MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہےدیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہےترا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے کھٹک گدگدی کا مزا دے رہی ہےجسے عشق کہتے ہیں شاید یہی ہے وہ موجود ہیں اور ان کی کمی ہےمحبت بھی تنہائی دائمی ہے

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے Read More »

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئےدو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئے بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہمقسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے آغاز عاشقی کا مزا آپ جانئےانجام عاشقی کا مزا ہم سے پوچھئے جلتے دیوں میں جلتے گھروں جیسی ضو کہاںسرکار روشنی کا

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے Read More »

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیںجنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیںجنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیںتو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کیوہ پتھر مرے گھر میں آنے لگے ہیں یہ کہنا

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں Read More »

گلے لگائیں کریں تم کو پیار عید کے دن

گلے لگائیں کریں تم کو پیار عید کے دنادھر تو آؤ مرے گلعذار عید کے دن غضب کا حسن ہے آرائشیں قیامت کیعیاں ہے قدرت پروردگار عید کے دن سنبھل سکی نہ طبیعت کسی طرح میریرہا نہ دل پہ مجھے اختیار عید کے دن وہ سال بھر سے کدورت بھری جو تھی دل میںوہ دور

گلے لگائیں کریں تم کو پیار عید کے دن Read More »

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیںڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں معرفت خالق کی عالم میں بہت دشوار ہےشہر تن میں جب کہ خود اپنا پتا ملتا نہیں غافلوں کے لطف کو کافی ہے دنیاوی خوشیعاقلوں کو بے غم عقبیٰ مزا ملتا نہیں کشتئ دل کی الٰہی بحر ہستی میں

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں Read More »

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیںآرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیںفالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں چاہتا تھا بہت سی باتوں کومگر افسوس اب وہ جی ہی نہیں جرأت عرض حال کیا ہوتینظر لطف اس نے کی ہی نہیں اس مصیبت میں دل سے کیا

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں Read More »

آہ جو دل سے نکالی جائے گی

آہ جو دل سے نکالی جائے گیکیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی اس نزاکت پر یہ شمشیر جفاآپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی کیا غم دنیا کا ڈر مجھ رند کواور اک بوتل چڑھا لی جائے گی شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیااحتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی یاد ابرو میں

آہ جو دل سے نکالی جائے گی Read More »

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتےارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتےسچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصلتم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولےکیوں

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے Read More »

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتاآنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیابلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا اللہ بچائے مرض عشق سے دل کوسنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا Read More »

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوںبازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقیہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوثسایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجتغم

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں Read More »