MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے

مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہےیہ محبت نہیں ہے آفت ہے لوگ کہتے ہیں عاشقی جس کومیں جو دیکھا بڑی مصیبت ہے بند احکام عقل میں رہنایہ بھی اک نوع کی حماقت ہے ایک ایمان ہے بساط اپنینہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے آ پھنسوں میں بتوں کے دام میں یوںدردؔ یہ بھی

مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے Read More »

ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو

ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کوعیاں جب ہر جگہ دیکھوں اسی کے ناز پنہاں کو تجھے اے شمع کیا دیکھیں زمانے کو دکھانا ہےہمیں جوں کاغذ آتش زدہ اور ہی چراغاں کو نہ تنہا کچھ یہی اطفال دشمن ہیں دوانوں کےبھرے ہے کوہ بھی دیکھا تو یاں پتھروں سے داماں کو

ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو Read More »

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریںدل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریں مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمائیاںہم آئنے کے سامنے جب آ کے ہو کریں تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیودامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہمپر

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں Read More »

آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے

آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئےخوابیدہ زندگی تھی جگا کر چلے گئے حسن ازل کی شان دکھا کر چلے گئےاک واقعہ سا یاد دلا کر چلے گئے چہرے تک آستین وہ لا کر چلے گئےکیا راز تھا کہ جس کو چھپا کر چلے گئے رگ رگ میں اس طرح وہ سما

آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے Read More »

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساسدرد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا عشق جب تک نہ کر چکے رسواآدمی کام کا نہیں ہوتا ٹوٹ پڑتا ہے دفعتاً جو عشقبیشتر دیر پا نہیں ہوتا وہ بھی ہوتا ہے ایک وقت کہ جبماسوا ماسوا نہیں ہوتا ہائے کیا ہو گیا طبیعت کوغم بھی راحت فزا نہیں ہوتا

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس Read More »

کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے

کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہےجب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے ایمان و کفر اور نہ دنیا و دیں رہےاے عشق شاد باش کہ تنہا ہمیں رہے عالم جب ایک حال پہ قائم نہیں رہےکیا خاک اعتبار نگاہ یقیں رہے میری زباں پہ شکوہ درد آفریں رہےشاید مرے حواس ٹھکانے

کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے Read More »

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میںکتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں دنیائے دل تباہ کئے جا رہا ہوں میںصرف نگاہ و آہ کئے جا رہا ہوں میں فرد عمل سیاہ کئے جا رہا ہوں میںرحمت کو بے پناہ کئے جا رہا ہوں میں ایسی بھی اک نگاہ کئے جا

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں Read More »

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہےیہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دویہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے Read More »

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاداب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد میں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یادشاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نےاب تک ہے وہ اک نغمۂ بے ساز و صدا یاد جب کوئی

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد Read More »

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں بے فائدہ الم نہیں بے کار غم نہیںتوفیق دے خدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں میری زباں پہ شکوۂ اہل ستم نہیںمجھ کو جگا دیا یہی احسان کم نہیں یا رب ہجوم درد کو دے اور وسعتیںدامن

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں Read More »