MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں

ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میںمادہ جیسے نکھر جائے توانائی میں پہلے منزل پس منزل پس منزل اور پھرراستے ڈوب گئے عالم تنہائی میں گاہے گاہے کوئی جگنو سا چمک اٹھتا ہےمیرے ظلمت کدۂ انجمن آرائی میں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں خود اپنی بصارت کی حدودکھو گئی ہیں مری نظریں مری بینائی میں ان

ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں Read More »

رئیسؔ اشکوں سے دامن کو بھگو لیتے تو اچھا تھا

رئیسؔ اشکوں سے دامن کو بھگو لیتے تو اچھا تھاحضور دوست کچھ گستاخ ہو لیتے تو اچھا تھا جدائی میں یہ شرط ضبط غم تو مار ڈالے گیہم ان کے سامنے کچھ دیر رو لیتے تو اچھا تھا بہاروں سے نہیں جن کو توقع لالہ و گل کیوہ اپنے واسطے کانٹے ہی بو لیتے تو

رئیسؔ اشکوں سے دامن کو بھگو لیتے تو اچھا تھا Read More »

اب دل کی یہ شکل ہو گئی ہے

اب دل کی یہ شکل ہو گئی ہےجیسے کوئی چیز کھو گئی ہے پہلے بھی خراب تھی یہ دنیااب اور خراب ہو گئی ہے اس بحر میں کتنی کشتیوں کوساحل کی ہوا ڈبو گئی ہے گل جن کی ہنسی اڑا چکے تھےشبنم بھی انہیں کو رو گئی ہے کل سے وہ اداس اداس ہیں کچھشاید

اب دل کی یہ شکل ہو گئی ہے Read More »

دل سے یا گلستاں سے آتی ہے

دل سے یا گلستاں سے آتی ہےتیری خوشبو کہاں سے آتی ہے کتنی مغرور ہے نسیم سحرشاید اس آستاں سے آتی ہے خود وہی میر کارواں تو نہیںبوئے خوش کارواں سے آتی ہے ان کے قاصد کا منتظر ہوں میںاے اجل! تو کہاں سے آتی ہے شکوہ کیسا کہ ہر بلا اے دوستجانتا ہوں جہاں

دل سے یا گلستاں سے آتی ہے Read More »

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہمگہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم صدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہےصدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہم ذرے کے زخم دل پہ توجہ کئے بغیردرمان درد شمس و قمر کر رہے ہیں ہم ہر چند ناز حسن پہ غالب نہ آ سکےکچھ اور

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم Read More »

حال غم ان کو سناتے جائیے

حال غم ان کو سناتے جائیےشرط یہ ہے مسکراتے جائیے آپ کو جاتے نہ دیکھا جائے گاشمع کو پہلے بجھاتے جائیے شکریا لطف مسلسل کا مگرگاہے گاہے دل دکھاتے جائیے دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گادوستوں کو آزماتے جائیے روشنی محدود ہو جن کی خمارؔان چراغوں کو بجھاتے جائیے خمار بارہ بنکوی

حال غم ان کو سناتے جائیے Read More »

اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیں

اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیںمری یاد سے جنگ فرما رہے ہیں یہ کیسی ہوائے ترقی چلی ہےدیے تو دیے دل بجھے جا رہے ہیں الٰہی مرے دوست ہوں خیریت سےیہ کیوں گھر میں پتھر نہیں آ رہے ہیں بہشت تصور کے جلوے ہیں میں ہوںجدائی سلامت مزے آ رہے ہیں قیامت کے آنے

اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیں Read More »

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھےدو گنہ گار زہر کھا بیٹھے حال غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھےتیر مارے تھے تیر کھا بیٹھے آندھیو جاؤ اب کرو آرامہم خود اپنا دیا بجھا بیٹھے جی تو ہلکا ہوا مگر یارورو کے ہم لطف غم گنوا بیٹھے بے سہاروں کا حوصلہ ہی کیاگھر میں گھبرائے در پہ

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے Read More »

حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے

حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیےعشق کے مغفرت کی دعا کیجیے اس سلیقے سے ان سے گلہ کیجیےجب گلہ کیجیے ہنس دیا کیجیے دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیےسامنے آئنہ رکھ لیا کیجیے آپ سکھ سے ہیں ترک تعلق کے بعداتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے زندگی کٹ رہی ہے بڑے چین سےاور غم ہوں

حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے Read More »

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہیجذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نویدوہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہادل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی کمزوریٔ نگاہ نے سنجیدہ کر دیاجلووں سے چھیڑ چھاڑ کی

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی Read More »