ساتھمیں اک نئے سفر پہ ہوں اپنی انا کے ساتھ میں نے عبادتوں کو محبت بنا دیاآنکھیں بتوں کے ساتھ رہیں دل خدا کے ساتھ کس قحط اعتبار سے گزرے ہیں اہل دلرنگ وفا بھی اڑ گیا رنگ حنا کے ساتھ میرا وجود حرف تقاضا بنا

اک حرف شوق لب پہ ہے اور التجا کے ساتھ Read More »

مرے وجود کو اس نے عجب کمال دیا

مرے وجود کو اس نے عجب کمال دیاکہ مشت خاک تھا افلاک پر اچھال دیا مکاں کو جھوٹے مکینوں سے پاک کرنا تھاسو میں نے اس سے ہر امید کو نکال دیا مری طلب میں تکلف بھی انکسار بھی تھاوہ نکتہ سنج تھا سب میرے حسب حال دیا بدل کے رکھ دیے ہجر و وصال

مرے وجود کو اس نے عجب کمال دیا Read More »

چہرے کو بحال کر رہا ہوں

چہرے کو بحال کر رہا ہوںدنیا کا خیال کر رہا ہوں اک کار محال کر رہا ہوںزندہ ہوں کمال کر رہا ہوں وہ غم جو ابھی ملے نہیں ہیںمیں ان کا ملال کر رہا ہوں اشعار بھی دعوت عمل ہیںتقلید بلال کر رہا ہوں تصویر کو آئینہ بنا کرتشریح جمال کر رہا ہوں چہرے پہ

چہرے کو بحال کر رہا ہوں Read More »

خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہے

خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہےبزم سی بزم ہے تنہائی سی تنہائی ہے وہ ہے خاموش مگر اس کے سکوت لب پررقص کرتا ہوا اک عالم گویائی ہے جب اندھیرے مری آنکھوں کا لہو چاٹ چکےتب ان آنکھوں میں رفاقت کی چمک آئی ہے اب خدا اس کو بنایا ہے تو یاد آتا ہےجیسے

خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہے Read More »

شہر میں جب بھی زلیخا سے خریدار آئے

شہر میں جب بھی زلیخا سے خریدار آئےکتنے یوسف تھے کہ خود ہی سر بازار آئے چھیڑ دی قامت و گیسو کی حکایت ہم نےکسی صورت سے تو ذکر رسن و دار آئے جب بھی زنداں میں اسیروں کو ملا مژدۂ گلمیری نظروں میں تمہارے لب و رخسار آئے دوسری راہ وفا میں کوئی منزل

شہر میں جب بھی زلیخا سے خریدار آئے Read More »

عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں

عشق تک اپنی دسترس بھی نہیںاور دل مائل ہوس بھی نہیں اب کہاں جائیں گے خراب بہارآشیاں بھی نہیں قفس بھی نہیں برق کی بیکسی کو روتا ہوںاب نشیمن میں خار و خس بھی نہیں کس نے دیکھا شگفتگی کا مآلزندگی اتنی دور رس بھی نہیں ہم اسیروں کے واسطے سرشاررسم پابندئ قفس بھی نہیں

عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں Read More »

صحرا ہی غنیمت ہے، جو گھر جاؤ گے لوگو

صحرا ہی غنیمت ہے، جو گھر جاؤ گے لوگووہ عالم وحشت ہے کہ مر جاؤ گے لوگو یادوں کے تعاقب میں اگر جاؤ گے لوگومیری ہی طرح تم بھی بکھر جاؤ گے لوگو وہ موج صبا بھی ہو تو ہشیار ہی رہناسوکھے ہوئے پتے ہو بکھر جاؤ گے لوگو اس خاک پہ موسم تو گزرتے

صحرا ہی غنیمت ہے، جو گھر جاؤ گے لوگو Read More »