کیا مجھ عشق نے ظالم کو آہستہ آہستہ
کیا مجھ عشق نے ظالم کو آہستہ آہستہ Read More »
وحشی تھے مگر بوئے گل کی طرح سے جہاں میں ہمنکلے تو پھر کے آئے نہ اپنے مکاں میں ہم شیدائے روئے گل نہ ہیں شیدائے قد سروصیاد کے شکار ہیں اس بوستاں میں ہم نکلی لبوں سے آہ کہ گردوں نشانہ تھاگویا کہ تیر جوڑے ہوئے تھے کماں میں ہم آلودۂ گناہ ہے اپنا
وحشی تھے مگر بوئے گل کی طرح سے جہاں میں ہم Read More »
وصل کی شب رنگ گردوں نعمت دیگر ہو گیاشام سے یار اور میں جامہ سے باہر ہو گیا اس شہ خوباں کو جب لکھا عریضہ شوق کااس قدر لوٹا ہما اس پرقطرہ کبوتر ہو گیا کو بہ کو پھرتا ہوں میں خانہ خرابوں کی طرحجیسے سودے کا ترے سر میں میرے گھر ہو گیا بوجھ
وصل کی شب رنگ گردوں نعمت دیگر ہو گیا Read More »
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیاکہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سےبخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکفقاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا اڑتا ہے شوق راحت منزل سے اسپ
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا Read More »
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتےہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوازبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہکسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہےسفید رنگ ہیں آخر سیاہ مو
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے Read More »
مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہےزباں جب تلک ہے یہی گفتگو ہے خدا جانے کیا ہوگا انجام اس کامیں بے صبر اتنا ہوں وہ تند خو ہے تمنا تری ہے اگر ہے تمناتری آرزو ہے اگر آرزو ہے کیا سیر سب ہم نے گلزار دنیاگل دوستی میں عجب رنگ و بو ہے غنیمت
مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہے Read More »
عشق ہرچند مری جان سدا کھاتا ہےپر یہ لذت تو وہ ہے جی ہی جسے پاتا ہے آہ کب تک میں بکوں تیری بلا سنتی ہےباتیں لوگوں کی جو کچھ دل مجھے سنواتا ہے ہم نشیں پوچھ نہ اس شوخ کی خوبی مجھ سےکیا کہوں تجھ سے غرض جی کو مرے بھاتا ہے بات کچھ
عشق ہرچند مری جان سدا کھاتا ہے Read More »
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھابرابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہکہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میںکوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا اذیت مصیبت ملامت بلائیںترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا کیا مج کو
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا Read More »
ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیںپاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیں آ جائے ایسے جینے سے اپنا تو جی بتنگجیتا رہے گا کب تلک اے خضر مر کہیں پھرتی رہی تڑپتی ہی عالم میں جا بہ جادیکھا نہ میری آہ نے روئے اثر کہیں مدت تلک جہان میں ہنستے
ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں Read More »
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھاتو ہی آیا نظر جدھر دیکھا جان سے ہو گئے بدن خالیجس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا نالہ فریاد آہ اور زاریآپ سے ہو سکا سو کر دیکھا ان لبوں نے نہ کی مسیحائیہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا زور عاشق مزاج ہے کوئیدردؔ کو قصہ
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا Read More »