آدمی آدمی سے ملتا ہے
آدمی آدمی سے ملتا ہےدل مگر کم کسی سے ملتا ہے بھول جاتا ہوں میں ستم اس کےوہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے آج کیا بات ہے کہ پھولوں کارنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے سلسلہ فتنۂ قیامت کاتیری خوش قامتی سے ملتا ہے مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتاٹوٹ کر دل اسی
آدمی آدمی سے ملتا ہے Read More »