MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آدمی آدمی سے ملتا ہے

آدمی آدمی سے ملتا ہےدل مگر کم کسی سے ملتا ہے بھول جاتا ہوں میں ستم اس کےوہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے آج کیا بات ہے کہ پھولوں کارنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے سلسلہ فتنۂ قیامت کاتیری خوش قامتی سے ملتا ہے مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتاٹوٹ کر دل اسی

آدمی آدمی سے ملتا ہے Read More »

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہےسمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانا ہے یہ کس کا تصور ہے یہ کس کا فسانا ہےجو اشک ہے آنکھوں میں تسبیح کا دانا ہے دل سنگ ملامت کا ہر چند نشانا ہےدل پھر بھی مرا دل ہے دل ہی تو زمانا ہے ہم عشق کے ماروں

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے Read More »

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہےبات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے باریابی کا برا ہو کہ اب ان کے در پراگلے وقتوں کی مدارات نہیں ہوتی ہے غم تو گھنگھور گھٹاؤں کی طرح اٹھتے ہیںضبط کا دشت ہے برسات نہیں ہوتی ہے یہ مرا تجربہ ہے حسن کوئی چال چلےبازیٔ عشق کبھی مات

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے Read More »

جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں

جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوںوہیں ڈوبا ہوا پایا گیا ہوں بہ حال گمرہی پایا گیا ہوںحرم سے دیر میں لایا گیا ہوں بلا کافی نہ تھی اک زندگی کیدوبارہ یاد فرمایا گیا ہوں برنگ لالۂ ویرانہ بے کارکھلایا اور مرجھایا گیا ہوں اگرچہ ابر گوہر بار ہوں میںمگر آنکھوں سے برسایا گیا ہوں سپرد

جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں Read More »

کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے

کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہےاب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے آغاز مصیبت ہوتا ہے اپنے ہی دل کی شامت سےآنکھوں میں پھول کھلاتا ہے تلووں میں کانٹے بوتا ہے احباب کا شکوہ کیا کیجئے خود ظاہر و باطن ایک نہیںلب

کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے Read More »

بے تعلق زندگی اچھی نہیں

بے تعلق زندگی اچھی نہیںزندگی کیا موت بھی اچھی نہیں آج بھی پایا ہے ان کو بد مزاجصورت حالات ابھی اچھی نہیں حسرت دل دیکھ آنکھوں میں نہ بیٹھاس قدر بے پردگی اچھی نہیں میں نہ کہتا تھا دل خانۂ خرابدلبروں سے دل لگی اچھی نہیں سیر کیجے حسن کے بازار کیہاں مگر آوارگی اچھی

بے تعلق زندگی اچھی نہیں Read More »

نگاہ آرزو آموز کا چرچا نہ ہو جائے

نگاہ آرزو آموز کا چرچا نہ ہو جائےشرارت سادگی ہی میں کہیں رسوا نہ ہو جائے انہیں احساس تمکیں ہو کہیں ایسا نہ ہو جائےجو ہونا ہو ابھی اے جرأت رندانہ ہو جائے بظاہر سادگی سے مسکرا کر دیکھنے والوکوئی کم بخت ناواقف اگر دیوانہ ہو جائے بہت ہی خوب شے ہے اختیاری شان خودداریاگر

نگاہ آرزو آموز کا چرچا نہ ہو جائے Read More »

دل سے ترا خیال نہ جائے تو کیا کروں

دل سے ترا خیال نہ جائے تو کیا کروںمیں کیا کروں کوئی نہ بتائے تو کیا کروں امید دل نشیں سہی دنیا حسیں سہیتیرے بغیر کچھ بھی نہ بھائے تو کیا کروں دل کو خدا کی یاد تلے بھی دبا چکاکم بخت پھر بھی چین نہ پائے تو کیا کروں دن ہو کہ رات ایک

دل سے ترا خیال نہ جائے تو کیا کروں Read More »

دل ابھی تک جوان ہے پیارے

دل ابھی تک جوان ہے پیارےکس مصیبت میں جان ہے پیارے تو مرے حال کا خیال نہ کراس میں بھی ایک شان ہے پیارے تلخ کر دی ہے زندگی جس نےکتنی میٹھی زبان ہے پیارے وقت کم ہے نہ چھیڑ ہجر کی باتیہ بڑی داستان ہے پیارے جانے کیا کہہ دیا تھا روز ازلآج تک

دل ابھی تک جوان ہے پیارے Read More »

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا

کوئی چارہ نہیں دعا کے سواکوئی سنتا نہیں خدا کے سوا مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوامجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا برسر ساحل مراد یہاںکوئی ابھرا ہے ناخدا کے سوا کوئی بھی تو دکھاؤ منزل پرجس کو دیکھا ہو رہ نما کے سوا دل سبھی کچھ زبان پر لایااک فقط

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا Read More »