ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں
ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میںمادہ جیسے نکھر جائے توانائی میں پہلے منزل پس منزل پس منزل اور پھرراستے ڈوب گئے عالم تنہائی میں گاہے گاہے کوئی جگنو سا چمک اٹھتا ہےمیرے ظلمت کدۂ انجمن آرائی میں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں خود اپنی بصارت کی حدودکھو گئی ہیں مری نظریں مری بینائی میں ان
ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں Read More »